بھٹو کی برسی پر انتخابی مہم کا آغاز!

بھٹو کی برسی پر انتخابی مہم کا آغاز!
بھٹو کی برسی پر انتخابی مہم کا آغاز!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو (شہید) نے طویل عرصہ خود ساختہ جلاوطنی میں گزارا، پھراجل ان کو واپس اپنے ملک میں لے آئی، کہ ان کا وقت پورا ہو چکا تھا اور انہیں بھی اپنے والد کے پہلو میں گڑھی خدا بخش کے آبائی قبرستان میں ہی آسودہ¿ خاک ہونا تھا اس قبرستان میں اُن سے پہلے اُن کے والد ذوالفقار علی بھٹو کے علاوہ دونوں بھائی مرتضیٰ بھٹو اور شاہ نواز بھٹو دفن ہو چکے تھے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو جب دبئی سے پاکستان واپس آئیں تو کراچی میں اُن کے استقبال نے1986ءکے لاہور والے استقبال کی یاد دلا دی تھی۔ یہ محترمہ بے نظیر بھٹو ہی تھیں، جنہوں نے تمام خطرات اور خدشات کو نظر انداز کیا اور لیاقت باغ کے جلسے میں شریک ہونے آ گئیں۔ اس پارک کو لیاقت باغ پاکستان کے پہلے شہید وزیراعظم لیاقت علی خان ؒ کے نام سے اِس لئے موسوم کیا گیا کہ اُن کو اِسی باغ میں اُس وقت شہید کر دیا گیا، جب وہ جلسہ ¿ عام سے خطاب کرنے والے تھے۔
شہید ملت لیاقت علی خان کو بھی ایک گہری سازش کے تحت شہید کیا گیا، قاتل کو موقع پر ہی گولی مار دی گئی اور آج تک اس سازش سے پردہ نہیں اُٹھ سکا، صرف اتنا ہوا کہ سید اکبر (قاتل) کون تھا، یہ بتا دیا گیا۔ بالکل اِسی طرح محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت بھی اب تک ایک معمہ ہے۔ اگرچہ اُن کے قتل کا الزام بیت اللہ محسود پر عائد کر کے چند افراد کو گرفتار کیا گیا اور چالان عدالت میں بھی پیش ہے، لیکن بہت سارے سوالات کے جواب اب تک نہیں ملے اور شاید کبھی بھی نہ مل سکیں کہ اس حوالے سے مختلف آرا اور افواہیں ہیں، بہرحال وہ خود تو دُنیا سے چلی گئیں، اپنے پیچھے اپنے والد کی جماعت اور اپنی اولاد چھوڑ گئیں۔ آج اُن کی شہادت کے بعد ہونے والے انتخابات کے بعد دوسرے انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور اُن کی جماعت مشکل میں نظر آتی ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی نے ان انتخابات کے لئے انتخابی مہم شروع کرنے کے لئے4اپریل2013ءکا دن منتخب کیا ہے، جو ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کا یوم ہے، اس روز بھٹوز قبرستان گڑھی خدا بخش میں بڑا اجتماع ہوتا ہے، جس میں ملک کے چاروں صوبوں اور کونے کونے سے کارکن اور بھٹو کے شیدائی شریک ہوتے ہیں۔ یہ برسی ایک ایسے دور اور وقت میں آ رہی ہے ،جب پے در پے واقعات ہو رہے ہیں اور حیرت سے مُنہ کھلے رہ جاتے ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے باپ کی سیاسی وراثت کو طوفانی تھپیڑوں سے بچا کر سنبھال لیا تھا، حالانکہ اُس وقت بھی جماعت کو ہائی جیک کرنے کی بہت کوششیں کی گئیں، افسوس تو یہ ہے کہ اس میں مولانا کوثر نیازی اور مصطفی جتوئی جیسی شخصیات کا بھی نام آتا ہے۔
 برسی کے حوالے سے ذوالفقار علی بھٹو کا ذکر آیا تو کئی یادیں بھی امڈ کر چلی آ رہی ہیں۔ اُن کی کرشمہ ساز شخصیت آنکھوں کے سامنے آ جاتی ہے اور ایک فلم سی چلنا شروع ہو گئی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کا ایوب خان کی کابینہ سے مستعفی ہو کر آنا اور لاہور ریلوے سٹیشن پر یادگار استقبال، پھر اصرار کے بعد لاہور ہی میں اجتماعات سے خطاب اور جماعت کی تشکیل کا مشورہ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان پیپلزپارٹی بنانے کا فیصلہ کیا۔ پہلا کنونشن ہالا شریف (سندھ) میں مخدوم طالب المولیٰ کے ڈیرے پر ہوا اس میں اصولی طور پر جماعت بنانے کا تو فیصلہ ہو گیا، تاہم اس کا قیام1967ءمیں ڈاکٹر مبشر حسن کی رہائش گاہ پر عمل میں آیا اور اِسی کو یوم تاسیس بھی کہتے ہیں، پھر اس جماعت کا مقبولیت کے مدارج طے کرنا۔1970ءکے انتخابات میں کامیابی بھی تاریخ کا حصہ ہے۔ اس کے بعد سے موجودہ پاکستان کے اقتدار تک تاریخ موجود ہے، کئی متنازعہ امور بھی ہیں۔ بہرحال بات ذوالفقار علی بھٹو کے اقتدار سنبھالنے کی ہے، جن کو بیرون ملک سے بلا کر یحییٰ خان کی جگہ اقتدار سونپا گیا۔ ابتدائی طور پر مارشل لاءایڈمنسٹریٹر کے اختیارات کے ساتھ صدر بنے، پھر انہوں نے جلد ہی یہ غلاف اُتار پھینکا۔1970ءکے انتخابات میں اس بازو سے کامیاب ہونے والوں پر مشتمل اسمبلیاں بحال کیں ،1973ءکا آئین بنایا اور23مارچ1973ءسے پارلیمانی نظام رائج کر دیا۔
ذوالفقار علی بھٹو کے کریڈٹ میں بہت کچھ ہے۔ ایٹمی پروگرام کی ابتدا،94 ہزار جنگی قیدیوں کی واپسی، معیشت کی بحالی، بیرون ملک روزگار کے وسائل پیدا کر کے پاکستانی افرادی قوت کو برآمد کرنا اور دوسرے اقدامات شامل ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ اقتدار میں بھی کئی اُتار چڑھاﺅ آئے، لیکن مجموعی طور پر اُن کا دور آج بھی اچھا کہلاتا ہے، تاہم ان کا ایٹمی پروگرام شروع کرنا بہت بڑا جرم تھا جو معاف نہیں کیا گیا اور اُن کو تختہ دار پر لے گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو بہت اچھے مقرر تھے، انگریزی پر تو اُن کو عبور حاصل تھا، لیکن اُردو پر بھی قابو پا لیا تھا اور بہت اچھی تقریر کر لیتے تھے۔ ایک رپورٹر کی حیثیت سے اس سارے دور کی کوریج کی اور ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ بھی، فرائض ادا کرنے کا موقع ملا۔ وہ حاضر جواب تھے اور ہر سوال کا جواب دینے کو تیار رہتے تھے۔ اُن کے اس دورِ حکومت کے کئی متنازعہ واقعات بھی ہیں، جن میں میاں محمود علی قصوری جیسے لوگوں کا پارٹی چھوڑنا ہے۔ جے ایم رحیم کے ساتھ سلوک اور دلائی کیمپ جیسی کہانیاں بھی ہیں۔ اِس سلسلے میں اُن کا اور پیپلزپارٹی کا مو¿قف اپنا ہے۔

ہمیں آج کے حالات کے پس منظر میں 14اپریل 1977ءکا ذکر کرنا ہے۔ جب آسمان پر ہلکے ہلکے بادل چھائے ہوئے تھے، پاکستان قومی اتحاد کی تحریک زوروں پر تھی۔ 9اپریل کو ریگل چوک(لاہور) کا سانحہ ہو چکا تھا۔ اس بڑی تحریک کے جواب میں ذوالفقار علی بھٹو نے کارکنوں کو جوابی کارروائی سے روکا ہوا تھا۔ 14اپریل کو گورنر ہاﺅس لاہور کے لان میں پیپلزپارٹی کے کارکنوں کا اجتماع تھا، وہ پُرجوش نعرے لگا رہے تھے، اپنے قائد کے منتظر تھے، بھٹو گورنر ہاﺅس کی گیلری سے یہ منظر دیکھ اور نعرے سن رہے تھے، پھر اُن کی طرف سے پیغام آیا کہ کارکن نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں، تو وہ آ جاتے ہیں۔ اِسی یقین اور تلقین کے بعد وہ آئے۔ کارکن بے قابو ہو کر قومی اتحاد والوں کا مقابلہ کرنے کی اجازت مانگ رہے تھے، ذوالفقار علی بھٹو نے اس سے انکار کیا اور اس تحریک کے دوران پہلی بار لفظ استعمال کیا۔ ”گرے ہاﺅنڈز آر آفٹر سی“.... ان کا اشارہ امریکہ کی طرف تھا۔ انہوں نے کارکنوں سے پُرامن رہنے کو کہا اور بتایا کہ وہ دشمن کے ارادوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور ملک میں خانہ جنگی نہیں ہو گی۔ اس کے بعد ہی راولپنڈی (صدر) والا وہ واقعہ ہوا، جب ذوالفقار علی بھٹو نے خط لہرا کر وہی فقرہ دہرایا جو گورنر ہاﺅس لاہور میں کہہ چکے تھے۔
اس کے بعد جو ہوا وہ بھی اب تاریخ کا حصہ ہے کہ دشمن تو بہرحال کامیاب ہوا اور جنرل ضیاءالحق نے اس رات شب خون مارا، جب پیپلزپارٹی اور قومی اتحاد میں سمجھوتہ ہو چکا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو ایک کرشمہ ساز شخصیت تھے، لوگ اُن کے سحر میں گرفتار تھے، لیکن بلاوجہ نہیں۔ انہوں نے لوگوں کو زبان دی، بولنے کی جرا¿ت اور اظہار کا سلیقہ دیا۔ پیپلزپارٹی کے کارکن بڑے سے بڑے لیڈر کے سامنے ڈٹ جاتے تھے اور آج بھی جیالوں کا یہ مزاج ہے، لیکن حالات میں بہت بڑی تبدیلی آ چکی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو گئے تو بے نظیر بھٹو آ گئیں، اُن کے بعد آصف علی زرداری نے پارٹی کمان سنبھالی۔ بلاول بھٹو زرداری کو چیئرمین بنایا گیا، لیکن نامعلوم وجوہات کی بناءپر اس بار وہ نانا کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لئے بھی موجود نہیں ہوں گے۔ بھٹو کے شیدائی آج بھی اُن کی یادیں لئے بیٹھے ہیں اور اُن کے خلاف کوئی بات سننے کو تیار نہیں۔

بہرحال آج کے حالات میں جو بات کرنی ہے وہ یہ ہے کہ1970ءمیں جو منشور دیا گیا، وہ سوشلزم ہماری معیشت والا تھا اور پیپلزپارٹی اینٹی ایسٹیبلشمنٹ پارٹی مانی گئی۔ اگرچہ خود ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں سوشلزم کو اسلامی مساوات میں تبدیل کیا گیا اور1977ءمیں ٹکٹوں کا معتدبہ حصہ جاگیردار یا زمیندار طبقے کو گیا اور روشن خیال لوگ1970ءکی نسبت کم ہو گئے، پھربے نظیر بھٹو کے دور میں بھی یہ تصور قائم رہا ۔تاہم2008ءکے بعد آصف علی زرداری کی مفاہمتی سیاست نے اس تاثر کو ختم کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ آج ترقی پسندی کا ذکر نہیں، لیکن پارٹی کے تاثر کو تو تبدیل نہیں کیا جا سکا۔ بات ELECTABLE کی ہوتی ہے، لیکن جیالے اس تصور سے ہم آہنگ نہیں ہو پا رہے۔ وہ کہتے ہیں، ذوالفقار علی بھٹو بھی مفاہمت کے قائل تھے اور محاذ آرائی سے بچنے کی کوشش کرتے تھے، لیکن پارٹی تشخص پر سمجھوتہ نہیں ہوتا تھا۔ یہی وتیرہ بے نظیر بھٹو کا تھا، آج پارٹی پھر سے انتخابی امتحان میں اُترنے کو تیار ہے، جسے بہت سارے امتحانات در پیش ہیں۔ یہ وقت اس تجزیے کا نہیں کہ کیا کھویا کیا پایا؟.... لیکن بات غور کرنے کی ہے۔ بھٹو اور بھٹو کی پارٹی آج کہاں ہے؟ جب 4اپریل کو انتخابی مہم کا آغاز گڑھی خدا بخش سے ہو گا، تو اس مقبرے کے اندر ذوالفقار علی بھٹو، نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی روح کا پیغام کیا ہو گا؟ ٭

مزید :

کالم -