لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب کا دوبارہ الیکشن، کس پارٹی کے پاس کتنے ووٹ ہیں؟ ممکنہ اعدادوشمار سامنے آگئے

لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب کا دوبارہ الیکشن، کس پارٹی کے ...
لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب کا دوبارہ الیکشن، کس پارٹی کے پاس کتنے ووٹ ہیں؟ ممکنہ اعدادوشمار سامنے آگئے

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستا ن آن لائن )لاہور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کی وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے خلاف درخواستوں کو منظور کرتے ہوئے فیصلہ جاری کر دیاہے جس میں حکم دیا گیاہے کہ پریذائیڈنگ افسر 25 ووٹوں کو نکال کر ووٹوں کی گنتی کریں اور مطلوبہ تعداد پوری نہ ہونے پر دوبارہ الیکشن کروایا جائے ، اب فریقین کے پاس  موجود ممکنہ ووٹوں کی تعداد سامنے آگئی ۔

تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی رئیس انصاری نے کہا ہے ہمارا پنجاب اسمبلی کا قانون یہ بتاتا ہے کہ اگر الیکشن ہو جائیں تو 371 اراکین میں سے 186 کی اکثریت ہونا لازمی ہے اور اگر کوئی امیدوار 186 کی اکثریت لینے میں کامیاب نہیں ہوتا تو دوبارہ ووٹنگ ہو گی جس میں جو امیدوار زیادہ ووٹ لے گا وہ وزیراعلیٰ منتخب ہو جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ ن لیگ کے پاس 176 ووٹ ہیں جبکہ25 اراکین کے نا اہل ہونے کے بعد تحریک انصاف کے پاس ق لیگ کی نشستیں ملا کر 168 ووٹ بنتے ہیں تاہم اگر ان کی پانچ مخصوص نشستیں بھی ملائی جائیں تو یہ نمبر 173 ہو جاتا ہے۔

دوسری جانب حکومتی رکن رانا مشہود نے ایوان اقبال کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے سے ابہام دور ہو گئے، کل 4 بجے دوبارہ ووٹنگ ہو گی، ان 25 ارکان کے ووٹ کو نکال کر اسمبلی میں ابھی بھی اکثریت ہماری زیادہ ہے، کوئی بھی ممبر اپنی جماعت کے علاوہ ووٹ نہیں دے سکتا ہماری اپنی پی پی پی اور آزاد ملا کرو 171 بنتا ہے اور تحریک انصاف کا 168 بنتا ہے اگر کسی نے ووٹنگ کو روکنے کی کوشش کی تو یہ توہین عدالت ہو گی جس پر عدالت سزا دے گی، کل الیکشن میں حمزہ شہباز دوبارہ جیتں گے تحریک انصاف قوم کا اور اپنا وقت ضائع کر رہی ہے بجٹ پاس ہو چکا ہے بجٹ پنجاب کی عوام کی امانت ہے حمزہ شہباز وزیر اعلی ہیں اور رہیں گے۔

مزید :

قومی -