سابق سیکرٹری اطلاعات سید مینوچہر کا مکتوب گرامی

سابق سیکرٹری اطلاعات سید مینوچہر کا مکتوب گرامی

لاہور

22 مارچ 2018

مجمی جناب مجیب الرحمن شامی

سلام مسنون!

آپ سے کافی عرصہ ہوا نیاز حاصل نہیں ہوئے، وجہ میری کاہلی، کسی زمانے میں آپ کے اخبار کے لئے لکھتا تھا مگر اب مدت ہوئی رابطہ نہیں رہا۔

آج آپکی توجہ ایک اہم معاملے کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں، کم و بیش ایک برس قبل میرے ایک عزیز دوست جو معروف ڈاکٹر ہیں اور لا جواب سرجن ان کو ایک سنگین مسئلہ درپیش آگیا ان کی ایک ڈاکٹر بیٹی جو امریکہ کی پڑھی ہوئی ہے اچانک بیمار ہوگئی ان کا جگر نا معلوم وجہ سے اچانک جواب دے گیا، آخر حالت یہ ہوئی کہ وہ کوما (COMA) میں چلی گئیں اور مقامی ڈاکٹروں نے تجویز کیا کہ سوائے جگر کی تبدیلی کے اب کوئی چارہ نہیں ہے، ورنہ دو چار دن کی بات ہے ان دنوں پاکستان میں جگر کی تبدیلی کی ٹیکنالوجی میسر نہیں تھی، اب بھی چند ایک آپریشن ہوتے ہیں اور ایک آدھ کامیاب باقی ناکام۔

اس وقت سستا ترین آپریشن بھارت میں ہورہا تھا جس کی لاگت تمام اخراجات شامل کرکے سینتالیس لاکھ (4700000) آتی تھی، ڈاکٹر صاحب کی مالی حالت ایسی نہ تھی کہ اتنی خطیر رقم بچی کے علاج پر خرچ کرسکیں چنانچہ ادھر ادھر سے قرض ادھار لے کر بھارت کے ایک ہسپتال میں بھجوایا گیا جہاں سے بچی بفضلِ خدا تندرست ہوکر واپس آئی، بچی کو جگر کا عطیہ اس کے سگے بھائی نے دیا۔

ڈاکٹر صاحب ریٹائرڈ سرکاری ملازم ہیں اور گریڈ بیس میں ریٹائر ہوئے تھے، ان اخراجات کے حصول کے لئے پنجاب حکومت سے رجوع کیا گیا، آپ کو کیا بتاؤں کہ کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑے، جب جاکر آدھی رقم منظور ہوئی، پنجاب حکومت نے جب بقیہ رقم دینے سے انکار کیا تو میں نے بطور وکیل کے ہائی کورٹ میں رٹ کی جو نا منظور ہوئی، انٹرا کورٹ اپیل میں کیس چیف سیکرٹری پنجاب کو ریمانڈ ہوا جو انہوں نے نا منظور کردیا۔

اب ذرا سعودی عریبیہ کا معاملہ ملاحظہ فرمایئے، بیوی نے شوہر کو جگر کے مرض سے نجات دلانے کے لئے اپنا آدھا جگر بطور عطیہ دیا اور شوہر کو بیماری سے نجات دلائی، اس عظیم قربانی اور انسانی جذبے کے بھرپور اقدام پر بیوی کو سعودی عریبیہ نے اپنے ملک کے تیسرے اعلیٰ ترین ایوارڈ یعنی شاہ عبدالعزیز ایوارڈ سے نوازا، جگر کی تبدیلی کا آپریشن انتہائی خطرناک اور حساس ہے اور عطیہ دینے والا تقریباً جان کی قربانی دینے کے لئے تیار ہوتا ہے، اخبار میں چھپی ہوئی خبر کی کاپی لف ہے، اس سے اندازہ لگائیں کہ ہم اپنے شہریوں سے کیا سلوک کرتے ہیں، ایوارڈ کو چھوڑیں اخراجات تک پورے ادا نہیں کئے گئے، اسی پنجاب میں اس طرح کے بے شمار کیسز موجود ہیں جہاں لوگوں کو کروڑوں روپے علاج کے لئے دیئے گئے لیکن ڈاکٹر صاحب اس گروپ میں نہیں آتے تھے اس لیے انہیں اخراجات بھی نہیں دیئے گئے۔

سید مینوچہر سابق سیکرٹری انفارمیشن حکومت پنجاب

مزید : رائے /اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...