ایک اور 23 مارچ گزر گیا

ایک اور 23 مارچ گزر گیا
ایک اور 23 مارچ گزر گیا

عرف عام میں 23 مارچ کو پاکستانیوں کے لیے تجدید عہد کا دن قرار دیا جاتا ہے۔ملک کو باوقار و خوشحال بنانے کا عہد ۔ نفرتوں اور تعصبات مٹانے اور محبتوں کی مہک عام کرنے کا عہد ۔ دشمن کی سازشوں کے مقابلے میں سیسہ پلا ئی دیوار کی طرح ملک کو مضبوط بنانے کا عہد ۔

معاشی سرگرمیاں بڑھانے اور عام آدمی کے گھر تک خوشحالی پہنچانے کا عہد ۔ قوموں کی برادری میں سر اٹھا کر جینے کا عہد ۔ہر سال 23 مارچ کے موقع پر کچھ تقریریں ہوتی ہیں ۔ اخبارات میں مضامین چھپتے اور چیدہ چیدہ شخصیات کو تمغے اور میڈل دیئے جاتے ہیں ۔

24 مارچ کے دن سیاست دانوں کے رویوں میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی البتہ2018 کے 23 مارچ کو میاں محمد نوازشریف اور میاں محمد شہباز شریف کی جہد مسلسل نے کچھ حد تک مختلف بنایا ہے ۔ ا س موقع پر شریف برادران کی کارکردگی کے سنگ میل دیکھنے کو ملے ۔

ان کے اقتدار میں آنے سے پہلے ملک کے بڑے علاقے کو دھشت گردوں نے اپنی خونیں گرفت میں لے رکھا تھا ۔ آئے روز مساجد امام بارگاہوں دینی مدارس اور پبلک مقامات پر خود کش حملوں کے ذریعے جانی ومالی نقصانات سے دوچار کیا جاتا تھا ۔

خوف کے بادل اس قدر گہرے تھے کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان کا رخ کرنے سے کتراتے تھے ۔میاں محمد نواز شریف نے قومی اتفاق راے اور پاک فوج کے اپریشن ضر ب عضب کے ذریعے دھشت گردوں کی کمر توڑی ۔ ان کی پناہ گاہیں نیست ونابود کیں اور علاقے ان سے خالی کراٰے ۔

کراچی پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے ۔ بھارت سے تربیت یافتہ بھتہ خوروں اور اغوا براٰے تاوان کے عادی ملک دشمنوں نے معاشی شہ رگ کو لہو لہان بنا رکھا تھا ۔ کاروبار کرنا نا ممکن بن چکا تھا ۔ کاروباری لوگ ملک کے دیگر شہروں یا ملکوں میں منتقل ہونے لگے تھے ۔

سپریم کورٹ کے نااہل کردہ سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی جرأت مندانہ کوششوں سے کراچی میں امن بحال اور کاروبار ی مراکز میں چہل پہل ہو چکی ہے ۔ البتہ صوبائی حکومت کراچی کے شہریوں کو کوڑا کرکٹ اور گندگی سے نجات نہیں دلا سکی ۔

میاں محمد نواز شریف اقتدار میں آے تو ملک میں بجلی کی شدید قلت تھی ۔ بارہ بارہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے گھروں میں آرام اور صنعت کا چلنا مشکل ہو چکا تھا ۔ کاروباری طبقہ باربار مطالبہ کر رہا تھا کہ بجلی کی پیداوار بڑھائی جائے ۔ 

سستی اور وافر بجلی بنانے کے سود مند ترین ذریعہ کالا باغ ڈیم پر کا م شروع کرنے کی بجائے حکمرانوں نے اسے سرد خانے میں ڈال دیا تھا ۔رینٹل پاور اسٹیشن منگوائے گئے لیکن ان سے حاصل ہونے والی بجلی اس قدر مہنگی کہ مصنوعات کی فروخت ناممکن تھی۔

عدلیہ نے عوام اور کاروباری طبقہ کی ان سے جان چھڑائی ۔میاں محمد نواز شریف نے اقتدار میں آتے ہی فوری طور پر متعدد بجلی گھروں کا سنگ بنیاد رکھا اور دن رات محنت اور نگرانی سے انہیں مکمل کرایا ۔

اس کا نتیجہ ہے کہ موجودہ 23مارچ کے موقع پر لوڈ شیڈنگ لگ بھگ ختم ہو چکی ہے ۔ کاروباری طبقہ نے سکھ کا سانس لیا ہے ۔سپریم کورٹ سے نااہل کردہ سابق وزیر اعظم کی کارکردگی کو لوگ دل و جان سے پسند کر رہے ہیں ۔

میاں محمد شہباز شریف اقتدار میں آے تو پنجاب کے بڑے شہروں میں ٹریفک کا اژدھام تھا ۔ لاہور راولپنڈی اسلام آباد اور ملتان میں اب تک میٹرو بسیں چل کر ٹریفک کے مسٰلہ پر قابو پا یا جا چکا ہے ۔

میاں محمد شہباز شریف کا پروگرام ہے کہ پنجاب کے دیگر بڑے شہروں میں بھی میٹرو بسیں چلا کر عوام کو سستی اور آرام دہ سفری سہولتیں فراہم کریں گے ۔آرام دہ بسوں پر آمد و رفت کی سہولتوں سے مستفید ہونے والے شہری میاں محمد شہباز شریف کی ہمتوں اور صلاحیتوں کی داد دیتے اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ خدمت کے جذبوں کو سلامت اور توانا رکھے ۔

لاہور میں اورنج ٹرین بعض سیاست دانوں کی پیدا کردہ رکاوٹوں کے باوجود تیز ی سے تکمیل کی طرف بڑھ رہی ہے۔ وہ وقت زیادہ دور نہیں جب پنجاب کا دارالحکومت سفری سہولتوں کے لیے ترقی یافتہ دنیا کے ہم پلہ بن جا ئے گا ۔ سابقہ حکومتوں کے ادوار میں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں کلاشنکوف کلچر عام ہو چکا تھا ۔ 

والدین ہمہ وقت پریشان رہتے ۔ محمد نواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف نے طالب علموں کے ہاتھ سے کلاشنگو ف لے کر انہیں لیب ٹاپ پکڑا دیا ہے ۔

آج کالج اور یونیورسٹی کے لگ بھگ ہر طالب علم کے پاس لیب ٹاپ ہے جس سے آگاہی اور شعور کے جذبوں کو تقویت مل رہی ہے ۔تمام والدین میاں محمد نواز شریف کی حب الوطنی اور عوام دوستی کو سلام کرتے ہیں ۔

انسان تو انسان ہے فرشتہ نہیں کہ غلطیوں سے مکمل طور پر مبرا ہو ۔ جو کام کرتے ہیں غلطی سرزد ہونے کا امکان بھی انہی انسانوں سے ہوتا ہے ۔بے کار رہ کر صرف باتین کرنے والے اور کام کرتے ہاتھوں پر تنقید کے نشتر چلانے والوں کے بارے میں کسی تعمیر کی توقع نہیں ہوتی ہے اس لیے کسی غلطی کا امکان بھی نہیں رہتا ۔

کارکردگی میں بہتری اور وسعت اسی صورت میں آ سکتی ہے کہ کام کرنے والوں کی چھوٹی موٹی لغزشوں بارے صرف نظر کی پالیسی اپنائی جا ئے۔ ملک کے موقر و موثر ادارے اگر بات بات پر پکڑ دھکڑ کی پالیسی اختیار کریں گے تو تعمیری جذبوں میں سرد مہری آ نے کا امکان بڑھ جائے گا ۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...