کوہ پیماؤں کو بچانے والی ٹیم سے ایک اور موت کی اطلاع آئی تھی، ہم سب چند لمحے چپ بیٹھے رہے

کوہ پیماؤں کو بچانے والی ٹیم سے ایک اور موت کی اطلاع آئی تھی، ہم سب چند لمحے ...
کوہ پیماؤں کو بچانے والی ٹیم سے ایک اور موت کی اطلاع آئی تھی، ہم سب چند لمحے چپ بیٹھے رہے

  

مصنف : عمران الحق چوہان 

قسط:116

 جب دُھن ختم ہوئی تو مجھے اپنے دل و دماغ میں ایک نا قابل ِ بیان تازگی اور سکون اور اداسی کا ملا جلا احساس ہوا۔ کامران قریشی نے بتایا کہ یہ سائیں مرنا کا اِک تارا بج رہا تھا۔ میرے روم میٹ احمد شکور نے ایک بار مجھے بیتھووِن کی سِمفنی سنوائی تھی جس نے مجھے بہت متا ثر کیا تھا لیکن یو رپئین مو سیقی کی سمجھ نہ ہو نے کے باعث میں اس سے پوری طرح لطف اندوز نہیں ہو سکا تھا، اسے محسوس نہیں کر سکا تھا۔ بہت سے ساز، ان کا اتار چڑھاؤ اور فضاءعمدہ تو تھے لیکن میرے لیے اجنبی تھے۔ کسی اور دنیا کی چیز لیکن اک تارے( جسے ہمارے ہاں تُونبا کہا جاتا ہے )کی یہ سادہ سی دھن جو محض ایک تار، ایک انگلی اور ایک دل کے ملاپ سے نکلی تھی، بہت سی ناقابل ِ بیان کیفیات کا اظہار کرتی سیدھی دل میں اترتی تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے تار میں سائیں مرنے کی روح بو لتی ہے، گاتی ہے، کراہتی ہے۔اس میں ازلوں کے ہجر و وصال کے بھید پو شیدہ تھے۔ وہ بھید جسے لفظ بیان نہیں کر سکتے صرف تُونبے کی دُھن بیان کر سکتی ہے کیوں کہ کہتے ہیں ’تونبا وَج داای نا، پیار بنائ(پیار کے بغیر تونبا نہیں بجتا)،وہ بھید جو رانجھے کی مرلی کھولتی تھی :

ونجھلی دی تان وچ روح میری بولدی

عمراں دے کَجے ہوئے بھیت پئی کھول دی

 ( بانسری کی لے میں میری روح بولتی ہے جو زندگی بھر کے چھپائے ہوئے بھید کھول رہی ہے) ۔اس دن میں نے جا نا کہ سادگی کا حسن کتنا سچا اور امر ہوتا ہے۔ 

اور آج صبح جب دھوپ وادیٔ شمشال میں دریا کے مٹیالے سا حل پر اپنا گورا بدن کھول رہی تھی میرے دل میں کہیں سائیں مرنا کا اک تارا بجتا تھااور سارا شمشال اُس اک تارے کی دُھن سے تخلیق ہوا لگتا تھا۔

مار خور کا گوشت اور مرد ِ کہن کا چارہ:

فہد ناشتے کا پو چھنے آیا تو اس کے پاس ایک اور بری خبر تھی۔ کوہ پیماؤں کو بچانے والی ٹیم میں شامل اس کے ایک اور کزن کی موت کی اطلاع آئی تھی۔ ہم سب چند لمحے چپ بیٹھے رہے۔ 

چائے کے ساتھ پرا ٹھو ں کا نا شتا کر کے سب پھر دھوپ میں آ بیٹھے ۔ فہد نے آکر بتا یا کہ یحییٰ نے دو چار روز قبل ایک مار خور شکار کیا تھا۔ اس کا سر سجاوٹ کے لیے بچا لیا گیا ہے۔ اگر ہم دیکھنا چاہیں تو وہ دکھا سکتا ہے۔ یہ نہایت سنسنی خیز بات تھی کیوں کہ ہم نے آج تک مارخور کو صرف تصویروں ہی میں دیکھا تھا۔اور ایک ایسے مار خور کا اصل سر دیکھنا جو کچھ دن پہلے تک زندہ تھابڑی ہی سنسنی خیز بات تھی ۔۔۔ فہد ہماری خواہش پر گھر سے ایک بڑے اور بھورے رنگ کے مار خور کی سری اٹھا لایا۔ یہ عام بکرے کے سر سے بہت بڑی تھی۔اس کے 2لمبے سینگ تھے، تقریباً تین ساڑھے تین فٹ لمبے، جو سِروں سے مڑے ہوئے تھے اور ان پر چھلے سے بنے ہوئے تھے۔ مونھ کے آس پاس مو نچھوں جیسے بال تھے۔ مرنے سے کچھ لمحے پہلے تک یہ یقینا ً ایک شاندار جوان مار خور رہا ہوگا۔ اس کے بے جان چہرے پر شیر جیسا دبدبہ تھا۔ مردہ ہونے کے باوجود اس میں ایک شان تھی۔ چوں کہ اسے شکار ہوئے دو تین دن گزر چکے تھے اس لیے قریب آنے پر وہ،اکثر شاندار لو گوں کی طرح، بہت بد بو دار نکلا۔ سانس لینا مشکل ہو گیا۔ 

”اس کے گوشت کا پو چھیں؟“ احمد علی نے خیال ظاہر کیا۔ ”بڑا طاقتور ہو گا۔“

 لیکن باقی لوگوں نے یہ خیال رد کر دیا۔ جہاں تک میرا سوال ہے میں تو چھوٹے بڑے گوشت کے علاوہ صرف مچھلی مرغ کاگوشت ہی کھا سکتا ہوں اور اس معاملے میں تجربات کا قائل نہیں چناں چہ میں نے بھی اس خیال کی حمایت نہیں کی ۔ عجیب بات ہے مسلمانوں کے معاشرے میں جنسی معا ملات میں جتنی سختی کا اظہار کیا جاتا ہے، اس کے برعکس ان میں دلچسپی اتنی ہی زیادہ ہے بلکہ ایک طرح کا جنون، آبسیشن اور نفسیاتی مسئلہ ہے۔ ادویات اور خوراک کے انتخاب سے لے کر شاعری اور آرٹ تک پھیلی جنسی گھٹن ماحول، نظریات اور تاریخ کے راستے ہمارے جینز میں اتر گئی ہے۔ گزشتہ کئی سو سال سے مسلمانوں نے دنیا کو آبادی کے علاوہ کچھ نہیں دیا ۔

”خصّی بکروں کا گوشت کھانے والو! جنگلی مار خور کا گوشت تم سے کہاں کھایا جائے گا!“ چیمے نے جوش دلا یا۔

”ٹھنڈی (مردہ) مر غیوں اور گدھوں کا گوشت بھی تو کھا ہی لیتے ہیں۔“ ندیم نے توجہ دلائی۔

”بتائے بغیر کوئی کھلا دے تو ہم گدھے کیا کتے تک کھا لیتے ہیں لیکن جانتے بوجھتے مار خور کھا نا کافی مشکل کام ہے۔۔۔“ بلال بولا۔

” چینیوں سے دوستی آسان کام نہیں۔“ اعظم نے ہنس کر کہا۔” اب ہمیں کھانے کی عادتیں بھی چینیوں والی بنانی پڑیں گی۔“ 

ایک قہقہہ گونجا۔ 

”پھر بھی چیک تو کریں۔“ احمد علی کی سوئی وہیں اٹکی ہوئی تھی۔(جاری ہے )

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -