فلمی ا دبی شخصیات کے سکینڈلز ۔ ۔۔ 44ویں قسط

فلمی ا دبی شخصیات کے سکینڈلز ۔ ۔۔ 44ویں قسط
فلمی ا دبی شخصیات کے سکینڈلز ۔ ۔۔ 44ویں قسط

  

ہوا یہ کہ ان کے ایک دوست کسی فلم کمپنی میں اسکرین پلے لکھتے تھے۔ انہیں کمپنی والوں نے ایک بنگالی ناول سے کہانی بنانے کی ہدایت کی۔ وہ بہت کوشش کرتے رہے مگر بات نہ بنی۔ احمد صاحب سے تذکرہ کیا تو انہوں نے ایک نظر بنگالی ناول پر ڈالی اور دو دن میں اسکرین پلے لکھ کر دے دیا۔ وہ صاحب جب یہ اسکرین پلے لے کر فلم کمپنی میں پہنچے تو سیٹھ نے دریافت کیا کہ یہ اسکرین پلے کس نے لکھا ہے ؟

انہوں نے بتایا کہ میرے ایک دوست نے لکھا ہے‘ وہ بنگلہ بھی جانتے ہیں۔

سیٹھ نے کہا ’’ان سے مجھے ضرور ملاؤ۔‘‘

تینتالیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

دوست کے اصرار پر احمد صاحب ملاقات کے لئے سیٹھ کے پاس چلے گئے۔ سیٹھ نے انہیں قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ تو پیدا ہی اسکرین پلے لکھنے کے لئے کئے گئے ہیں۔ احمد صاحب نے بہت عذر کئے مگر سیٹھ صاحب پیچھے پڑ گئے۔ کچھ انہیں بھی فلم کا شوق تھا۔ یہ طے پایا کہ چند روز رک کر احمد صاحب‘ سیٹھ صاحب کی کہانی مکمل کر دیں گے۔ کہانی مکمل ہوئی تو سیٹھ صاحب گلے کا ہار بن گئے ادھر احمد صاحب کو بھی فلمی دنیا کی بابت معلومات حاصل ہوئیں۔ خلاصہ یہ کہ انہوں نے اعلیٰ تعلیم اور انگلستان کے سفر کا ارادہ ملتوی بلکہ منسوخ کر دیا ار بمبئی میں فلم سازی کرنے کا پروگرام بنا لیا۔

احمد صاحب بہت خوبصورت گفتگو کرتے ہیں‘ دلائل اور منطق پیش کران پر ختم ہے۔ ان کی باتوں میں جادو تھا بلکہ آج بھی ہے۔ چنانچہ ان کی شیریں بیانی کی وجہ سے انہیں بمبئی میں سرمایہ مل گیا۔ احمد صاحب نے فوراً ایک بہت بڑے پیمانے پر منصوبہ بنا لیا۔ وسائل کی کمی نہ تھی اس لئے اس پر عمل درآمد بھی ہو گیا۔ شالیمار اسٹوڈیو بھی بن گیا۔ انڈیا میں احمد صاحب کی پہلی فلم ’’ایک رات‘‘ تھی جس میں پرتھوی راج ہیرو تھے اور نینا ہیروئن تھیں۔ یہ فلم انتہائی کامیاب ثابت ہوئی بلکہ اس نے سارے ہندوستان کو چونکا دیا۔ فلم کا موضوع‘ ہدایت کاری‘ مکالمے‘ اداکاری اور سب سے بڑھ کر چھوٹے چھوٹے علامتی ٹچ ایسے تھے جو فلم بینوں کے دلوں میں اتر گئے۔ احمد صاحب کی فلموں میںیہ خوبیاں ہمیشہ رہی ہیں‘ وہ اعلیٰ درجے کے لکھنے والے اور اس سے بھی بلند پایہ ہدایت کار ہیں۔ ایسے فنکارانہ ٹچ لگاتے ہیں جو دیکھنے والے کے دل کو چھو لیتے ہیں ’’ایک رات ‘‘ ایک تازہ ہوا کے جھونکے کے مانند تھی۔ اس پہلی فلم سے ہی ڈبلیو زیڈ احمد نے ہندوستان کی فلمی صنعت میں اپنا لوہا منوالیا۔

لیکن ٹھہرےئے۔ اس کہانی کو آگے بڑھانے سے پہلے ضروری ہے کہ کچھ احمد صاحب کی بیگم اور ان کی فلموں کی ہیروئن کے بارے میں بیان کر دیا جائے۔ فلمی الف لیلیٰ کے آغاز میں بھی ان کا مختصر تعارف کرا چکے ہیں۔ اب کچھ مزید سنئے احمد صاحب نے اپنی بیگم شاہدہ کو اپنی فلموں میں ’’پراسرار نینا‘‘ کے نام سے پیش کیا اور ان کی پر اسراریت کی ایسی دھواں دھار پبلسٹی کی کہ فلم ریلیز ہوئی تو ہر شخص یہ دیکھنے کے لئے سنیما پر ٹوٹ پڑا کہ آخر نینا میں ایسی کون سی پراسراریت ہے ؟ اسرار کوئی بھی نہیں تھا لیکن دیکھنے والوں کو ایک دلکش اور نہایت باوقار ہیروئن نظر آئی۔ ان کی شخصیت میں ایک خاص قسم کی کشش تھی۔ اداکاری وہ بالکل حقیقی اور سادہ کرتی تھیں اور وہی ان کی اداکاری کی خوبی قرار دی گئی۔

شاہدہ بیگم علی گڑھ کے ایک بہت بڑے اور روشن خیال خاندان کی بیٹی تھیں۔ انہوں نے یا ان کے خاندان والوں نے کبھی خواب و خیال میں بھی ان کے اداکارہ بننے کے بارے میں نہیں سوچا ہوگا۔ انہیں اداکاری سے کبھی دلچسپی نہیں رہی۔ نہ ہی انہیں فلمی دنیا سے وابستگی کا شوق تھا۔ اداکاری میں ان کی عدم دلچسپی کا اندازہ ان کی فلمیں دیکھ کر بھی ہو جاتا ہے۔ بس یوں لگتا تھا جیسے کوئی فرض ادا کر رہی ہیں لیکن ان کی پرکشش شخصیت اور سراپا کی پاکیزگی کے باعث وہ فلم بینوں کو دوسری ہیروئنوں سے بالکل مختلف نظر آتی تھیں۔

شاہدہ بیگم نے علی گڑھ سے بے اے پاس کیا تھا اور ان کی شادی ایک تعلیم یافتہ نوجوان محسن عبداﷲ سے ہوئی تھی۔ محسن عبداﷲ بمبئی کی لیباریٹری میں انجینئر کے طور پر کام کرتے تھے گویا فلمی دنیا سے وابستہ تھے۔ فلم سے ان کا ایک تعلق یہ بھی تھا کہ ان کی بہن رینو کا دیوی کے نام سے فلموں میں اداکاری کرتی تھیں اور نامور ہیروئن تھیں۔ یہ وہی خاتون ہیں جو بعد میں پاکستان آ کر بیگم خورشید مرزا کے نام سے جانی گئیں اور ٹی وی ڈراموں میں بہت مقبول ہوئیں اب ان کا انتقال ہو چکا ہے۔

احمد صاحب کی ملاقات شاہدہ بیگم یعنی مسز محسن عبداﷲ سے ہوئی تو انہیں خیال گزرا کہ وہ بہت اچھی ہیروئن بن سکتی ہے لیکن ان کے شوہر اس بات کے حق میں نہ تھے۔ احمد صاحب بذات خود اس وقت شادی شدہ تھے۔ا ن کی شادی سندھ کے ایک بہت بڑے خاندان میں ہوئی تھی۔ سر غلام حسین ہدایت اﷲ جو قیام کے بعد سندھ کے گورنر بھی بنے تھے‘ احمد صاحب کے خسر تھے۔ اس طرح جب احمد صاحب اور شاہدہ بیگم آمنے سامنے ہوئے تو دونوں شادی شدہ تھے۔ بعد میں محسن عبداﷲ اور ان کی بیگم کے مابین اختلافات پیدا ہو گئے۔ کچھ لوگ اس کی ذمے داری محسن عبداﷲ کے طرز عمل پر ڈالتے ہیں۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ احمد صاحب نے سوچ سمجھ کر ان اختلافات کو بڑھایا۔ سعادت حسن منٹو نے بھی اس موضوع پر لکھا تھا‘ ان کا کہنا تھا کہ احمد صاحب ہر کام طویل منصوبہ بندی کے تحت کرتے ہیں چنانچہ شاہدہ بیگم کو حاصل کرنے کے لئے بھی انہوں نے ایک طویل المیعاد منصوبہ بنایا تھا۔ بہر حال‘ حقیقت کیا تھی اﷲ بہتر جانتا ہے۔ لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ شاہدہ بیگم اور محسن عبداﷲ میں پہلے عارضی علیحدگی ہوئی پھر کچھ عرصے بعد طلاق بھی ہو گئی۔

اس دور کے ایک مشہور اداکار ہمالیہ والا تھے۔ ان کا اصل نام محمد افضل تھا۔ وہ ہندوستان کے پہاڑی شہر دار جلنگ کے رہنے والے تھے۔ بہت بڑے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے دوسرے تمام بھائی او رشتے دار اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ وہ ہندوستان میں بھی بڑے اہم عہدں پر فائز رہے اور پاکستان آنے کے بعد بھی اپنی قابلیت اور صلاحیت کے بل بوتے پر بڑے بڑے کام کرتے رہے۔ مگر افضل صاحب کا قصہ سب سے مختلف تھا۔ ان کا پڑھنے لکھنے میں بالکل دل نہیں لگتا تھا اس لئے انہوں نے پڑھنے کا نام ہی نہیں لیا۔ وہ آزاد منش اور بے پروا قسم کے نوجوان تھے۔ قدوقامت‘ صورت شکل اور بارعب آواز کی بدولت نمایاں شخصیت کے مالک تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انہیں اداکار بننے کا شوق تھا۔ عام طور پر یہ بات مشہور ہے کہ فلمی دنیا میں جا کر لوگ بگڑ جاتے ہیں لیکن ہمارا تجربہ اور مشاہدہ یہ ہے کہ بگڑے ہوئے لوگ ہی فلم انڈسٹری میں آتے ہیں اور نام انڈسٹری کا بدنام ہو جاتاہے۔ ہمارے ایک دوست نے ایک بار اس قسم کے لوگوں کے سروے کرنے کے بعد لکھا تھا کہ ہر اچھے خاندان کا گندہ انڈا ہی فلم انڈسٹری کا رخ کرتا ہے۔ ہم نے بھی یہی دیکھا کہ فلمی صنعت میں جو لوگ بری عادتوں میں مبتلا تھے فلموں سے متعلق ہونے سے پہلے بھی وہ ایسے ہی تھے۔

افضل صاحب نے وہی کیا جو ہندوستان کا ہر فلم زدہ نوجوان کیا کرتا تھا۔ انہوں نے ریل کا ٹکٹ لیا اور سیدھے بمبئی پہنچ گئے۔ بانکے چھبیلے اور بلند و بالا مردانہ وجاہت کے مالک تھے اس لئے انہیں فلموں میں کام حاصل کرنے کے لئے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔ شکل و صورت‘ قدوقامت اور آواز کی بدولت وہ بہت جلد مشہور ویلن بن گئے۔ بمبئی میں انہوں نے بہت سی اچھی عادتیں بھی سیکھیں مثلاً وقت کی پابندی۔ وعدہ ایفا کرنے کی عادت۔ دراصل بمبئی میں ہندوستان کے سارے صوبوں کے لوگ فلمی دنیا میں موجود تھے۔ اردو تو خیر بولی ہی جاتی تھی مگر پڑھے لکھے لوگ عموماً انگریزی میں بات چیت کرتے تھے۔ ہمالیہ والا نے باقاعدہ انگریزی کی تعلیم تو حاصل کی نہیں تھی مگر وہ محض بول بول کر انگریزی بولنے کے عادی ہو گئے تھے اور ان کی شخصیت اور ان کی شخصیت اور لب و لہجے سے سننے والا اتنا مرعوب ہو جاتا تھا کہ ان کی انگریزی میں غلطیاں نکالنے کا اسے ہوش ہی نہیں رہتا تھا۔

ہمالیہ والا نے بمبئی میں اچھا وقت گزارا تھا۔ بہت زندہ دل اور بے فکرے قسم کے آدمی تھے۔ فلموں میں کامیابی حاصل ہوئی تو پیسے بھی کمائے اور نام بھی پایا۔ مگر جب پاکستان آئے تو حالات ہی مختلف پائے۔ یہاں تو فلمیں ہی نہیں بنتی تھیں‘ کام کہاں سے ملتا۔ مگر ہمالیہ والا ایک نامور شخصیت اور جانے پہچانے اداکار تھے۔ا نہیں اپنا ٹھاٹ باٹ اور وضع داری ہر صورت میں برقرار رکھنی تھی۔ اپر مال پر ملکہ اسٹوڈیو کے نزدیک انہوں نے ایک وسیع و عریض کوٹھی حاصل کی۔ دو چار ملازم رکھے اور جو پیسے بمبئی سے بچا کر لائے تھے وہ گھریلو سامان کی خریداری میں صرف کر دیے۔ ایک عدد کار بھی خرید لی کیونکہ بہر حال بمبئی کے مشہور اداکار تھے۔ کار ان کے لئے ایک لازمی ضرورت تھی۔ شروع میں ان کے پاس چھوٹی مورس مائیز کار تھی۔ جب فلمی صنعت نے کروٹ بدلی اور حالات بہتر ہوئے تو بڑی لمبی چوڑی امریکن پیکارڈ کار خرید لی۔ اس کی چھت کھلی ہوئی تھی۔ شام کے وقت جب وہ اپنے بے تکلف دوستوں کے ساتھ اس کھلی چھت کی کار میں ہوا خوری کو نکلتے تھے تو لوگ مڑ مڑ کر دیکھنے لگتے تھے۔ ایک تو کاریں ہی اس زمانے میں برائے نام تھیں۔ اس پر بڑی‘ لمبی چوڑی امریکن پیکارڈ اور اس میں تشریف فرما ہمالیہ والا جیسے اداکار کو سبھی دیکھنے پر مجبور ہو جاتے تھے۔

ہمالیہ والا بہت اچھے اداکار تھے۔ا داکاری کی صلاحیتوں کے علاوہ قدرت نے انہیں مردانہ وجاہت کا نمونہ بنایا تھا۔ چھ فٹ سے نکلتا ہو اقد۔ اس کے مطابق ڈیل ڈول۔ بڑی بڑی آنکھیں۔ گھونگریالے بال ( جو بعد میں بہت کم رہ گئے تھے )موزوں ناک نقشہ‘ کھلتا ہوا گندمی رنگ اور بہت مرعوب کن بھاری بھرکم آواز۔ ان چیزوں کی آمیزش کا نام ہمالیہ والا تھا۔ بہت با اخلاق اور خوش مزاج آدمی تھے۔ ہم نے انہیں بہت کم غصے کی حالت میں دیکھا۔ مگر غصے میں بھی بہت رکھ رکھاؤ کا مظاہرہ کرتے تھے۔ لڑائی جھگڑا یعنی ہاتھا پائی انہیں پسند نہیں تھی۔ طبعاً صلح کل آدمی تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کی واحد اور پہلی جنگ غالباً ڈبلیو زیڈ احمد صاحب کے ساتھ لڑی اور بڑی باقاعدگی اور حوصلے کے ساتھ لڑی۔ وہ پنجے جھاڑ کر احمد صاحب کے پیچھے پڑ گئے۔ ہمارے خیال میں احمد صاحب کی زندگی میں ہمالیہ والا ہی ایسے آدمی تھے جس نے احمد صاحب کو زچ کر دیا تھا۔ اس کے سوا ان کی کوئی لڑائی ہمیں یاد نہیں۔

ایک بار شاہ نور اسٹوڈیو میں ان کا علی ایڈیٹر سے جھگڑا ہو گیا۔ علی صاحب دبلے پتلے تھے۔ مگر جب ہاتھا پائی پر اترہی آئے تو ہمالیہ والا پریشان ہو گئے ’’ارے بھئی زبان سے بات کیجئے۔ دور سے بات کیجئے۔ بے قابو ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ‘‘

اب منظریہ تھاکہ ہمالیہ والا آگے آگے تھے اور علی صاحب پیچھے پیچھے۔ اس روز انہوں نے شاہ نور اسٹوڈیو کے بے شمار گملے ایک دوسرے کو مار مار کرتوڑ دیے۔ ہمالیہ والا صرف جوابی کاروائی میں دفاعی کاروائی کے طور پر گملے مار رہے تھے۔ورنہ علی کو زخمی کرنے کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ اگروہ علی صاحب کی کلائی پکڑ لیتے تو وہ چھڑانے میں کامیاب نہ ہوتے مگر بتایا نا کہ وہ لڑائی جھگڑے سے بچتے تھے۔

ہمالیہ والا بہت دلچسپ آدمی تھے۔ دوستوں کے دوست، چھڑے چھانٹ تھے اور کافی عمر تک کنوارے رہے۔ غالباً چالیس پنتالیس کے لگ بھگ ہوں گے جب انہوں نے ایک گھریلو خاتون سے شادی کر لی تھی۔ اس شادی کا واقعہ بھی بہت دلچسپ ہے۔ہمالیہ والا کو توساری زندگی کنوارے رہنے کی عادت پڑ گئی تھی۔ بے پروا اور بے فکرے انسان تھے۔ جہاں بیٹھ گئے بیٹھ گئے۔ پینے پلانے میں بھی اعتدال کی راہ نہیں اپناتے تھے اور زیادتی کی صورت میں کئی بار بہک بھی جاتے تھے۔ ایک بار لاہور اور کراچی کے فلمی ستارے سیلاب زدگان کی مدد کے سلسلے میں کرکٹ میچ کھیلنے کی صورت میں ڈھاکہ اور چٹاگانگ گئے تو ہم بھی منتظم کے طور پر ساتھ تھے۔ یہ غالباً 65 ء یا 60ء کا وا قعہ ہے۔ ڈھاکہ کے سب سے شاندار ہوٹل شاہ باغ میں فلم کا قافلہ ٹھہرا ہوا تھا۔یہ پہلا موقع تھا کہ مغربی پاکستان کے فلمی ستارے مشرقی پاکستان گئے تھے۔ ائر پورٹ پر لوگوں کا اتنا ہجوم تھا کہ لوگ عمارت کی چھت پر بھی چڑھے ہوئے تھے۔ ائر پورٹ کے دروازے کھڑکیاں اور شیشے ٹوت گئے۔ بڑی مشکل سے پولیس نے فلمی ستاروں کو حفاظت کے ساتھ ہوٹل پہنچایا۔ وہاں بھی سیکڑوں ہزاروں کا مجمع تھا۔ مغربی پاکستان کی فلمیں مشرقی پاکستان میں ریلیز ہوتی رہتی تھیں۔ مگر اس سے پہلے فلم ’’ سسی ‘‘ نے مشرقی پاکستان میں بے حد مقبولیت حاصل کی تھی۔ اس کی ہیروئن صبیحہ اور ہیرو سدھیر تھے مگر پبلک کو ان سے زیادہ مزاحیہ اداکارنذر کی طلب تھی۔ جنہوں نے شیر گل کے نام سے کردار کیا تھا۔ ہر طرف ’’شیر گل شیر گل ‘‘ کے نعرے بلند ہوا کرتے تھے۔ فلمی ہیروئنوں کو چھوڑ کر لوگ نذر کے پیچھے آٹو گراف لینے کے لئے دوڑا کرتے تھے۔ ہوٹل کے سامنے رات دن لوگوں کا جمگھٹا لگا رہتا تھا۔ ڈھا کہ کا ہر صاحب حیثیت شخص فلمی ستاروں کو مدعو کرنیکا خواہاں تھا مگر یہ ممکن نہ تھا۔

جاری ہے۔ پنتالیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید : فلمی الف لیلیٰ