تمباکو، چھالیہ اور پان پر ٹیکس میں اضافہ، شعبہ زراعت کو چھوٹ دینی چاہیے: خورشید شاہ 

تمباکو، چھالیہ اور پان پر ٹیکس میں اضافہ، شعبہ زراعت کو چھوٹ دینی چاہیے: ...

  

     اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر آبی وسائل سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ تمباکو، چھالیہ اور پان پر ٹیکس میں اضافہ کرکے زراعت کے شعبے کو ٹیکس میں چھوٹ دینی چاہئے تاکہ ہم زرعی پیداوار میں خود کفیل ہو کر قیمتی زر مبادلہ بچا سکیں۔ وہ زراعت اور فوڈ سکیورٹی کی ٹاسک فور س کے شرکا سے وڈیو لنک پر بات چیت کررہے تھے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے اپنے ہر دور حکومت میں ملک کو زرعی شعبہ میں خود کفیل بنایا اور اجناس کی درآمد کو برآمد میں بدل دیا۔ مگر آمریت اور آمریت زدہ ہر حکومت نے اس شعبے کو تباہ کیا جس کی وجہ سے آج ہم اس شعبے میں بھی خود کفالت سے دور ہیں۔ پاکستان کا شمار دنیا میں سگریٹ پر کم تر ٹیکس لینے والے ممالک میں ہوتا ہے جس سے نہ صرف ریونیو میں کمی ہو رہی ہے بلکہ لوگوں کی صحت اور زندگیوں کو بھی داؤ پر لگایا جا رہا ہے۔سگریٹ نوشی سے ہم کینسر اور دل کے امراض میں اضافہ کرتے ہیں اور پھر زرمبادلہ خرچ کر کے قیمتی ادویات امپورٹ کرتے ہیں۔ ہمیں اس چکر سے باہر نکلنا ہوگا تاکہ ہم پیسے اور صحت کے نقصان سے بچ سکیں۔ وفاقی وزیر نے کہا انسانی زندگی،صحت اور ترقی کا دارومدار زراعت سے وابستہ ہے اور ہمیں اس معاملے میں کسی بھی صورت میں غفلت اور کوتاہی سے کام نہیں لینا چاہیے۔ جس رفتار سے ہماری آبادی بڑھ رہی ہے ہمیں اپنی فوڈ باسکٹ کو تیس کروڑ افراد کیلئے تیار کرنا ہے۔ انہوں نے ٹاسک فورس کے شرکا کیساتھ زراعت کیلئے پالیسی فریم ورک، خود کفالت، فوڈ سکیورٹی اور دیگر متعلقہ ایشوز پربھی بات چیت کی۔

خورشید شاہ

مزید :

پشاورصفحہ آخر -