سٹریٹ فائٹرکی ان کہی داستان، پچاسویں قسط

سٹریٹ فائٹرکی ان کہی داستان، پچاسویں قسط
سٹریٹ فائٹرکی ان کہی داستان، پچاسویں قسط

  

اس زمانے میں ساری ساری رات میچ ہوتے تھے لہٰذا وسیم اکرم کو بھی رات گھر سے باہر رہنا پڑتی۔کئی بار ہم اسے گھر چھوڑ کر آتے تھے۔وہ گھر جاتے ہوئے گھبراتا اور کہتا، دیدی مجھے مارے گی۔ وہ ماں کو دیدی کہہ کر پکارتا تھا۔ راتوں کو گھر سے غائب رہنے کی اس عادت سے تنگ آکر دیدی نے ایک روز اس کی خوب دھلائی کی۔ ماں سے مار کھانے کے بعد وسیم اکرم نے مجھے بتایا کہ یامین بھائی آج دیدی نے مجھے کپڑے دھونے والے تھاپے سے مارا ہے۔وسیم اکرم کی والدہ گھر سے باہر رہنے اور پڑھائی میں دلچسپی نہ لینے پر اسے بہت مارتی تھیں۔

اس کے باوجود وسیم اکرم کرکٹ سے تائب نہ ہوا۔ اگرچہ وہ شرمیلا اور کم گو تھا لیکن شرارتی لڑکوں کے ساتھ اچھرہ کی نہر پر نہانے بھی جاتاتھا۔ لڑکے اس کے شرمیلے پن کا فائدہ اٹھا کر اسے چھیڑتے تو وہ لڑکیوں کی طرح چھوئی موئی ہو جاتا۔ اس پر اس کئی دوست فقرے کستے کہ وسیم تو لڑکیوں کی طرح شرماتا ہے۔

49ویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ایک روز دوپہر کے وقت وسیم اپنے دوستوں کے ساتھ اچھرہ کی نہر پر نہا رہاتھا کہ دوستوں نے اس کے بارے کپڑے چھپا دیئے۔ وسیم جب نہا کر باہر نکلا تو کپڑے غائب دیکھ کر پریشان ہو گیا۔دوستوں نے اس کی خوب درگت بنائی اور اسے خوار کیا۔ اس کے باوجود وسیم نے دوستوں کو نہیں چھوڑا۔ مجھے جب اس واقعہ کا علم ہوا تو میں نے لڑکوں کو منع کیا کہ آئندہ وہ وسیم کے ساتھ کوئی مذاق نہیں کریں گے۔

میں نے یوتھ کلب کے چند اصول بنائے ہوئے تھے۔ میری کلب کا کھلاڑی دوسری ٹیم میں نہیں کھیل سکتا تھا۔ ایک روز معلوم ہوا کہ وسیم اکرم نے عارف حیات روکڑی کی کلب شائننگ کلب کی طرف سے میچ کھیلا ہے تو میں نے اسے دکان پر بلا کر سرزنش کی اور اسے25روپے جرمانہ کر دیا۔ میں جانتا تھا کہ وسیم اکرم کے لیے25روپے ادا کرنا بہت مشکل بلکہ نا ممکن بات ہو گی۔ مگر میں نے کوئی رعایت نہ کی اور اسے صاف صاف کہا۔’’وسیم اگر تم نے ہماری کلب میں کھیلنا ہے تو پہلے جرمانہ ادا کرو،دوسری صورت میں تمہیں اجازت ہے کہ دوسری کلب جوائن کرلو‘‘۔

مجھے معلوم تھا کہ وسیم اکرم یہ بھاری جرمانہ ادا نہ کر سکے گا۔دو تین روز تک وہ کرکٹ کھیلنے نہ آیا تو میں نے بھی اس کی خبر نہیں لی۔ حالانکہ مجھے دکھ ہو رہا تھا کہ میرے اس طرح کے رویے سے مستقبل کا کرکٹر ضائع بھی ہو سکتا ہے،مجھے یہ بھی معلوم تھا کہ وسیم دوسرے علاقے میں جاکر راتوں کو کرکٹ نہیں کھیل سکتا تھا۔ کیونکہ اس طرح اسے گھر سے جو مار پڑتی اس کا اندازہ نہیں کر سکتا تھا۔تیسرے روز وسیم آیا اور اس نے25روپے جرمانہ ادا کر دیا۔ میں نے اس سے پوچھا پیسے چوری تو نہیں کئے۔

’’نہیں۔۔۔‘‘اس نے معصومیت سے کہا’’میں نے تین دن کا جیب خرچ اکٹھا کیا ہے اور بھائی سے بھی کچھ پیسے لئے ہیں‘‘۔

میں نے پیسوں سے پوری ٹیم کی دعوت کی اور آئندہ کے لئے دوسرے تمام کھلاڑیوں کے لئے یہ مثال بن گئی پھر کسی نے کلب کا نظم و ضبط نہیں توڑا۔وسیم جب سے ہماری ٹیم میں شامل ہوا تھا ہم کوئی میچ نہیں ہارے تھے۔ہماری کلب کی شہرت دور دور تک پھیل گئی۔ اس دوران مین آف دی میچ اور بیسٹ باؤلر کی جو ٹرافیاں اسے ملیں وہ میری دکان پر آج بھی شو کیس میں پڑی ہیں۔یہ ساری عزت اور شہرت وسیم اکرم کی ہی بدولت تھی۔ اس وقت سب کو یقین ہو چکا تھا کہ وسیم ایک روز بڑا کھلاڑی بن جائے گا مگر وہ بظاہر کسی اونچے مقام کے لئے تگ و دو کرتا نظر نہیں آرہا تھا۔پھر ایک روز مجھے معلوم ہوا کہ وسیم اکرم خان محمد کے کیمپ میں شامل ہو گیا ہے۔مجھے بے حد خوشی ہوئی۔میں نے اسے بلایا اور کہا:’’تم نے مجھے بتایا ہی نہیں کہ خان محمد کے کیمپ کے لیے منتخب ہو گئے ہو‘‘۔

اس پر وہ معصومیت سے بولا۔ یامین بھائی’’میرے پاس مزید25روپے نہیں ہیں‘‘؟اس بات پہ میں نے زور دارقہقہہ لگایا اور کہا۔

’’اب تم پر کوئی پابندی نہیں ہے،تم نے ثابت کر دیا ہے کہ تم اپنی کلب اور اپنے مقصد کے ساتھ سچے ہو‘‘۔

جاری ہے۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

دنیائے کرکٹ میں تہلکہ مچانے والے بائیں بازو کے باؤلروسیم اکرم نے تاریخ ساز کرکٹ کھیل کر اسے خیرباد کہا مگرکرکٹ کے میدان سے اپنی وابستگی پھریوں برقرار رکھی کہ آج وہ ٹی وی سکرین اور مائیک کے شہہ سوار ہیں۔وسیم اکرم نے سٹریٹ فائٹر کی حیثیت میں لاہور کی ایک گلی سے کرکٹ کا آغاز کیا تو یہ ان کی غربت کا زمانہ تھا ۔انہوں نے اپنے جنون کی طاقت سے کرکٹ میں اپنا لوہا منوایااور اپنے ماضی کو کہیں بہت دور چھوڑ آئے۔انہوں نے کرکٹ میں عزت بھی کمائی اور بدنامی بھی لیکن دنیائے کرکٹ میں انکی تابناکی کا ستارہ تاحال جلوہ گر ہے۔روزنامہ پاکستان اس فسوں کار کرکٹر کی ابتدائی اور مشقت آمیز زندگی کی ان کہی داستان کو یہاں پیش کررہا ہے۔

مزید : سٹریٹ فائٹروسیم اکرم