70 پادریوں نے سقراط کےخلاف شہادت دی اور بادشاہ نے موت کی سزا تجویز کر دی

70 پادریوں نے سقراط کےخلاف شہادت دی اور بادشاہ نے موت کی سزا تجویز کر دی
70 پادریوں نے سقراط کےخلاف شہادت دی اور بادشاہ نے موت کی سزا تجویز کر دی

  

مصنف : ملک اشفاق

 قسط :41

بادشاہ نے کہا ”اگر یہ مٹکا ٹوٹ گیا تو پھر؟ “ کہا ”پھر خالی زمین پر“ اس کے بعد بادشاہ محل کی طرف روانہ ہو گیا۔ چند روز کے بعد اپنے درباریوں سے (جن میں سے اکثر مجوسی تھے) سقراط کے متعلق رائے طلب کی۔ سب نے قتل کا مشورہ دیا، سقراط کو یہ سب کچھ معلوم ہو گیا لیکن اپنے مٹکے کو نہ چھوڑا اور کہا موت زندگی سے اچھی ہے انسان موت کی دنیا میں جا کر ہر لحاظ سے مکمل ہو جاتاہے۔ اس کے بعد اس پر مقدمہ چلایا گیا۔ 70 پادریوں نے اس کےخلاف شہادت دی اور بادشاہ نے موت کی سزا تجویز کی۔ اس پر سقراط کی اہلیہ رونے پیٹنے لگی۔ سقراط نے وجہ پوچھی تو کہنے لگی ”تمہیں بے گناہ قتل کیا جا رہا ہے۔“ سقراط بول اٹھا ”کیا تم یہ چاہتی ہو کہ میں پہلے کوئی زبردست گناہ کرتا اور پھر قتل ہوتا۔“ ایک دفعہ شاگردوں نے کہا ”آقائے محترم! آپ اپنا علم کتابی صورت میں کیوں منضبط نہیں کرتے“ فرمایا ”میں اپنا علم بکریوں کی کھال میں نہیں بھرنا چاہتا(اس زمانے میں اچھی کتابوں پربکریوں کی کھال چڑھائی جاتی تھیں تاکہ محفوظ رہیں) ایک دفعہ کسی نے پوچھا ”خلق علم کی محرک کون سی چیز تھی؟“ کہا ”اللہ کا جود و کرم۔

سقراط افلاطون کا ہم عصر اور شعراءکا سخت مخالف تھا جب اس نے ہر جگہ شعراءاور ان کی شاعری کے خلاف وعظ کرنا شروع کیا تو رﺅسا اکابر کو یہ چیز ناگوار گزری چنانچہ 11بڑے بڑے پادری مل کر بادشاہ کے پاس گئے۔ اسے سخت بھڑکایا اور سزائے موت کا مشورہ دیا لیکن بادشاہ کہنے لگا۔ سقراط ایک مشہور حکیم ہے جس کے پیروﺅں اور ارادت مندوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اس لیے یوں کھلم کھلا اسے قتل کرنا مناسب نہیں ورنہ بے چینی پھیلنے کے علاوہ لوگ کہیں گے کہ بادشاہ جاہل ہے۔اس لیے اتنے بڑے عالم کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ پادری کہنے لگے ہم اسے چپکے سے زہر پلا دیں گے اور کسی کو خبر تک نہ ہو گی۔ بادشاہ نے سقراط کو جیل خانے میں ڈلوا دیا جہاں وہ کئی مہینے رہا۔

ایک دن سقراط کا ایک ارادت مند خقراطیس نے ایک اور ارادت مند فاذن سے پوچھا کہ سقراط کی موت کا فیصلہ تو کب سے ہو چکا ہے اب یہ دیر کیوں ہو رہی ہے۔فاذن نے کہا کہ ہر سال شہر ایتھنز سے ایک گھوڑا جس کے پچھلے حصے پر کچھ تصاویر وغیرہ بھی بنائی جاتی ہیں۔ معبدایرعون تک لایا جاتاہے اور جب تک یہ گھوڑا واپس نہیں پہنچ جائے گا۔ سقراط کی سزا نافذ نہیں ہو گی۔ اس دفعہ یہ گھوڑا کشتی میں بیمار ہو گیا ہے اور ابھی تک معبد میں پہنچا ہی نہیں اور جب ایک ایتھنز میں واپس نہیں پہنچ جائے گا۔ سزانافذ نہیں ہو گی۔

فاذن کہتا ہے کہ ہم سقراط سے عموماً اندھیرے میں ملا کرتے تھے جب اس گھوڑے کو واپس آنے میں ایک دو دن رہ گئے تو میں سقراط کے پاس گیا وہاں اقریطون پہلے ہی سے موجود تھا۔ اقریطون نے کہا کہ ہم نے محافظان زنداں کو روپے کا لالچ دے کر اس امر پر راضی کر لیا ہے کہ اگر آپ یہاں سے نکلنا چاہیں تو وہ مانع نہیں ہوں گے۔

سقراط: یہاں سے نکل کر کہاں جاﺅں ان لوگوں کو رشوت کہاں سے دوں میری تمام جائیداد تو 400درہم مالیت کی بھی نہیں۔

اقریطون : ہماری جانیں اور دولت آپ کی خدمت کےلئے حاضر ہیں آپ رشوت وغیرہ کی فکر نہ کریں صرف یہاں سے نکلنے کی تیاری فرمایئے۔

سقراط : جاﺅں کہاں؟

اقریطون: رومیہ میں۔

سقراط : اقریطون! تم غلطی پر ہو، رومیہ والے بیگانے ہیں اور ایتھنز (Ethens) کے لوگ اپنے ہیں اگر اپنوں نے مجھے قتل کا مستحق قرار دیا ہے تو بیگانوں سے حسن سلوک کی امید کیسے کر سکتا ہوں۔ مزیدبرآں میرے قتل کی وجہ سچائی کی حمایت اور ظلم و عدوان کے خلاف مسلسل جہاد ہے میں یہ فرض تادم واپسیں ادا کرتارہوں گا اگر اس فرض کی ادائیگی یہاں موت ہے تو وہاں بھی موت ہو گی یہاں چند نفوس کو مجھ سے ہمدردی ہے اور وہاں شاید ایک آنسو تک بہانے والا نہ ہو۔

اقریطون: خدا کےلئے آپ اپنے بچوں پررحم فرمائیں۔

سقراط : رومیہ میں بھی بچوں کا یہی حال ہو گا یہاں تو شاید آپ جیسے چند مخلص احباب ان پررحم کھا لیں لیکن وہاں رومیہ میں انہیں کون پوچھے گا۔

”فرض کرو کہ ناموس (عزت) انسانی شکل میں متمثل ہو کر مجھ سے پوچھتا ہے کہ اے سقراط کیا میں نے تیرے آباواجداد کا ساتھ نہیں دیا تھا اور کیا تیری تمام زندگی میری راہنمائی میں بسر نہیں ہوئی؟ تو میرا جواب کیا ہو گا؟ ہاں یانہیں؟“(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -