عمر کا ڈھلنا کسی امتحان سے کم نہیں ، میں حقیقتاً خود کو عمر رسیدہ روح خیال کرتا ہوں، ایک ایسا شخص جس نے بہت سارے تجربات کئے اور بہت کچھ دیکھا

 عمر کا ڈھلنا کسی امتحان سے کم نہیں ، میں حقیقتاً خود کو عمر رسیدہ روح خیال ...
 عمر کا ڈھلنا کسی امتحان سے کم نہیں ، میں حقیقتاً خود کو عمر رسیدہ روح خیال کرتا ہوں، ایک ایسا شخص جس نے بہت سارے تجربات کئے اور بہت کچھ دیکھا

  

مترجم:علی عباس

قسط: 3

میں کم سِنی میں پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کرنے والے بچوں کی مشکلات کا ادراک کر سکتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ وہ کس قدر جدوجہد کرتے ہیں۔ میں آگاہ ہوں کہ وہ کیا قربان کر رہے ہوتے ہیں، مجھے معلوم ہے کہ وہ ان تجربات سے کیا کچھ سیکھتے ہیں۔ میں نے یہ سب کچھ زندگی کے تجربات سے اخذ کیا ہے کہ عمر کا ڈھلنا کسی امتحان سے کم نہیں ہے۔ میں کچھ خاص وجوہات کی بناءپر خود کو بوڑھا محسوس کرتا ہوں۔ میںحقیقتاً خود کو ایک عمر رسیدہ روح خیال کرتا ہوں، ایک ایسا شخص جس نے بہت سارے تجربات کئے ہیں اور بہت کچھ دیکھا ہے۔ میں نے ان تمام برسوں کے دوران بے پناہ کام کیا ہے،۔میرے لئے یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ میں محض 29برس کا ہوں۔ میں گزشتہ 24 برس سے گلوکاری کر رہا ہوں۔ اکثر اوقات مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ میں آخری سانسیں لے رہا ہوں، 80 برس کا ہوگیا ہوں۔ لوگ عزت افزائی کے لئے میری پیٹھ تھپتھپاتے ہیں جس نے میری امنگوں کو جواں رکھا ہوا ہے۔

میں نے جب پہلی بار اپنے بھائیوں کے ساتھ فن کا مظاہرہ کیا، اُس وقت ہم ’جیکسنز‘ کے نام سے معروف تھے۔ بعد ازاں ہم نے بینڈ کا نام تبدیل کر کے’ ’جیکسن فائیو“ رکھ لیا۔ موٹون چھوڑنے کے بعد ہم نے ایک بار پھر ”جیکسنز‘ ‘کا نام اختیار کیا۔

ہم نے جب سے انفرادی طور پر پیشہ ورانہ زندگیوں کا آغاز کیا ہے اور اپنی الگ موسیقی ترتیب دینے لگے ہیں، میری اور گروپ کے ہر البم کو ہم نے اپنی ماں کیتھرین جیکسن کے نام منسوب کیا ہے۔ یادوں کی برات مجھے اُن دنوں کی سیر کراتی ہے جب میری والد مجھے گود میں اُٹھائے ”تم میرے لئے سورج کی کرن ہو“ یا ”کپاس کے کھیت“ کی طرح کے گیت گنگنایا کرتی تھی۔۔۔ وہ اکثر اوقات میرے اور دوسرے بہن بھائیوں کو بہلانے کےلئے کچھ نہ کچھ گنگناتی رہتی۔ اگرچہ اُسے انڈیانا میں رہتے ہوئے کچھ عرصہ بیت چکا تھا تاہم اُس کی پرورش الاباما میں ہوئی تھی اور ملک کے اُس حصے میں سیاہ فام آبادی کےلئے ریڈیو پر مغربی اور لوک موسیقی سُننا گرجا گھر میں مذہبی گیت سننے کے مترادف تھا۔ وہ تاحال ولی نیلسن کو پسند کرتی ہے۔ماں کی آواز ہمیشہ مدھر اور مسحور کُن تاثر تخلیق کرنے کا سبب بنی اور میرا خیال ہے کہ میں نے گلوکاری کا فن اپنی ماں سے حاصل کیا ہے اور ظاہر ہے کہ خدا نے بھی ودیعت کیا ہے۔

ماں پیانو اور اکتارہ بجایا کرتی تھی، اُس نے یہ فن میری سب سے بڑی بہن مورین کو منتقل کیا جسے ہم ریبی کے نام سے مخاطب کیا کرتے تھے۔ اُس نے میری ایک دوسری بڑی بہن لاتویا کو بھی اس فن سے شناسائی دلائی۔ میری ماں بہت کم عمری سے اس تلخ حقیقت سے آگاہ تھی کہ وہ لوگوں کے سامنے موسیقی بجانے کی شدید ترین خواہش کے باوجود ایسا نہیں کر سکتی۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ باصلاحیت نہیں تھی یا ایسا کرنے کی جُرات نہیں رکھتی تھی بلکہ بچپن میںوہ پولیو کا شکار ہوگئی تھی۔ وہ بیماری پر قابو پانے میں کامیاب رہی لیکن وہ لڑکھڑا کر چلتی تھی۔ وہ بچپن میں سکول نہیں جا سکی، یوں وہ ایک اہم سرگرمی کا حصہ بننے سے قاصر رہی لیکن اُس نے ہمیں بتایا تھا کہ وہ اُس وقت بیماری پر قابو پانے میں کامیاب رہی تھی جب اسے جان لیوا تصور کیا جاتا تھا۔ میں یاد کر سکتا ہوں کہ اُس کے لئے وہ لمحہ کتنا اہم ہوگا جب ہماری ویکسینیشن ہوئی تھی۔ حتیٰ کہ اُس نے ہمیں ہفتے کی شام کو یوتھ کلب میں ہونے والی تقریب میں شرکت سے روک دیا تھا۔۔۔ یوں ہمارے خاندان میں اس دن کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -