جب سقراط نے بادشاہ سے کہا کہ آپ تو میرے غلام در غلام ہیں

جب سقراط نے بادشاہ سے کہا کہ آپ تو میرے غلام در غلام ہیں
جب سقراط نے بادشاہ سے کہا کہ آپ تو میرے غلام در غلام ہیں

  

مصنف : ملک اشفاق

 قسط :40

٭ تمہارے دل میں جو کچھ ہو اس کا اظہار ہر کسی سے نہ کرو۔ لوگ اپنے سامانوں کو گھر کے اندر چھپاتے تو ہیں مگر یہ کتنی بری بات ہے کہ اپنے دلوں میں جو کچھ ہوتا ہے اس کا اظہارکر بیٹھتے ہیں۔

٭ اگر ”لااعلم“ (مجھے نہیں معلوم) کے پیچھے یہ بتانا نہ ہوتا کہ میں جانتا ہوں تو میں ”لااعلم“ ہی کہتا۔

٭ ذخیرہ غم و آلام کا سرچشمہ ہے۔ لہٰذا غم و آلام کا ذخیرہ نہ کرو۔

٭ ذخیرہ کم کرو مصیبتیں کم ہوں گی۔

تصنیفات:

سقراط کی جانب حسب ذیل کتابیں منسوب کی جاتی ہیں۔ فلسفہ اور سنت کے درمیان موازنہ، بھائیوں کے نام ایک مکتوب، کتاب معاتبتہ النفس، مقالتہ فی السیاستہ، کہا جاتاہے کہ رسالہ ”السیرة الجمیلة“ کی نسبت اس کی جانب صحیح ہے۔

سقراط: (حکمائے عالم)

سقراط کا مشہور نام سقراط الجب ہے۔ جب مٹکے کو کہتے ہیں چونکہ یہ حکیم عمر بھر ایک مٹکے میں رہا۔ اس لیے سقراط الجب کے نام سے مشہور ہو گیا۔یہ حکیم اس فانی دنیا کی فانی آرائشوں اور ناپائیدار دلچسپیوں کی حقیقت سے پوری طرح آگاہ تھا اس لیے ان چیزوں سے دور رہنا تھا۔

سقراط ، فیثاغورث کا شاگرد۔ علوم الٰہیہ کا فاضل اجل دنیوی کشیوں سے متنفر، شرک اور خصوصاً بت پرستی کا دشمن اعظم تھا۔ اس نے بارہا یونانی پادریوں کے ساتھ بت پرستی پرمناظرہ کیا اور انہیں شکستیں دیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان لوگوں نے عوام و خواص کو سقراط کے خلاف بھڑکانا شروع کر دیا اور بادشاہ سے اس کے قتل کا مطالبہ کیا۔بادشاہ نے تنگ آ کر سقراط کو پادریوں کے حوالے کر دیا کہ جو چاہتے ہو وہ کرو۔ ان لوگوں نے پہلے اسے جیل میں رکھا اور پھر زہر پلا کر ہلاک کر ڈالا۔

اس حکیم کی وصیتوں، حکمتوں اور نصیحتوں سے ایک عالم آگاہ ہے۔ اس کے مذہبی عقائد فیثاغورث و بند قلیس سے ماخوذ ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس کے خیالات یوم آخرت کے متعلق خام و ناقابل قبول ہیں۔بعض مورخین نے بیان کیا ہے کہ سقراط شام کا رہنے والا ایک فلسفی زاہد تھا جس نے کوئی کتاب تصنیف نہیں کی اور جسے آخر میں قتل کر دیا گیا۔ وجہ قتل یہ تھی کہ فرماں روائے وقت اسے فواحش سے روکتا تھا او ریہ رکتا نہیں تھا۔

سقراط عمربھر ایک مٹکے میں رہا۔ صرف ایک کپڑے سے کام چلاتا تھا اور متاع دنیوی میں کوئی چیز اس کے پاس نہ تھی۔ ایک دن سقراط کے پاس سے بادشاہ کا گزر ہوا۔ سقراط کو قدرے بے توجہ پا کر کہنے لگا۔ تم جانتے نہیں کہ میں تمہارا آقا ہوں اور تم میرے غلام ہو۔ سقراط نے کہا آپ تو میرے غلام در غلام ہیں۔ بادشاہ یہ جواب سن کر سٹ پٹا سا گیا لیکن خاموش رہا۔ اس کے بعد پوچھا ”تم اس مٹکے میں کیوں رہتے ہو؟“ کہا ”اس لیے کہ میں ناپائیدار مکانوں اور محلوں سے متنفر ہوں۔“(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -