کیا نگران وزیراعظم فرشتہ ہوگا؟

کیا نگران وزیراعظم فرشتہ ہوگا؟
کیا نگران وزیراعظم فرشتہ ہوگا؟

موجودہ وفاقی حکومت کی آئینی مدت چونکہ آئندہ 31مئی 2018ء کو ختم ہو رہی ہے، اس لئے مختلف سیاسی رہنما، مجوزہ عام انتخابات کے انعقاد کے لئے کوشش کررہے ہیں کہ نگران وزیراعظم کسی ایسی شخصیت کو نامزد کیا جائے جو ان کے مطالبات اور خواہشات پر جلد توجہ دے اور ان کو تسلیم کرے تاکہ حتیٰ المقدور بہتر مفادات حاصل کئے جاسکیں، جبکہ بعض حلقے تو یہ کہہ رہے ہیں کہ کیا نگران وزیراعظم کوئی فرشتہ ہوگا؟ نگران وزیراعظم بلاشبہ ایسا قابل احترام، غیر جانبدار اور آئین و قانون سے آگاہ و آشنا انسان ہونا چاہئے، جو اپنی آئینی اہلیت کی شرائط پوری کرنے کے ساتھ کسی اثر، دباؤ، لالچ اور ترغیب میں آئے بغیر اپنی تعین کردہ اہم ذمہ داری کو محنت و دیانت سے سر انجام دے، قابل غور امر یہ ہے کہ کیا نگران وزیراعظم غیر جمہوری عناصر کا غیر آئینی دباؤ مسترد کرنے کی جرأت کرسکے گا؟ اس بارے میں ماضی کے تجربات کو بھی پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے، جن کے دوران مندرجہ بالا نوعیت کا متوقع کردار پڑھنے اور سننے میں نہیں آیا، کیونکہ اہم شخصیات کی کارکردگی کے قابل ذکر واقعات کچھ عرصہ بعد ہی منظر عام پر آتے ہیں جبکہ وقتی طور پر تو ان پر خاموشی اور چشم پوشی اختیار کی جاتی ہے، بہر حال امید کی جانی چاہئے کہ ایسے تمام مقتدر حضرات اور حکام آئندہ اپنی ذاتی مرضی اور مفادات پر آئین و قانون کے عزت و احترام کو ترجیح دے کر ہی اپنے فرائض منصبی ادا کریں گے۔

نگران وزیراعظم سے ملک کے محب وطن عوام بجا طور پر یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ اپنی تعیناتی کے مختصر عرصہ کے دوران وسیع تر قومی مفاد پر مبنی کارکردگی اور خدمت خلق کو ہی اپنی اولیں ترجیح دینے کی پوری کوشش کریں گے، جبکہ مفاد پرست لوگ تو اپنے غیر قانونی اور ناجائز اور مذموم مقاصد کے حصول کی خاطر بااثر سیاست کاروں، جاگیرداروں، صنعت کاروں اور ہم عصر اور با اختیار افسران اور حکام کی سفارشات اور متعلقہ قواعد و ضوابط کی کارروائیوں پر رعایت طلب کرنے یا ان کو نظر انداز کرنے کے لئے ممکنہ ذرائع بروئے کار لانے کی تگ و دو کرتے ہیں، نیز وہ لوگ لاکھوں روپے کی رشوت بھی پیش کرتے ہیں تاکہ وہ کسی طرح اپنے مفادات کے حصول کو ہر صورت لے کے رہیں، یہ روش بد قسمتی سے اس سر زمین پر تاحال سرکاری دفاتر میں سالہا سال سے چل رہی ہے، اس لئے نگران وزیراعظم کے بھی اس کی زد میں آئے دن آتے رہنے کے خاصے امکانات ہیں، دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ ایسے ہوشیار، مکار، عیار اور نوسر باز لوگوں سے اپنا دامن کرپشن اور رشوت خوری سے بچا کر رکھ سکتے ہیں، ایسا کردار اپنانا بہت مشکل رویہ ہے لیکن انہیں جرأت و ہمت کا مظاہرہ کرنا چاہئے، نگران وزیراعظم کی سب سے اہم ذمہ داری آزادانہ و غیر جانبدارانہ عام انتخابات کا انعقاد ہوگا، اس معاملے میں ان کو اپنے اختیارات کسی خوف اور طرف داری کے بغیر استعمال کرکے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات پر امن طور پر منصفانہ کرانے کی کوشش کرنا ہوگی، اگرچہ بعض بڑی سیاسی جماعتوں کے راہنماؤں کی جانب سے انتخابی قوانین اور ضابطہ اخلاق کی تعمیل و تحریم کی خلاف ورزی پر کوئی توجہ نہ دینے کے مطالبات کئے جاسکتے ہیں، لیکن انتخابات کے غیر جانبدارانہ اور منصفانہ انعقاد کا امکان صرف اسی صورت میں ممکن ہے، کہ حریف امیدواروں کی قانونی اور واقعاتی طور پر درست اور جائر شکایات کا فوری طور پر ازالہ کرنے کے اقدامات کئے جائیں، سیاسی راہنما چونکہ عموماً با اثر اور افرادی قوت کے طور پر طاقتور لوگ ہوتے ہیں، اس لئے ان کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عام انتخابات میں کسی غلط کاری، بے ضابطگی، دھونس، دھاندلی، لڑائی جھگڑے اور ووٹوں کی دانستہ کم یا زیادہ گنتی کرنے میں کوئی غیر قانونی کردار ادا نہ کریں۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...