مغرب میں اُردو زبان کا بڑھتا ہوا رجحان

مغرب میں اُردو زبان کا بڑھتا ہوا رجحان
مغرب میں اُردو زبان کا بڑھتا ہوا رجحان
کیپشن: abduk hakeemm ghori

  

20،21مارچ2014ءکو میری دو قسطیں بعنوان ”اردو زبان کے محبان سے نفرت کیوں؟ شائع ہوئیں، جنہیں روزنامہ ”پاکستان“ کے قارئین نے بہت پسند کیا اور درجنوں قارئین نے موبائل فون پر مجھے اپنی پسند سے آگاہ کیا اور ساتھ ہی فرمائش کی کہ مَیں ”زبانوں کے عروج و زوال“ پر مزید معلومات فراہم کروں، مَیں ان تمام افراد کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

محترم قارئین:دنیا میں ہر پندرہ روز بعد ایک زبان کا خاتمہ ہو رہا ہے۔ لسانیت کے شعبے میں ہونے والی حالیہ تحقیق کے مطابق دنیا میں پہلی زبان آج سے 60ہزار سال قبل بولی گئی۔ بعد ازاں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہزاروں زبانیں وجود میں آ گئیں۔ ا یک تحقیق کے مطابق دنیا میں آج تک لاکھوں زبانیں وجود میں آئیں اور اپنے بولنے والوں کے مرنے کے بعد وہ بھی ان کے ساتھ قبر میں دفن ہو گئیں۔ ان زبانوں کی اکثریت کا رسم الخط نہیں تھا، یعنی انہیں صرف بولا جاتا تھا، لکھا نہیں جاتا تھا۔ ان تمام قدیم زبانوں میں سے بعض زبانی مثلاً سمیرین، ابترو سکین اور مایان کو باقاعدہ تحریر کے لئے استعمال کیا جاتا تھا، مگر بعدازاں یہ زبانی بھی ناپید ہو گئیں۔ دیگر زبانوں میں لاطینی، سنسکرت اور قدیم یونانی زبانوں کو بھی تحریر کے لئے استعمال کیا گیا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان زبانوں میں بھی بڑی حد تک تبدیلیاں واقع ہو چکی ہیں۔ زبانوں کے حوالے سے تحقیق میں یہ ثابت ہوا ہے کہ قدیم زمانے میں زبانیں تیزی کے ساتھ وجود میں آتی تھیں اور ایک طویل عرصے تک بولی جاتی تھیں، لیکن آج کے جدید دور میں نئی زبانوں کی تحقیق نہ ہونے کے برابر ہے، بلکہ قدیم زبانیں بھی تیزی سے ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ ماہرین لسانیات کا کہنا ہے کہ آج سے10ہزار سال قبل، جبکہ دنیا کی مجموعی آبادی صرف پانچ سے دس ملین تھی، تقریباً 12ہزار زبانیں بولی جاتی تھیں۔ زمانہ جدید میں کانونیت، تجارت، صنعت اور تعلیم کے عام ہونے سے بہت سی ایسی زبانیں دم توڑ گئیں،جو پہلے مخصوص علاقے میں بولی جاتی تھیں اور گزشتہ چند عشروں کے دوران گلوبلائزیشن اور مواصلات کے جدید زبانوں کے خاتمے کی رفتار تیز ہو گئی اور انگریزی، چینی اور ہسپانوی زبانیں تیزی کے ساتھ ان کی جگہ لے رہی ہیں۔

اردو پر اپنی ملکیت کے تمام تر دعوں کے باوجود یہ حقیقت اگرچہ تلخ ہی سہی بہت واضح ہے کہ ہمارے ملک پاکستان میں اردو اب ایک نظر انداز ہوتی ہوئی زبان بن کر رہ گئی ہے۔ چمکتے دمکتے اور للکارتے دھاڑتے الیکٹرانک میڈیا کے اس دور میں تقریباً تمام چینلوں پر انگریزی زدہ لہجوں میں اردو کا وہ حشر ہو رہا ہے کہ اہل علم انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں، وہ تمام تعلیمی ادارے جن کے نام کے ساتھ ” انگلش میڈیم“ کا دم چھلا جڑا نہیں ہوتا۔ زبان بدحالی سے اپنی کہانی سناتے نظر آتے ہیں اور انگلش میڈیم سے فارغ التحصیل ہونے والوں کا اپنی قومی زبان اردو سے کوئی واسطہ نہیں رہتا۔ ایسے میں مغرب اور خصوصاً امریکہ جیسے ملک میں اردو زبان کی ترویج کے حوالے سے تعلیمی اداروں کی سطح پر کہاں اور کیا کیا کام ہو رہا ہے۔ یہ جاننے کے لئے، جب مَیں نے انٹرنیٹ پر ریسرچ کرنا شروع کیا، تو گویا ایک جہانِ نو میرے سامنے تھا، جہاں اردو ایک نئی آن بات سے نہایت جدید انداز میں اپنی خوشبو بکھیر رہی تھی۔ اس سارے کارنامے کے پس پردہ ڈاکٹر ایم جے وارثی کا نام اور کام ایک جداگانہ حیثیت میں خود کو منواتا نظر آتا ہے۔ ایشیائی اور مشرق قریب کے زبان و ادب کے شعبے کے کلیدی محقق اور واشنگٹن یونیورسٹی سینٹ لوئیس سے وابستہ معروف ماہر لسانیات ڈاکٹر ایم جے وارثی کا تعلق بھارت کے شہر پٹنہ سے ہے۔ انہوں نے بھارت کی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے طلائی تمغہ حاصل کیا، وہ مغربی بنگال کی اردو اکیڈمی کے بھی انعام یافتہ ہیں۔

 13اپریل2011ءکو سینٹ لوئیس کی واشنگٹن یونیورسٹی میں ڈاکٹر وارثی کے زیر نگرانی اردو سیکھنے اور سکھانے کے منصوبے کا آغاز ہوا اور نستعلیق رسم الخط استعمال کرتے ہوئے ثانوی اردو کی ویب سائٹ تیار کی گئی۔ ویب سائٹ سے استفادے کے لئے http://urdu.wusti.Edu پر جانا ہو گا۔ اس ویب سائٹ کی تیاری کے لئے نستعلیق رسم الخط کا استعمال کیا گیا۔ فارسی اور عربی شناخت رکھنے والے نستعلیق رسم الخط کا آغاز چودھویں صدی کے لگ بھگ ایران میں ہوا تھا اور یہ فارسی اور اسلامی خطاطی کے لئے کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔ ڈاکٹر وارثی نے اپنی ابتدائی تعلیم بہار سے حاصل کی، پھر اعلیٰ تعلیم کے لئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ یہیں سے لسانیات میں امتیازی پوزیشن میں ماسٹرز کیا اور طلائی تمغہ حاصل کیا۔ بعد ازاں سائیکو لینگوسٹک کے شعبے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور عملی میدان میں قدم رکھا۔ ان ہی دنوں ہندوستان میں کمپیوٹر عام ہو رہا تھا اور مشینی ترجمے کے لئے ڈاکٹر وارثی بطور ماہر لسانیات اس سے وابستہ ہوئے اور پھر انہوں نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔ چاہے وہ کمپیوٹر کے لئے زبان کے پروگرام تیار کرنے ہوں یا مدرسوں کے طلباءکے لئے کمپیوٹر کی تعلیم کے لئے کورسوں کی تیاری جیسا بصیرت افروز کام۔ برکلے یونیورسٹی میں تدریس کا عمل ہو یا واشنگٹن یونیورسٹی میں اردو کی ویب سائٹ کی تیاری جیسے تاریخی کام کا بیڑا اٹھانا اور کامیابی سے تکمیل تک پہنچانا ڈاکٹر صاحب کی کامیابیوں کا یہ سفر آگے ہی آگے بڑھتا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر وارثی نے اردو زبان پڑھانے اور اس سلسلے میں پیش آنے والی مشکلات پر قابو پانے میں مدد دینے کے حوالے سے اس ویب سائٹ کی افادیت پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایک عشرے تک اردو زبان کے مختلف اسباق پڑھانے کے بعد مَیں نے ان مشکل مراحل پر کام شروع کیا، جن سے زیاد تر طلبہ کو واسطہ پڑتا تھا۔ ہم یہ تو دعویٰ نہیں کرتے کہ یہ ویب سائٹ مکمل ہے، لیکن اتنا ضرور یقین ہے کہ اردو زبان کی باریکیوں کو سمجھنے میں جو خلا رہ جاتا تھا یہ ویب سائٹ اسے بآسانی پورا کر ہی ہے۔ یہ ویب سائٹ دیگر سائٹوں سے کس طرح مختلف ہے؟ اس بارے میں ڈاکٹر وارثی کا کہنا تھا کہ ثانوی اردو اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس میں سائٹ استعمال کرنے والے اپنے کمپیوٹر پر فون انسٹال کرنے کے لئے پریشان ہونے کے بجائے اردو متن کاپی کر کے اپنے کمپیوٹر پر چسپاں کر سکتے ہیں۔ یوں یہ سائٹ صارف دوست اور انٹریکٹو ثابت ہو رہی ہے۔ اس سائٹ پر اردو کی کلاسیکی تخلیقات کو سُنا اور دیکھا جا سکتا ہے۔ اس سائٹ پر اردو زبان کے تاریخی ارتقا اور پھیلاﺅ کے بارے میں ماہرین کی آرا کی ویڈیو لائبریری بھی موجود ہے۔ ڈاکٹر شکیل اختر نے مختصر، لیکن جامع انداز میں بتایا ہے کہ آزادی کے بعد کیسے اردو زبان آل انڈیا ریڈیو کی نشریات کا حصہ بنی، جبکہ اردو کے معروف دانشور اور شاعر سید تابش الوری بتاتے ہیں کہ دورِ جدید کے معاشرے میں اردو میں کیا کیا تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ علاوہ ازیں ذرائع والے صفحے پر اردو کی لغات، اخبارات اور رسائل بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

 جہاں تک اردو زبان کی افادیت کا تعلق ہے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر وارثی آج کی عالمگیریت والی دنیا میں مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیائی زبانیں سیکھنے کی اہمیت پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حالیہ برسوں میں جنوبی ایشیا اس کی ثقافت اور اس کے مذاہب خصوصاً اسلام کے بارے میں ڈرامائی عالم گیر دلچسپی پیدا ہوئی ہے۔ تاہم جنوبی ایشیا میں اسلام کے بارے میں زیادہ تر تصانیف اردو میں ہیں اس لئے جنوبی ایشیا کے لوگ ثقافت اور اسلام کو سمجھنے کے لئے اردو زبان سیکھنا بہت ضروری ہو گیا ہے۔11ستمبر کے بعد جس طرح اسلام کے حوالے سے مغرب میں غلط فہمیوں نے جنم لیا ہے کہ یہ مذہب شاید دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے، اس حوالے سے ڈاکٹر وارثی نے ایک اور پہلو پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا ہے کہ مکمل طور پر ایسا نہیں ہے۔ 11ستمبر کے حادثے نے دنیا کو بدل ضرور دیا ہے، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس حادثے کے بعد مغرب میں اسلام کے حوالے سے تجسس بھی ابھرا ہے کہ کیا واقعی یہ مذہب دہشت گردی سکھاتا ہے؟ یہی تجسس انہیں اسلام کے بارے میں پڑھنے اور زیادہ جاننے پر مجبور کرتا ہے اور وہ بہت جلد یہ جان جاتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔ اسلام تو محبت اور آشتی کا درس دیتا ہے۔ یہی کھوج اور تجسس انہیں ایشیائی زبانی پڑھنے پر اکساتا ہے۔ ایشیا کے ایک بڑے خطے کی زبان، یعنی اُردو انہیں اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ 11ستمبر کے بعد بہت لوگ مسلمان ہوئے ہیں اور اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ لوگوں کا اسلام کے بارے میں تجسس بڑھا اور انہوں نے اصل حقیقت جاننے کے لئے اسلام کے بارے میں پڑھنا شروع کیا اور پھر مسلمان ہوتے چلے گئے۔ یہ لوگ پھر عربی پڑھتے ہیں۔اگر آپ دیکھیں تو یہ لوگ صحیح معنوں میں عملی مسلمان ہوتے ہیں۔ انہوں نے اسلام پڑھ کر اور جان کر دل سے قبول کیا ہوتا ہے۔ دنیا میں اس وقت6ہزار800زبانیں بولی جاتی ہیں (جبکہ بعض زبانیں ایسی ہیں، جو اس میں شامل نہیں، لیکن مخصوص علاقوں میں اظہار کا ذریعہ ہیں۔  (جاری ہے) ٭

مزید :

کالم -