سپریم کورٹ کے غیر قانونی قرار دینے کے بعد امریکہ میں گھر پر اسقاطِ حمل کے طریقے ڈھونڈنے کی سرچز میں 162 فیصد اضافہ

سپریم کورٹ کے غیر قانونی قرار دینے کے بعد امریکہ میں گھر پر اسقاطِ حمل کے ...
سپریم کورٹ کے غیر قانونی قرار دینے کے بعد امریکہ میں گھر پر اسقاطِ حمل کے طریقے ڈھونڈنے کی سرچز میں 162 فیصد اضافہ
سورس: PxHere (creative commons license)

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ میں اسقاط حمل پر پابندی کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ گزشتہ ماہ لیک ہو کر منظرعام پر آ گیا تھا۔میل آن لائن نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ مئی کے آغاز میں امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے مندرجات لیک ہو کر سامنے آنے کے فوری بعد امریکہ میں اسقاط حمل کی ادویات اور گھر میں اسے انجام دینے کے طریقہ کار کے متعلق انٹرنیٹ پر سرچز میں 162فیصد سے زائد اضافہ ہو گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ کی طرف سے اپنے اس تاریخی فیصلے میں شہریوں کے اسقاط حمل کے حق کو ختم کر دیا گیا ہے۔ یہ حق 50سال قبل شہریوں کو دیا گیا تھا، جس میں اسقاط حمل کو قانونی قرار دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعدامریکی خواتین اسقاط حمل نہیں کروا سکیں گی۔ 

سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف دارالحکومت واشنگٹن سمیت کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ امریکی صدر جوبائیڈن کی طرف سے بھی اس عدالتی فیصلے کو انتہاءپسندانہ نظریات پر مبنی افسوسناک غلطی قرار دے دیا ہے۔کئی عالمی رہنماﺅں کی طرف سے بھی اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے تاہم سابق امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کی طرف سے اس فیصلے کو سراہا گیاہے۔ 

مزید :

بین الاقوامی -