1886ءمیں بالائی برما انگریز قلمرو میں چلاگیا ،تھیبا شاہ کا نظام حکومت بہت خراب تھا

 1886ءمیں بالائی برما انگریز قلمرو میں چلاگیا ،تھیبا شاہ کا نظام حکومت بہت ...
 1886ءمیں بالائی برما انگریز قلمرو میں چلاگیا ،تھیبا شاہ کا نظام حکومت بہت خراب تھا

  

مصنف : ای مارسڈن 

آٹھویں وائسرائے لارڈ ڈفرن کے ہند میں وارد ہونے کے تھوڑے ہی عرصے بعد تھیبا شاہ برما نے جس کا انتظام بہت خراب تھا۔ انگریزوں سے لڑائی شروع کر دی اس کے مقابلے میں ایک مختصر سی انگریز فوج روانہ کی گئی اور یہ بھاگ گیا۔ 1886ءمیں بالائی برما انگریز قلمرو میں شامل کیا گیا اور تھیبا کی پنشن مقرر کر کے اس کو ہند میں بھیج دیا گیا۔ برما کے بہت سے ڈاکوﺅں کی سرکوبی کی گئی اور بالائی برما کا انتظام ایسا ہی اچھا ہو گیا جیسا زیریں برما یا ہند کے اور حصوں کا تھا۔

 وائسرائے کی اہلیہ لیڈی ڈفرن صاحبہ کی کوشش سے ولایت سے ڈاکٹر میمیں بلائی گئیں تاکہ وہ ہند کی مستورات کا علاج کریں۔ اس کام کے لیے ہند اور انگلینڈ سے بہت سا چندہ جمع ہوا اور وہ ایک مستقل مد میں رکھا گیا جس کو ”لیڈی ڈفرن فنڈ“ کہتے ہیں۔

 ان کے بعد لارڈ لینڈاﺅن 1888ءسے 1894ءتک اور پھر دوسرے وائسرائے لارڈ الگن کا بیٹا لارڈ الگن ثانی 1899ءتک فرمانروا رہا۔ ان دونوں کے عہد میں ہند کی شمال مغربی سرحد کی کوہستانی قوموں سے کئی چھوٹی چھوٹی لڑائیاں ہوئیں۔ ان کا دستور تھا کہ اپنے پہاڑی وطن سے نکل کر میدانوں کے باشندوں پر آ پڑتی تھیں اور لوٹ کھسوٹ کر چلی جاتی تھیں اور اب بھی ایسا ہی کرنا چاہتی ہیں لیکن اب سرکار کی طرف سے فوج متعین ہے اور وہ ان کو نہیں آنے دیتی۔

 بعد کے 4 وائسراﺅں کے عہد میں بڑے بڑے شہروں میں عمدہ صاف پانی کے لیے نل لگائے گئے ہیں۔ کوچوں کی صفائی وغیرہ پر بڑا روپیہ خرچ کیا گیا ہے۔ غرض یہ ہے کہ رعایا کی صحت اچھی رہے۔ پہلے ہزاروں بچے اور بڑے آدمی بھی چیچک کے مرض سے ضائع ہوتے تھے۔ اب گاﺅں گاﺅں ٹیکا لگانے والے پھرتے ہیں اور رعیت کو ٹیکالگاتے ہیں تاکہ وہ گندے اور غارت گر مرض سے محفوظ رہےں۔ بخار سے بچنے اور شفا پانے کی مشہور دوا کونین ہر جگہ نہایت ارزاں قیمت پر بکتی ہے۔ دلدلیں خشک کرائی گئی ہیں۔ حال میں ہند میں ایک مہلک مرض پھیل گیا ہے جسے طاعون کہتے ہیں۔ طاعون کے ان مریضوں کے لیے جو مفلس ہیں، ہسپتال جاری کیے گئے ہیں۔ بہت سے لوگ ان کی خبر گیری اور تیمارداری کے لیے انگلینڈ سے بلائے گئے ہیں۔ بہت سے ڈاکٹر بھی آئے ہیں۔ یہ طاعون کے مریضوں کا علاج کرتے ہیں اور جو لوگ ابھی تک اس مرض سے بچے ہوئے ہیں۔ ان کو آئندہ محفوظ رہنے کی تدبیر بتاتے ہیں۔

 ملکہ وکٹوریہ جو ان تمام ملکاﺅں کی سرتاج ہیں جو آج تک دنیا میں سربراہِ سلطنت ہو چکی ہیں 22 جنوری 1901ءکو اس جہان فانی سے رخصت ہوئیں۔ ان کے بڑے فرزند ارجمند پرنس آف ویلز ایڈورڈ ہفتم کے نام سے انگلینڈ کے بادشاہ اور ہند کے شہنشاہ ہوئے۔ حضور ممدوح کے فرزند دلبند شہزادہ جارج پرنس آف ویلز جو اب ہمارے شہنشاہ ہیں۔ 1905ءمیں ہند کی سیروسیاحت کو تشریف لائے۔ 3 ماہ سفر کر کے ملک ہند اور اپنی ہندی رعایا کو ملاحظہ فرمایا۔ ہند کی رعایا نے جوش وفاداری اور خلوص دل سے آپ کا خیر مقدم کیا۔ شہزادہ والاتبار نہایت خوش ہوئے اور ملک اور اہل ملک پر اپنی دلی مسرت کا اظہار فرمایا۔

 مئی 1910ءمیں شہنشاہ ایڈورڈ قیصر ہند نے (جن کا نام چار دانگ عالم میں روشن ہے) نہایت شان و شوکت سے 9 سال تک سلطنت کر کے اس دارناپائیدار سے سفر آخرت اختیار فرمایا، جس سے ان کی تمام رعایا کو رنج و الم ہوا۔ مختلف ممالک یورپ کے 8 بادشاہ بغرض شمولیتِ جنازہ دارالخلافہ لندن میں حاضر اور بصد تعظیم و تکریم جنازے کے ساتھ شامل ہوئے۔(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -