میں سُر تال کے ساتھ اس لئے کھیلتا تھا کہ میرا جنم ہی خاص طور پر اس کےلئے ہوا تھا

میں سُر تال کے ساتھ اس لئے کھیلتا تھا کہ میرا جنم ہی خاص طور پر اس کےلئے ہوا ...
میں سُر تال کے ساتھ اس لئے کھیلتا تھا کہ میرا جنم ہی خاص طور پر اس کےلئے ہوا تھا

  

مترجم:علی عباس

قسط: 2

میری ابتدائی یادوں کا محور میرے والد کی سٹیل مل میں ملازمت ہے۔ یہ محنت طلب اور ذہنی مشقت سے بھرپور کام تھا۔ وہ موسیقی میں فرار تلاش کیاکرتا۔ میری والدہ ایک ڈیپارٹمنٹل سٹور میں ملازمت کر رہی تھی، میرے باپ اور ماں کی موسیقی میں دلچسپی کے باعث ہم سارا دن گھر میں سُرتال کی بازگشت سُنا کرتے۔ میرے باپ نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر موسیقی کا ایک راک اینڈ رول بینڈ’ فالکنز‘ تشکیل دیا، میرا باپ اور اُس کا بھائی گٹار بجایا کرتے۔ انہوں نے چچ بیری، لٹل رچرڈ اور اوٹِس ریڈنگ کے راک اینڈ رول اور بلیوز گیت گائے۔ موسیقی کے یہ تمام انداز حیرت انگیز تھے اور ان سے جو جیکسن اور ہم بہرطور متاثر ہوئے۔ اگرچہ اُس وقت ہم کم عمر اور موسیقی کے رموز سے ناواقف تھے۔۔۔ ’فالکنز‘ کی ریہرسل گیری میں واقع ہمارے گھر کی خوابگاہ میں ہوا کرتی، چنانچہ میری پرورش راک اینڈ رول موسیقی کے زیرِ اثر ہوئی۔ ہم خاندان کے 9بچے تھے اور میرے والد کے خود 8بھائی تھے۔ یوں ہم ایک بڑے خاندان کی شکل اختیار کر جاتے۔ موسیقی ہمارا اہم ترین ذریعہ تفریح تھا اور یہ ہمیں یکجا رکھتا، موسیقی نے میرے والد کو خاندان بھر میں متحرک رکھا۔’ جیکسن فائیو‘ کی تشکیل اسی روایت کا نتیجہ تھی۔۔۔ بعد ازاں ہم ’جیکسنز‘ بن گئے۔۔۔ اس تربیت اور موسیقی کی روایت کے باعث میں اپنے طور پر کچھ کرنے کے قابل ہوا اوراپنی ایک خاص طرز موسیقی ترتیب دینے میں کامیاب رہا۔

مجھے یاد پڑتا ہے کہ میرا بچپن بہت مصروف گزرا، حتیٰ کہ میری گلوکاری میں دلچسپی تھی لیکن جوڈی گارلینڈ کے برعکس شوبزنس کی دنیا سے وابستہ میرے والدین نے مجھے مجبور نہیں کیا کہ میں گلوکاری کروں۔ درحقیقت میں موسیقی سے لُطف اندوز ہوتا تھا اور یہ میرے لئے سانس لینے کی طرح فطری عمل تھا۔ میں سُر تال کے ساتھ اس لئے کھیلتا تھا کہ میرا جنم ہی خاص طور پر اس کے لئے ہوا تھا۔میں نے موسیقی کا انتخاب اپنے والدین یا خاندانی پسِ منظر کی وجہ سے نہیں کیا،دراصل اس کی وجہ یہ تھی کہ میرے اندرونی جذبات اور کیفیات کا موسیقی سے گہرا تعلق قائم ہو چکا تھا۔

میں یہاں یہ واضح کردوں کہ ایک وہ وقت تھا جب میں سکول سے گھر واپس آتا تو مجھے محض کتابیں رکھنے کی فرصت نصیب ہوتی اور میں سٹوڈیو جانے کے لئے تیاری کرنے لگتا۔ ایک بار میں رات دیر گئے تک ریاض کرتا رہا، حتیٰ کہ میرے سونے کا وقت ہو گیا۔ موٹون سٹوڈیو کے سامنے گلی کے دوسری جانب ایک باغ تھا اور مجھے یاد ہے کہ میں کھیل کود میں مصروف اُن بچوں کو دیکھنے لگا تھا۔ میں حیرت اور محویت کے عالم میں اُن کی جانب متوجہ تھا۔ میں ایسی آزادی کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا، پابندیوں سے آزاد زندگی۔۔۔ اُس وقت میرے مَن میں کسی دوسری چیز سے زیادہ یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میں ایسی آزادی حاصل کر سکوں، میں دور چلا جاﺅں اور ان کی طرح مستی کر سکوں۔ چنانچہ میرے بچپن میں اُداسی ہے اور اس تجربے سے دوچار ہونا کسی چائلڈ سٹار کے لئے غیر معمولی نہیں ہے۔ الزبتھ ٹیلر نے ایک بار مجھے بتایا تھا کہ وہ بھی ایسا محسوس کرتی رہی ہے۔ جب آپ بچپن میں ہی پیشہ ورانہ زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں تو دنیا آپ کو بدترین دشمن محسوس ہوتی ہے۔ مجھے مجبور نہیں کیا گیا تھا کہ میں مرکزی گلوکار بنوں۔ میں نے یہ ذمہ داری اپنی مرضی سے قبول کی اور میں اس سے محبت کرتا ہوں۔۔۔ لیکن یہ محنت طلب کام تھا۔مثال کے طور پر اگر ہم کسی البم پر کام کر رہے ہوتے تو سکول سے سیدھا سٹوڈیو چلے جاتے اور میں اس دوران کچھ بھی نہیں کھا پاتا تھا۔ اکثر اوقات بالکل بھی فرصت نہیں ملتی تھی۔ میں تھکا ماندہ گھر واپس آتا اور اُس وقت 11یا 12 کا سَن ہوتا اور سونے کے لئے بستر پر دراز ہونا ہی مناسب لگتا۔(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -