پاکستان میں عدالتی تماشہ لگایا گیا ہے: حسین حقانی

پاکستان میں عدالتی تماشہ لگایا گیا ہے: حسین حقانی

واشنگٹن (صباح نیوز)امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے کہا ہے کہ "پاکستان میں ایک عدالتی تماشہ لگایا گیا ہے،" جب کہ بقول ان کے "بین الاقوامی قانون میں سپریم کورٹ کے احکامات کی کوئی وقعت نہیں۔"انھوں نے کہا ہے کہ انھیں "اب تک کسی قسم کے کوئی عدالتی احکامات موصول نہیں ہوئے۔" امریکی نشریاتی ادارے کوایک خصوصی انٹرویو میں حسین حقانی نے کہا کہ "حقیقت یہ ہے کہ پہلے بھی یہ تماشہ لگایا گیا تھا۔ میمو گیٹ کا ایک ہنگامہ اور شور شرابہ ہوا۔ اس کے بعد چار چیف جسٹس آئے، جنھوں نے سماعت تک نہیں کی۔"جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا عدالتی احکامات ان کے لیے کیا معنی رکھتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ "نہ صرف میرے لیے، بلکہ باقی دنیا کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتے۔"انھوں نے کہا کہ "ساڑھے چھ برس بعد جب آپ مقدمہ کھولیں گے، تو باقی دنیا کی نگاہ میں اس کی کوئی وقعت نہیں ہوگی؛" اور یہ کہ "عدالت عظمی کے احکامات بھی بین الاقوامی قانون کے تابع ہوتے ہیں۔"حسین حقانی نے کہا کہ "اِس کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے جسے ملک بدری کہا جاتا ہے، جب ایسا ہوا تو اس کا مقابلہ کیا جائے گا، اور یہ کہ اس وقت یہ پتا چلے گا کہ دنیا کی نگاہ میں ایسے احکامات کی قانونی حیثیت کیا ہے۔"انھوں نے اِس بات کو غیر درست قرار دیا کہ وہ کہہ چکے ہیں کہ عدالت کا سامنا کرنے کے لیے پاکستان جائیں گے۔ بقول ان کے "میں نے یہ کبھی نہیں کہا۔ یہ بات بالکل جھوٹ ہے۔ میں تیار ہوں اگر تو قانونی چارہ جوئی کا طریقہ کار مروجہ ضابطوں کے مطابق ہو، مقدمے کی کوئی باقاعدہ کارروائی ہو۔ کسی یک طرفہ کارروائی کو باقی دنیا قانونی نہیں سمجھتی، اور میں بھی قانونی نہیں سمجھتا۔

حسین حقانی

مزید : کراچی صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...