وہ کام جو طلاق کے موقع پر تمام شوہروں کے ساتھ ہوتا ہے، اس خاتون کے ساتھ ہوگیا، مردوں کے ’دکھ‘ کا احساس ہوگیا

وہ کام جو طلاق کے موقع پر تمام شوہروں کے ساتھ ہوتا ہے، اس خاتون کے ساتھ ہوگیا، ...
وہ کام جو طلاق کے موقع پر تمام شوہروں کے ساتھ ہوتا ہے، اس خاتون کے ساتھ ہوگیا، مردوں کے ’دکھ‘ کا احساس ہوگیا

  


لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) جب بھی کسی میاں بیوی میں طلاق ہوتی ہے تو ہمیشہ مرد ہی بیوی کو بھاری رقم ادا کرتا ہے اور جائیداد میں سے حصہ بھی دینا پڑ سکتا ہے۔ لیکن گزشتہ دنوں ایک برطانوی خاتون کو بھی اس وقت مردوں کے اس دکھ کا احساس ہو گیا جب عدالت نے اسے اپنے سابق شوہر کو 3لاکھ پاﺅنڈز (تقریباًساڑھے 4کروڑروپے)ادا کرنے کا حکم دیا۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق سٹیو اور جین پیئرسن کی 8سال قبل شادی ہوئی تھی، جو کہ چند ماہ قبل ٹوٹ گئی۔ شادی کے بعد سٹیو اپنی بیوی جین کے گھر میں ہی رہائش پذیر رہا اور وہیں سے اپنا کاروبار چلاتارہا۔ جین کافی مالدار تھی ، سٹیو نے اس کی دولت سے بھی ٹھیک ٹھاک استفادہ کیا اور پھر جب طلاق ہوئی تو اس نے عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا کہ میرے پاس اب رہنے کو گھر نہیں رہا، لہٰذا اس مد میں جین کو رقم ادا کرنے کا حکم دیا جائے۔ عدالت نے بھی سٹیو کے حق میں فیصلے دیتے ہوئے جین کو تین لاکھ پاﺅنڈ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔

رپورٹ کے مطابق جین کا کہنا ہے کہ ” ہماری ازدواجی زندگی بالکل ہنسی خوشی گزر رہی تھی۔ پھر ایک روز اچانک سٹیو نے مجھ سے کہا کہ میں تم سے علیحدہ ہونا چاہتا ہوں۔ اس پر میں حیران رہ گئی۔ سٹیو نے مجھے طلاق دی اور تصفیے کی رقم کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا اور عدالت نے بھی اس کے حق میں فیصلہ دے دیا۔“برطانوی اخبار لکھتا ہے کہ جب بات طلاق کی ہو تو اس میں جنس کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا اور جو مرد مالدار خواتین سے شادیاں کرتے ہیں وہ اکثر بیویوں سے طلاق کے تصفیے کی رقوم وصول کرتے رہتے ہیں۔سٹیو اور جین کا مقدمہ اس کی تازہ ترین مثال ہے۔ اگرچہ یہ کہا جاتا ہے کہ خواتین ہی ہمیشہ مالدار مردوں سے شادی کو ترجیح دیتی ہیں لیکن سٹیو نے ثابت کر دیا ہے کہ مرد بھی پیسے کے لیے شادی کر سکتے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...