شمشال کے سادہ اور کم نما حسن اور دوستوں کی مسرت خیز باتوں سے میرے ذہن کے کسی کو نے میں ”اِک تارے“ کے سُرجاگے

شمشال کے سادہ اور کم نما حسن اور دوستوں کی مسرت خیز باتوں سے میرے ذہن کے کسی ...
شمشال کے سادہ اور کم نما حسن اور دوستوں کی مسرت خیز باتوں سے میرے ذہن کے کسی کو نے میں ”اِک تارے“ کے سُرجاگے

  

مصنف : عمران الحق چوہان 

قسط:115

 ”ویسے ان کی موج ہے سارا دن خرما نیاں ہی کھاتے رہتے ہوں گے مفت میں۔“ احمد علی نے خوبانی کھاتے ہو ئے اپنا خیال ظاہر کیا۔

”یہ موج صرف 4 دن آنے والوں کو لگتی ہے۔ سارا سال یہی کھانی پڑے تو پھر پتا چلے تمھیں۔“بلال نے جواب دیا۔

”ہر علاقے کا اپنا اپنا میوہ ہے۔ “ اعظم نے اپنی شوگر کی خودی بلند کرتے ہوئے کہا۔

اس کے بعد پھلوں کی افادیت اور پسند نا پسند پر ایک بے مقصد اور پر لطف گفتگو شروع ہوگئی۔ عثمان نے کہا  ”کہتے ہیں کیلا کبھی 1 نہیں کھا نا چاہیے، 2 کھانے چاہئیں ہمیشہ۔“

”یہ کسی حکیم کا نہیں کیلے بیچنے والے کا قول ہے۔“ میں نے جواب دیا۔”ہمارے ہاں مذہب سے لے کر طب تک میں سنی سنائی باتوں کو جو مقبولیت حا صل ہے وہ تحقیق اور دلیل کو حاصل نہیں ہو سکی ۔“

” سائنس دانوں کے بقول 2کیلے دن بھر کی غذائی ضروریات کے لیے کافی ہو تے ہیں۔ “ عثمان نے سائنسی معلو مات سے متا ثر کرنے کی کوشش کی۔

”جو سائنس دان یہ کہتا ہے اسے 60 کیلے دے کر ایک کمرے میں بند کر دیں اور مہینے بعد با ہر نکال کر دو بارہ پو چھیں کہ اب وہ کیا کہتا ہے۔“ بلال نے جواب دیا۔

”میرا خیال ہے جو کچھ وہ کہے گا، وہ کسی جگہ چھپنے کے لا ئق نہیں ہو گا۔“ ندیم کی بات پر قہقہہ گو نجا۔

”اچھا کسی نے کبھی چیکو کھا یا ہے؟“ ندیم نے سوال کیا تومیرے علاوہ سب نے انکار کر دیا۔ 

”وہ جو دیکھنے میں آلو جیسا ہوتا ہے؟“ چیمے نے سو چتے ہو ئے پو چھا۔ میں نے اور ندیم نے اس کی تائید کی۔ ” کیسا ہوتا ہے وہ ؟“ چیمے نے پو چھا۔

”چیکو کا ذائقہ جاننے کی بڑی آسان ترکیب ہے۔“ میں نے سب سے کہا۔ 

”وہ کیا؟“ کئی آوازیں اکٹھی آئیں۔

”ایک چمچ چینی میں ایک چمچ ریت ملا کر مونھ میں ڈال لیں۔ جو آپ محسوس کریں گے وہ با لکل چیکو کا ذائقہ ہو گا۔“ 

اس پر پھر ایک قہقہہ لگا۔ طے شدہ، سنجیدہ اور معنیٰ خیز مو ضوعات پر گفتگو یا مکا لمہ مفید اور اعلیٰ ہو سکتا ہے لیکن دوستوں کی بے معنیٰ اور بے مقصد گفتگو سے زیادہ پر لطف چیز دنیا میں اور کو ئی نہیں ہے۔ آراستگی و پیراستگی کی اہمیت سے کسے انکار ہو سکتا ہے لیکن بے سا ختگی و سادگی کا حسن سر چڑھ کر بولتا ہے۔میرے ارد گرد پھیلے شمشال کے سادہ اور کم نما حسن سے اور دوستوں کی ہلکی پھلکی، مسرت خیز باتوں سے میرے ذہن کے کسی کو نے میں ”اِک تارے“ کے سر جاگے۔ 

سا ئیں مرنا کا اِک تارا:

یہ اس جنم کی بات ہے جب میں پنجاب یونیورسٹی میں پڑھتا تھا۔تب میں نے سادگی کے حسن کو پہلی بار ریگل میوزک سینٹر پر دریا فت کیا تھا۔کامران قریشی کی ریگل چوک میں کیسٹوں کی دکان تھی اور مو سیقی کے شوقین وہاں اکثر پائے جاتے تھے اور یہ موسیقی کے شوقین بھی کچھ عجیب و غریب اور نارمل لو گوں سے ذرا الگ مخلوق ہوتے ہیں۔تخیل اور احساس کی لطیف دنیا میں رہنے والے۔ مو سیقی کے ان عاشقوں میں دو دوست خان صا حب اور بٹ صاحب بھی تھے۔ایک سیکریٹیرئیٹ میں ملازم تھا اور دوسرا بنک میں۔ دونوں پچاس پچپن کے تھے۔ بٹ صا حب سُمن کلیان پور کی آواز کے مداح نہیں بلکہ عاشق تھے۔خان صاحب کا کہنا تھا کہ اگر سُمن کہیں کھانسی بھی ہے تو بٹ صا حب کو ضرور پتا ہوگا۔ وہ شرارتا ً انہیں سمن کلیان پور کے ”گھر والا“ کہتے تھے۔ خود خان صا حب نایاب اور خوب صورت ہندوستانی گیتوں کا ”گُو گل“ تھے۔ ان کے پاس ریکار ڈوں کا عظیم ذخیرہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جس شخص کو ہندوستانی گیت بہت زیادہ سننے کا دعویٰ ہے وہ اسے 10 گانے سنوائیں گے جس گانے کی فلم کا نام وہ بتا دے وہ اس کی خدمت میں اپنا ایل پی ریکارڈ بطور نذرانہ پیش کر دیں گے، جو اُن کے نزدیک سخاوت اور ستائش کی آخری حد تھی۔ یہ یوٹیوب اور گوگل سے پہلے کے دن تھے۔میری ان سے دوستی کی وجہ ایک تو کامران قریشی سے تعلق اور موسیقی کا ٹھرک تھا،دوسرے ایک بار میں نے خان صا حب کے لیے لتا منگیشکر کے گا نوں کے تحریری ریکارڈ پر مشتمل کتاب کو ہندی (دیوناگری) سے اردو میں ترجمہ کیا تھا۔ اس لیے وہ عمر میں چھو ٹا ہونے کے با وجود مجھ سے دوستانہ تعلق رکھتے تھے۔ کامران قریشی کو بھی کاروبار سے زیادہ مو سیقی سے محبت تھی، میں وہاں جاتا تو گیت سنتے، موسیقی اور مو سیقا روں پر باتیں کرتے گھنٹوں گزر جاتے۔ ایک دن میں”ریگل سینٹر“ میں دا خل ہوا تو خلاف ِ معمول ایک مختلف سی دھن بج رہی تھی۔ بے حد سادہ لیکن بہت ہی اثر انگیز۔ سارا ما حول ایک تار کی لرزش سے بند ھا ہوا تھا۔ میں خا موشی سے بنا بات کیے کچھ دیر یہ دُھن سنتا رہا۔ کا مران اور ان کا معاون جہانگیر بھی میرے انہماک میں مخل نہیں ہوئے۔ (جاری ہے )

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -