ٹی ٹونٹی ورلڈکپ اورپاکستانی ٹیم!

ٹی ٹونٹی ورلڈکپ اورپاکستانی ٹیم!
ٹی ٹونٹی ورلڈکپ اورپاکستانی ٹیم!

  



انڈیا میں جاری ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کے پہلے راؤنڈ میں ہی پاکستانی کرکٹ ٹیم باہر ہوچکی ہے ۔ موجودہ ورلڈ کپ میں ٹیم کی کارکردگی پر ایک نظر ڈالی جائے تو ٹورنامنٹ کے افتتاحی میچ میں پاکستان نے اپنے سے نسبتاً آسان حریف بنگلہ دیش کو پوری طرح سے قابو کرکے مخالف ٹیموں کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی، لیکن اس کے بعد نہ جانے گرین شرٹس کو کس کی نظر لگ گئی کہ بھارت کے خلاف ٹیم کی پر فارمنس پہلے میچ کی نسبت بالکل الٹ دکھائی دی ۔ پاک بھارت میچ میں کئی فیکٹر نمایاں رہے ۔ ایک تو پاکستان اور بھارت مخالفت کی وجہ سے یہ ٹورنا منٹ کا سب سے بڑا ٹا کرا تھا ،پھر بہت بڑے ہوم کراؤڈ اور کسی بھی بڑے ایونٹ میں پاکستان سے نہ ہارنے کی وجہ سے انڈیا کو نفسیاتی برتری حاصل تھی، جس کی وجہ سے پاکستانی ٹیم یہ پریشر برداشت نہ کرسکی، بلکہ مزید دباؤ کا شکا ر ہو گئی اور 18, 18 اوورز کے میچ میں انڈیا کو 119 رنز کا آسان ہدف دیا ،جسے انڈین بیٹس مینوں نے آسانی سے پورا کرلیا۔ یہاں ٹیم مینجمنٹ کی اہلیت بھی کھل کر سامنے آ گئی ۔ ایک طرف تو میچ سے کئی گھنٹے قبل بارش ہوتی رہی ،لیکن دوسری طرف ہماری مینجمنٹ نے بجائے سپنرز کو چانس دینے کے زیادہ انحصار پیسر پر کیا جسے ایک عجیب وغریب فیصلہ ہی کہا جا سکتا ہے ۔ ٹیم انتظامیہ کو ذہن میں رکھنا چاہیے تھا کہ اگر انڈیا ٹاس جیت گیا تو یقیناًپاکستان کو بیٹنگ کی دعوت دے گا۔ ہوا بھی یہی کہ دھونی الیون نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کو ترجیح دی اور پاکستانی بیٹس مینوں کو سپنرز کے جال میں پھنسا دیا۔

مسلسل بارش کی وجہ سے ایک تو پچ بہت زیادہ ٹرن لے رہی تھی دوسرا ہمارے اوپنرز نے بھی رہی سہی کسر نکال دی ۔ اندازہ لگائیں کہ آدھے اوور گزرنے کے بعد ہمارا سکو رصرف 42 تھا ۔ اس اہم ترین میچ میں پلاننگ نام کی کوئی چیز دکھائی نہ دی ،لیکن مینجمنٹ نے یہ کہہ کر جان چھڑا لی کہ غلطیاں ہوئی ہیں ،ازالہ کریں گے۔ اپنی غلطیوں پر قابو پانے کا عزم لے کر شاہین نیوزی لینڈ کے خلاف میدان میں اترے ،لیکن ایسا لگتا تھا کہ جیسے سارا پلان ہی غلط ہو گیا ہو ۔ نیوزی لینڈ کے خلاف اہم ترین میچ میں ایک بیٹنگ سپورٹنگ وکٹ پر بد قسمتی سے پاکستان ٹاس ہار گیا جس کا پورا پورا فائدہ نیوزی لینڈ کے بلے بازوں نے اٹھایا اور پاکستان کو ایک بڑا ٹارگٹ دے دیا ۔ جواب میں پاکستانی اوپنر شرجیل خان نے دھواں دھار بیٹنگ کر کے نیوزی لینڈ کے کیمپ میں ہل چل مچا دی، لیکن شرجیل خان کے آؤٹ ہوتے ہی باقی بیٹس مینوں نے اتنی سست روی سے بیٹنگ کرنا شروع کردی کرکٹ پنڈت حیران رہ گئے ۔ یوں لگتا تھا کہ ٹونٹی ٹونٹی میچ کی بجائے ڈرا کی جانب گامزن کوئی ٹیسٹ میچ کھیلا جا رہا ہے۔ سٹار بیٹس مینوں کی کریز پر موجودگی کے باوجود آخری پانچ اوورز میں کوئی بھی باؤنڈری نہ لگ سکی ،یوں پاکستان نے نہ صرف جیت کی پوزیشن میں آکر ایک آسان میچ گنوا دیا ،بلکہ تقریباً واپسی کی اڑان بھرنے کا ٹکٹ بھی کٹوا لیا۔

اس میچ کے بعد بہت ساری کہانیاں منظر عام پر آئیں،۔ جن میں زیادہ تر یہی کہا جانے لگا کہ پاکستانی بیٹس مین نیوزی لینڈ کے خلاف نہیں بلکہ کپتان شاہد آفریدی کے خلاف کھیل رہے تھے۔ شاہد آفریدی بھی میچ کے آ خر میں بہت مایوس دکھائی دیئے ۔ کچھ حلقوں کی جانب سے یہ خبریں بھی سننے کو ملیں کہ ٹیم گروپ بندی کا شکار ہو چکی ہے او ر چند کھلاڑی شاہد آفریدی کو سائیڈ پر کرنا چاہتے ہیں۔ اس میں سچائی اور حقیقت کس حد تک ہے، اس کی تحقیق ضروری ہے۔ ٹی ٹونٹی فارمیٹ ون ڈے کرکٹ سے کافی مختلف ہے جس میں ہر ٹیم ایسے کھلاڑیوں کو شامل کرتی ہے جو مار دھاڑ میں ماہر ہوں، لیکن عجیب اتفاق ہے کہ اگر تھوڑی سی ایوریج بڑھ جائے تو ہمارے بلے بازوں کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں۔ آخری اوورز کے لئے ہمار ے پاس اس وقت ایک بھی ایسا ہٹر نہیں جو لگا تار چوکے چھکے لگا کر میچ کا پانسہ پلٹ سکے ۔

گئے دنوں کی بات ہے جب اختتامی اوورز میں مایہ ناز آل راؤنڈر عبدالرزاق دنیا کے چوٹی کے بالرز کی گیندیں گراؤنڈ کے چاروں طر ف پھینکتا تھا اور تن تنہا میچ جتوا دیتا تھا ، لیکن وہ بیچارہ بھی سازشی عناصر کی ایسی بھینٹ چڑھا کہ اب قصہ پارینہ ہو چکا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ افراد نہیں ادارے مضبوط ہونے چاہئیں۔ خیر پاکستان اور نیوزی لیند کے میچ کے بعد بھی اگلے مرحلے تک جانے کے لئے پاکستان کے لئے ایک چانس اور امید کی کرن تھی جس سے کرکٹ شائقین جڑے ہوئے تھے کہ اگر پاکستان آسٹریلیا کو شکست دے دے اور پھر آسٹریلیا بھارت کو ہرا دے تو گروپ میں موجود تینوں ٹیمیں پاکستان، آسٹریلیا اور بھارت چار چار پوائنٹس کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل پر برابری کی سطح پر آ جائیں گی ،یو ں بہتر رن ریٹ کی بنیاد پر پاکستان میگا ایونٹ کے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرلے گا، لیکن اگر مگر کی یہ صورتِ حال بھی اس وقت اپنے اختتام کو پہنچ گئی، جب ہمار ی ٹیم نہ صرف آسٹریلیا سے ہار گئی، بلکہ ٹائٹل کی دوڑ سے بھی باہر ہو گئی ۔ آسٹریلیا کے خلاف اپنے آخری میچ میں پاکستانی ٹیم مکمل طور پر آف کلر نظر آئی ۔ آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے سکور 194 رنز تک پہنچا دیا ۔ بعد میں پاکستانی بلے بازوں نے میچ میں جان ڈالنے کی کوشش کی، لیکن ہدف بڑا ہونے کی وجہ سے ہار کا سامنا کرنا پڑا ،یوں ہماری ٹیم کا سفر اپنے اختتام کو پہنچا ۔ یہ الگ بات کہ خود آسٹریلیا بھی انڈیا سے ہار کر ٹورنا منٹ سے باہر ہو چکا ہے۔ہماری ٹیم کی فیلڈنگ آج تک ٹھیک نہیں ہوسکی ، اگر اچھی فیلڈنگ کی جائے تو ہر میچ میں آٹھ دس رنز بچائے جاسکتے ہیں جو آخر میں میچ وننگ ثابت ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے باؤلر ز بھی بعض اوقات لائن و لینگتھ بھول جاتے ہیں ۔اس ٹورنامنٹ میں تو کچھ زیادہ ہی فراخ دلی کا مظاہرہ دیکھنے کو ملا ۔

دنیا کے زبردست باؤلنگ اٹیک کے ہوتے ہوئے مخالف ٹیمیں رنز کا انبار لگا دیں تو سمجھ سے بالاتر ہے ، اس لئے ضروری ہے کہ بالرز کا بھی محاسبہ کیا جائے اور صرف بیٹنگ ہی نہیں، باؤلنگ کے شعبے پر بھی بھر پور توجہ دی جائے کیونکہ اچھی فیلڈنگ ، باؤلنگ اور بیٹنگ تینوں شعبوں میں 100 فیصد کارکردگی دکھا کر ہی میچ جیتا جاسکتا ہے ۔ خیر اس وقت صورت حال یہ ہے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیڈ کوچ وقار یونس شکست کی وجوہات پر مبنی رپورٹ تیار کر چکے ہیں جو چند روز میں منظر عام پر آجائے گی، اس کے علاوہ چیئرمین پی سی بی شہریار خان نے بھی ٹیم انتظامیہ میں ردوبدل اور ناقص پرفا رمنس کے حامل کھلاڑیوں کو ٹیم سے نکالنے کا عندیہ دے دیا ہے ۔ اب ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر موجودہ ٹیم کے زیادہ کھلاڑی باہر کردیئے جائیں تو بھی ہمارے یہاں پلیئرز کی لائن نہیں لگی ہوئی۔ آسٹریلیا اور دوسرے ممالک میں جو بھی کھلاڑی ٹیم میں آتا ہے، وہ ریکارڈ پر ریکارڈ بنا دیتا ہے ،ہمارے پاس گنتی کے چند مخصوص پلیئرز ہیں جو ان آؤٹ ہوتے رہتے ہیں ۔ اس کا واحد حل یہی ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ کا ڈھانچہ مضبوط کیا جائے تاکہ ایمرجنگ او ر نئے کھلاڑی ابھر سکیں۔ اگر ہم واقعی ٹیم کو دوبارہ بلندی پر لے جانا چاہتے ہیں تو پاکستان کرکٹ بورڈ کو سخت اور میرٹ پر مبنی فیصلے کرنا ہوں گے۔

مزید : کالم