ہیلی کالج آف بینکنگ اینڈ فنانس.... عظیم درسگاہ کے دس برس

ہیلی کالج آف بینکنگ اینڈ فنانس.... عظیم درسگاہ کے دس برس

  



2003ءکو معرض وجود میں آنے والے اس ادارے کے قیام کے دس برس مکمل ہو چکے ہیں جو کہ لاہور شہر کے عین وسط میں سرگنگارام کی وقف کردہ اس عمارت میں شروع ہوا جہاں 1927ءمیں گورنر پنجاب سر ولیم ہیلی نے پنجاب یونیورسٹی سے ملحقہ کامرس کالج کا افتتاح کیا تھا جو کہ ہیلی کالج آف کامرس سے مشہور ہوا۔ تین عشرے قبل یہ کالج جامعہ پنجاب کے نیو کیمپس لاہور منتقل کر دیا گیا تھا جس کے بعد سے یہ تاریخی عمارت بند کر دی گئی۔ بین الاقوامی طور پر شہرت یافتہ ماہر اقتصادیات و معاشیات پروفیسر آف ایمریٹس پروفیسر ڈاکٹر خواجہ امجد سعید نے اس خوبصورت ڈیزائن کی تاریخی عمارت کو آباد کرنے کے لئے ایک نئے ادارے کے قیام کا تصور پیش کیا جس کی فوری طور پر منظوری دے دی گئی اور 26 مارچ 2003ءکو گورنر پنجاب نے اس عظیم ادارے کا افتتاح کر دیا۔ یاد رہے کہ پروفیسر ڈاکٹر خواجہ امجد سعید آئی بی اے، جامعہ پنجاب لاہور کے بانی چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔ عمارت کے حوالے سے اس کالج کو بھی ہیلی کالج آف بینکنگ اینڈ فنانس کا نام دیا گیا۔ 2003ءمیں کلاسوں کا اجراءہو گیا۔ بی بی اے، ایم بی اے کے ساتھ ایگزیکٹو خواتین و حضرات کو ملازمت کے ساتھ ہائر ایجوکیشن کے حصول کی سہولت فراہم کر دی گئی۔ داخلے کے لئے انٹری ٹیسٹ کی شرط لازم قرار دی گئی۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پہلے ہی سال ہزاروں طالب علموں نے داخلے کے لئے دلچسپی ظاہر کی۔ بہرحال محدود نشستوں پر میرٹ ہی معیار قرار پایا اور آج بھی کالج اسی اصول پر عمل پیرا ہے۔ دس برس قبل بینکنگ کے شعبے میں گریجویٹس و پوسٹ گریجویٹ سپیشلائزڈ افراد کی بہت ضرورت محسوس کی جا رہی تھی چنانچہ ملکی ترقی کے لئے اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے بی بی اے اور ایم بی اے کی سطح پر بینکنگ میں سپیشلائزیشن کا آغاز کیا گیا۔ اس کے ساتھ فنانس اور انٹرنیشنل ٹریڈ کے شعبوں میں بھی سپیشلائزیشن کروانے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ آج ملکی و بین الاقوامی بینکوں کے ساتھ دیگر فنانشل اور تجارت سے متعلقہ اداروں میں اس کالج کے فارغ التحصیل اعلیٰ پوسٹوں پر تعینات ہیں۔

آج دنیا بھر میں انشورنس کے شعبے میں کھربوں ڈالر کا لین دین ہو رہا ہے۔ ہمارے ملک میں بھی بہت سی انشورنس کمپنیاں کام کر رہی ہیں لیکن ہمارے ملک کی کسی بھی یونیورسٹی و کالج میں انشورنس کی اعلیٰ تعلیم نہیں دی جا رہی تھی جبکہ رسک مینجمنٹ کے حوالے سے قائم اداروں میں بھی ماہر تعلیم یافتہ افراد کی کمی محسوس کی جا رہی تھی چنانچہ ملکی ترقی کے ان اہم شعبوں کو اعلیٰ کوالیفائیڈ افراد کی فراہمی کے لئے پہلی بار پنجاب یونیورسٹی کے اس عظیم ادارے میں بی بی اے (انشورنس اینڈ رسک مینجمنٹ) اور ایم بی اے (انشورنس اینڈ رسک مینجمنٹ) کے شعبوں کا اجراءکیا گیا۔ کالج فیکلٹی اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ پر مشتمل ہے جن کی محنت سے پاس آﺅٹ ہونے والے اس ادارے کے ہزاروں گریجویٹس اور پوسٹ گریجویٹس قومی خدمات میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہیلی کالج آف بینکنگ اینڈ فنانس میں ملٹی سٹوری نئی بلڈنگ بھی تعمیر ہو چکی ہے جہاں پر نئے کلاس رومز کے ساتھ دو بڑے امتحانی ہالز بھی بنائے گئے ہیں۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس ادارے میں طالب علموں کو بہترین تعلیمی سہولیات میسر ہیں۔ تمام کلاس رومز ائیر کنڈیشنڈ ہیں، ہزاروں کتب پر مشتمل لائبریری کے علاوہ بہت بڑی ہائی سپیڈ کمپیوٹر لیب ہے۔

نوجوانوں کے لئے پڑھائی کے ساتھ غیر نصابی سرگرمیاں بھی ضروری ہیں۔ نوجوان طالب علموں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لئے باقاعدہ شعبہ قائم ہے۔ قومی دنوں کی مناسبت سے پروگرامز ترتیب دئیے جاتے ہیں۔ اپنی پہچان پاکستان، حضرت قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کی شخصیات کے نمایاں پہلوﺅں کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ نعت خوانی کے مقابلوں میں نبی پاک ﷺ کو ہدیہ عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ تقرری مقابلے بھی ہوتے ہیں۔ مشاعروں میں معیاری ادبی اشعار کے ساتھ مزاحیہ شعر سے بھی سامعین محظوظ ہوتے ہیں۔ کالج میں آنے والے تمام طالب علموں کو گرینڈ ڈنر دیا جاتا ہے اس موقع پر مختلف شعبوں کی قد آور شخصیات کو مدعو کیا جاتا ہے۔ ہیلی کالج آف بینکنگ اینڈ فنانس کے طالب علم تعلیم کے ساتھ کھیل کے میدان میں بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ اس ادارے کے نوجوان کھلاڑیوں نے قومی و بین الاقوامی سطح پر ریکارڈ بنا ڈالے ہیں۔ حالیہ منعقدہ مقابلوں میں ہاکی ڈربلنگ میں دو کھلاڑی گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام لکھوا چکے ہیں جبکہ نوجوان خاتون اتھلیٹ قومی مقابلوں میں نئے ریکارڈ بنا چکی ہے۔ کرکٹ، ہاکی، جمناسٹک، کشتی رانی، بیڈ منٹن، کبڈی اور دیگر کھیلوں میں کالج کے کھلاڑی اپنی صلاحیتیں منوا چکے ہیں۔ اس عظیم تعلیمی ادارے کے ابتدائی دس برسوں میں کامیابیوں کی ایک داستان لکھی جا سکتی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ادارے کو مزید ترقیاں عطا فرمائے۔ آمین  ٭ 

مزید : کالم