این اے 68سرگودھا ،قریشی ٹوانہ لاہٹر ی ،بلوچ ،راجپوت اورآئین برادری کے ووٹ اہمیت کے حامل ہیں

این اے 68سرگودھا ،قریشی ٹوانہ لاہٹر ی ،بلوچ ،راجپوت اورآئین برادری کے ووٹ ...
این اے 68سرگودھا ،قریشی ٹوانہ لاہٹر ی ،بلوچ ،راجپوت اورآئین برادری کے ووٹ اہمیت کے حامل ہیں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور(شہباز اکمل جندران ، معاونت سجاد اکرم بیوروچیف) قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 68 میں سیاسی سرگرمیوں نے زور پکڑ لیا۔ امیدواروں کی بڑی تعداد نے کاغذات نامزدگی جمع کروانا شروع کردیے۔یہ حلقہ ساہیوال‘ سلانوالی‘ شاہ پور کی تحصےلوں پر مشتمل ضلع کا سب سے بڑا حلقہ ہے‘ اس کے ماتحت دو صوبائی حلقہ جات پی پی 37 اور 38 ہےں‘ این اے 68 کے کل ووٹرز کی تعدا د365576 ہے‘ جن میں 206840 مرد ‘ 1 لاکھ 58 ہزار 732 خواتین اور 4 خواجہ سراءووٹرز ہےں‘ ےہ حلقہ شروع دن سے ہی مسلم لیگ (ن) کا گڑھ کہا جاتا ہے‘ جس میں طویل عرصہ سے قومی و صوبائی اسمبلی پر مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں نے ہی کامیابیاں حاصل کیں‘ جاٹ برادری کے ساتھ ساتھ مہاجروں کی بڑی تعداد بھی ‘اس حلقہ میں ووٹر ہےں‘ قریشی‘ ٹوانہ‘ لاہڑی‘ بلوچ‘ راجپوت‘ آرائےں‘ اس حلقہ میں کثرت سے ہےں‘ 2008ءکے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے سید جاوید حسنےن شاہ جنہےں بعد ازاں ہائےکورٹ نے جعلی ڈگری کیس میں نا اہل قرار دیا تھا نے 80 ہزار 174 ووٹ حاصل کر کے سابق ایم این اے مظہر احمد قریشی اور سابق صوبائی وزیر فرخ جاوید گھمن کو شکست دی تھی‘ میاں مظہر احمد قریشی نے 56 ہزار 949 اور فرخ جاوید گھمن نے 38 ہزار 516 ووٹ حاصل کیے تھے‘ مظہر احمد قریشی مسلم لیگ ق کے امیدوار تھے‘ مگر انتخابی مہم کے دوران بےنظیر بھٹو کی شہادت پر اپنے رد عمل کے طور پر مسلم لیگ ق سے علیحدگی اختیار کر لی اور الےکشن کمیشن سے سائےکل کی بجائے حقہ نشان کے لئے درخواست دی جو منظور نہ ہوئی تو آزاد حیثیت سے سائےکل نشان پر ہی مظہر قریشی انتخابی عمل میں شامل رہے جبکہ فرخ جاوید گھمن آزاد امیدوار تھے‘ سید جاوید حسنےن شاہ کو نا اہل قرار دیئے جانے پر اس حلقہ میں5 ستمبر 2010 کے ضمنی الےکشن ہوا اس سے قبل مظہر احمد قریشی اور فرخ جاوید گھمن مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو چکے تھے‘ ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے سیاست میں نیا چہرہ شفقت خان بلوچ متعارف کرایا‘ جو کہ متوالہ ورکر تھا‘ میاں مظہر احمد قریشی ٹکٹ نہ ملنے پر آزاد حیثیت سے امیدوار تھے‘ اور تانگہ کا نشان الاٹ کرایا تو پیپلز پارٹی کی قیادت نے مظہر احمد قریشی کی حمایت کر دی‘ میاں اسلم حیات کلیار جو کہ ق لیگ کے امیدوار تھے‘ قیادت کے حکم پر مظہر احمد قریشی کے حق میں دستبردار ہوگئے‘ ضمنی الےکشن میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے خوب میدان لگایا‘ شفقت خان بلوچ کی حمایت میں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور مظہر احمد قریشی کی حمایت میں اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے حلقے میں بڑے بڑے جلسے کیے اور کروڑوں کے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا‘ راتوں رات سوئی گیس کی فراہمی کےلئے حلقے میں پائپ گرائے گئے ‘ اس پولنگ کی خاص بات ےہ تھی کہ نصف سے زائد حلقہ سیلابی پانی کی زد میں تھا‘ کئی جگہوں پر لوگ کشتیوں میں سوار ہو کر پولنگ اسٹیشنوں تک پہنچے‘ دن بھر پولنگ اسٹیشنوں پر خال خال ووٹر نظر آئے مگر رات جب نتیجہ آیا تو حلقے کے عوام نہےں بلکہ ملک بھر کے سیاسی حلقے حیران ہو گئے ‘ ملکی و غیر ملکی میڈیا اور سیاسی شخصیات اس حلقہ کے نتائج پر کئی روز تک تبصرے کرتے رہے۔ شفقت حسین خان بلوچ کو 92 ہزار کے قریب ووٹ ملے جبکہ پیپلز پارٹی‘ مسلم لیگ ق‘ سمیت آزاد دھڑوں کے حمایت یافتہ مظہر احمد قریشی ہارگئے‘ اب اس حلقہ کا سیاسی منظر نامہ یکسر گھوم چکا ہے‘ سابق صوبائی مشیر مےجر اصغر حیات کلیار‘ میاں مظہر احمد قریشی‘ سابق تحصےل ناظم علی اصغر لاہڑی‘ نور حیات کلیار سمیت حلقہ کی مقتدر شخصیات تحریک انصاف میں شامل ہو چکی ہےں‘ اور مظہر احمد قریشی‘ مےجر اصغر حیات کلیار این اے 68 سے پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ حاصل کرنے کے خواہشمند ہےں‘ بی۔اے کی شرط ختم ہونے پر نا اہل قرار پانے والے جاوید حسنےن شاہ‘ شفقت خان بلوچ‘فرخ جاوید گھمن کے علاوہ سیاست میں نووارد سرماےہ دار نذیر سوبھی مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ حاصل کرنے کےلئے کوشاں ہےں‘ قوی امکان ہے کہ تحریک انصاف مظہر احمد قریشی اور مسلم لیگ (ن) شفقت خان بلوچ کو میدان میں اتارے گی‘ صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 34 سرگودھا کےنٹ سے مسلم لیگ (ن) کے رضوان گل کی ڈگری جعلی ثابت ہونے پر 28 اگست 2010ءکے ضمنی انتخاب میں آزاد حیثیت سے کامیاب ہو کر پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والے ایم پی اے اعجاز احمد کاہلوں کے بھائی حاجی ممتاز اختر کاہلوں جنہےں پی پی پی پی میں شمولیت پر چیئر مےن نیو ٹیک پاکستان مقرر کیا گیا تھا ‘پیپلز پارٹی نے این اے 68 سے امیدوار نامزد تھے‘ جنہوں نے اچانک قلابازی کھائی اور پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہو گئے۔اب دیکھنا ےہ ہے کہ تحریک انصاف ممتاز اختر کاہلوں کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے۔اس طرح اس حلقہ میں گمسان کا دنگل لگے گا؟ حلقہ کے ووٹروں کی بھی خواہش ہے کہ دونوں پارٹیاں سرماےہ داروں کو ہی ٹکٹ دیں مگر ایسا لگتا نہےں‘ تا ہم حلقہ میں سبھی امیدوار اپنی انتخابی مہم زورو شور سے چلائے ہوئے ہےں ‘ کامیاب کی ہمہ تو ابھی دور کی بات ہے کسے کس پارٹی کا ٹکٹ ملے گا؟ اس کا فیصلہ سامنے آ جائے گا۔اسی طرح این اے 68 سے منسلک صوبائی اسمبلی کا حلقہ پی پی 37 تحصےل ساہیوال‘ نہنگ‘ فاروقہ کے مضافات پر مشتمل ہے‘ جس میں لاہڑی‘ سیالوی‘ قاضی‘ بلوچ‘ قریشی‘ پٹھان‘ ارائےں‘ راجپوت‘ گجر‘ ملک‘ رحمانی سمیت ملے جلے قوموں کے رجسٹرڈ ووٹر ہےں‘ جس کے کل ووٹرز کی تعداد 1 لاکھ 70 ہزار 496 ہے جس میں 96 ہزار 601 مرد 73 ہزار 895 خواتین ووٹرز ہےں‘ کوئی خواجہ سراءاس حلقہ میں رجسٹرڈ ووٹر نہیں‘ ےہ حلقہ اس لیے بھی انتہائی اہمیت حامل ہے کہ اس حلقہ میں نا صرف ہر بار سیاست گھومتی ہے بلکہ چہرے بھی بدلتے رہتے ہےں‘ کچھ عرصہ سے اس حلقہ کی سیاست میں سیالوی چھائے ہوئے ہےں‘ کیونکہ حلقہ میں ان کے مریدوں اور عقیدت مندوں کی بھی بڑی تعداد موجود ہے‘ 2008 کے انتخابات میں اس حلقہ میں گمسان کا رن پڑا تھا اور خوب دنگل ہوا‘ غلام نظام الدےن سیالوی پاکستان مسلم لیگ (ن)‘ محمد علی رضا لاہڑی آزاد‘ اور مےجر سر بلند علی خان آزاد اور پیپلز پارٹی کے حمایت یافتہ امیدوار تھے‘ نظام الدےن سیالوی نے 31 ہزار 539 ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی جبکہ محمد علی رضا لاہڑی نے آزاد حیثیت سے خوب مقابلہ کیا اور 29 ہزار 892 ووٹ حاصل کیے‘ مےجر ریٹائرڈ سر بلند علی خان کو 11 ہزار 710 ووٹ ملے ‘ مسلم لیگ ق کے امیدوار وزیر اعلیٰ پنجاب کے سابق مشیر ریٹائرڈ مےجر اصغر حیات کلیار تھے‘ 2008 کے انتخاب کی خاص بات ےہ بھی تھی کہ پاک فوج کے دو ریٹائرڈ مےجر بھی انتخابی میدان میں آمنے سامنے تھے‘ اب اس حلقہ میں سیاست کی دیگ ابالے کھا رہی ہے‘ جس میں پکنے والی کھچڑی کون کس کرسی پر بیٹھ کر کھائے گا اس کا تو سردست کوئی پتہ نہےں چل رہا تا ہم موجودہ ایم پی اے نظام الدےن سیالوی مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ہےں‘ جبکہ سابق ایم پی اے منیر قریشی‘ علی ذوالقرنےن بلوچ‘ عمر فاروق کلیار اور رانا جبار نے بھی مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ حاصل کرنے کےلئے رجوع کر رکھا ہے‘پاکستان تحریک انصاف کے بیرسٹر تےمور خان کو امیدوار ہےں ‘ جو سابق وائس چیئر مےن ضلع کونسل و ممبر پبلک سیکرٹری کمیشن اختر بلوچ کے صاحبزادے ہےں‘ تاہم میاں نور حیات کلیار بھی پی ٹی آئی کے ٹکٹ کےلئے جدوجہد کر رہے ہےں‘ سابق تحصےل ناظم علی اصغر لاہڑی جو کہ کچھ عرصہ قبل اپنے گروپ کے ساتھ مسلم لیگ (ق) چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور پھر سیاسی گوشہ نشینی اختیار کر لی‘ مگر اب تک انہوں نے تحریک انصاف سے علیحدگی کا اعلان نہیں کیا‘ مگر سردست وہ این اے 68 اور پی پی 37 دونوں نشستوں پر آزاد حیثیت سے امیدوار ہےں‘پیپلز پارٹی نے خدمات کے صلے میں سابق امیدوار سر بلند علی خان کو وفاقی ادارہ پاسکو میں عہدہ دے دیا ہے‘ اس طرح وہ انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتے‘ جس پر سر بلند علی خان نے اپنے عزیز شجاعت خان کھوسہ کو پیپلز پارٹی کے ٹکٹ کےلئے میدان میں اتارا ہے‘ مقبول خان بلوچ اور سجاد خان بلوچ بھی پیپلز پارٹی کی ٹکٹ کے لئے تحرک کر رہے ہےں‘ڈاکٹر غضنفر علی قاضی اور سلےم فاروقہ آزاد حیثیت سے امیدوار ہےں ذرائع کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی غضنفر قاضی کو سپورٹ کرے گی‘ اس طرح اس حلقہ میں سیاسی میدان خوب سجا ہوا ہے‘ ووٹروں کے کھابے شروع ہو چکے ہےں‘ اور کئی بےروزگاری کا روزگار لگ گیا ہے۔جبکہ این اے 68 سے منسلک صوبائی اسمبلی کا حلقہ پی پی 38 شاہپور‘ جھاوریاں‘ جہان آباد‘کالرہ کے مضافات پر مشتمل ہے‘ جس میں جٹ‘ سید‘جھمٹ‘ پٹھان‘ بلوچ‘ گوندل‘ قریشی‘ ٹوانہ‘ لک‘ مےکن‘آرائےں‘ راجپوت سمیت دیگر کئی قومیں آباد ہےں‘ اس حلقہ کے کل ووٹرز کی تعداد 184439 ہے جن میں 103776 مرد اور 80 ہزار 663 خواتین ووٹرز ہےں‘ اس حلقہ پر ایک طویل عرصہ تک قریشی خاندان کا طلسم چھایا رہا اور حلقہ کی سیاست انہی کے گرد گھومتی رہی‘ دریا کی پٹی کے ساتھ ساتھ واقعہ اس حلقہ میں 1992ءکے سیلاب میں میاں نواز شریف نے سیلاب زدہ علاقوں میں پےدل چل کر گرے ہوئے کچے مکانوں کو گارے کی تھوپیاں لگائی تھیں جس پر ےہ حلقہ مسلم لیگ (ن) کا گڑھ بن گیا‘ 2008کے انتخاب میں پہلی بار اس حلقہ میں کسی خاتون امیدوار نے انتخاب لڑا جس کا نام شہزادی عمر زادی ٹوانہ تھا جو کالرہ اسٹیٹ کی وارث بھی کہی جاتی ہےں‘ منیر احمد قریشی پاکستان مسلم لیگ ق کے امیدوار تھے جبکہ ظہور احمد ارائےں نے آزاد حیثیت سے انتخاب لڑا‘ شہزادی عمر زادی ٹوانہ نے کمال انتخابی مہم چلائی اور 57510 ریکارڈ ووٹ حاصل کر کے اپنے مد مقابل کو تقریباً ساڑھے 19 ہزار کی برتری سے ہرایا‘ شہزادی عمر زادی ٹوانہ کی کامیابی میں اس وقت کے ڈی آئی مہر ظفر عباس لک کا نمایاں کردار تھا جو حلقہ میں مہا اثر رکھتے تھے‘ منیر قریشی کو 28 ہزار 268 اور آزاد امیدوار ظہور احمد آرائےں کو 1179 ووٹ ملے اب کی بار اس حلقے کے سیاسی پنڈال میں کئی تبدیلیاں آ گئی ہےں‘ شہزادی ٹوانہ کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرنے والے مہرے مہر ظفر عباس لک کے وفاق سے رابطے بڑھ گئے‘ جس پر وہ آئی جی موٹر وے ہےں‘ تا ہم شہزادی ٹوانہ جن کا ایم پی اے بننے کے بعد زیادہ وقت لاہور میں گزرا سردست پاکستان مسلم لیگ (ن) کی امیدوار ہےں جبکہ بہادر اقبال مےکن‘ حسن محمود مےکن اور گل شاہ نے بھی مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے ٹکٹ کےلئے رجوع کر رکھا ہے‘جماعت اسلامی نے ڈاکٹر ملک بشیر احمد کو امیدوار نامزد کیا ہے جو زورو شور سے اپنی انتخابی مہم چلا رہے ہےں‘ جبکہ پیپلز پارٹی کی قیادت عاطف مےکن سے رابطے مےں ہے اور وہی پیپلز پارٹی اور ق لیگ کے متوقع امیدوار کہے جا رہے ہےں‘ پاکستان تحریک انصاف کا اس حلقہ میں سردست کوئی امیدوار سامنے نہیں ہے‘ تا ہم تحریک انصاف کی قیادت حلقہ سے امیدوار تلاش کرنے کےلئے کوششیں کر رہی ہے‘ اس حلقہ کے نتائج کیا ہونگے؟ آنے والا وقت ہی ثابت کرے گا تا ہم انتخابی سرگرمیاں شروع ہو چکی ہےںاور امیدوار روٹھوں کو منانے میں لگے ہوئے ہےں۔
الیکشن این اے 68