دہری شہریت

دہری شہریت
 دہری شہریت

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

دہری شہریت مقدمہ میں حیران کن بات یہ ہے کہ32 ہزار افسران نے حکومتی ریکارڈ میں اپنی ذاتی معلومات کا درست اندراج نہیں کرایا ۔ سپریم کورٹ میں ججوں اور سرکاری افسران کی دہری شہریت کیس کی سماعت کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ ملک بھرمیں ایک لاکھ 72 ہزار سے زائد سرکاری افسران ہیں ان میں سے ایک لاکھ 40ہزار ملازمین کی معلومات درست تھیں۔

616 افسران نے رضاکارانہ طورپر دہری شہریت تسلیم کی ، 147افسران نے اپنی دہری شہریت چھپائی، 691افسران کی بیگمات دہری شہریت کی حامل ہیں جن میں سے 291 افسروں نے بیگمات کی دہری شہریت چھپائی، ، سات ایسے افسر ہیں جن کی شہریت ہی غیر ملکی ہے۔

ان اعداد و شمار کی روشنی میں کئی سوالات بیک وقت اٹھتے ہیں ۔ پہلا اہم سوال یہ ہے کہ پاکستان میں حکومتیں کیوں کر دہری شہریت رکھنے والے سرکاری ملازمین کو نظر اندازکرتی رہیں۔

کسی بھی ملک کے لئے اس سے زیادہ نقصان دہ بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ اس کے افسران دہری شہریت کے حامل ہوں اور ایسے بھی ہوں جو اسے چھپاتے پھرتے ہوں۔

بیگمات دہری شہریت رکھتی ہوں ۔ جسے چھپایا بھی جائے۔ سپریم کورٹ نے دہری شہری چھپانے والے 147 افسران اور بیویوں کی شہریت چھپانے والے 291 افسران کو نوٹس جاری کئے ہیں ۔ کیسا عجیب تماشہ ہے شائد صرف پاکستان میں ہی کھیلا جاسکتا ہے۔ اور کیسے نا شکرے لوگ ہیں جو اپنے ملک کی شہریت کے علاوہ کسی دوسرے ملک کی شہریت بھی رکھ سکتے ہیں۔

کسی دوسرے ملک کی شہریت رکھنے کا واضح مطلب یہ ہے کہ دہری شہریت رکھنے والے شخص کو پاکستان کے حالات اطمینان بخش نظر نہیں آتے ہیں اس لئے وہ اپنے لئے دوسری کشتی بھی تیار رکھنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا خیال ہے کہ ان کی جیب میں دوسرا پاسپورٹ موجود ہوگا اور وہ پاکستان سے بحفاظت چلے جائیں گے۔ 

پاکستان میں غیر یقینی کی کیفیت ضرور ہے، پاکستان میں حکومتوں کے رویہ ، مزاج اور انداز حکمرانی میں تبدیلی آتے دیرنہیں لگتی ، اس لئے افسران بہتر سمجھتے ہیں کہ وہ کسی داؤ پر لگنے سے محفوظ رہیں۔افسران اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتے۔ سندھ میں پولس سربراہ اے ڈی خواجہ کا معاملہ ہی لے لیں۔ انہیں تبدیل کرنے کے کئی جتن کئے گئے کیوں کہ وہ غیر قانونی کام کرنے پر آمادہ نہیں تھے۔ سینکڑوں مثالیں موجودہیں جب افسران کو امتحان سے دوچارہونا پڑا۔

بعض اپنے موقف پر ڈٹ جاتے ہیں، بعض خوشامد اور چاپلوسی کی انتہاء کر دیتے ہیں۔پاکستان کے سرکاری ملازمین کا جائزہ لیا جائے تو ہر طرح کے لوگ نظر آئیں گے۔ قانون کے مطابق کام کرنے والے، غیر قانونی احکامات تسلیم کرنے سے انکار کرنے والے،خوشی خوشی فرنٹ مین کا کام کرنے والے،خوشامد اور چاپلوسی کی تمام حدود کو پھلانگنے والے، محنتی، پر خلوص، کام چور، سرکاری خرچ پر پلنے والے، عوام کے ترقیاتی کاموں کے فنڈ میں خورد برد کرنے والے، غرض سارے ہی قسم کے لو گ مل جائیں گے۔ جنہوں نے دہری شہریت حاصل کی انہوں نے یہ آسان جانا کہ بوقت ضرورت فرار ہوجائیں گے اور لوگ فرار بھی ہو گئے ہیں۔

پاکستان میں غیر قانونی طریقے سے ناجائز پیسہ بنایا اور چلتے بنے، لیکن افسران کیا یہاں تو کئی سیاست دان بھی ایسے ہیں جن کی خود دہری شہریت کے علاوہ اولادوں کی دہری شہریت ہے، کاروبار ہیں ، جائدادیں ہیں، غرض ان کا صرف ایک ملک ہی نہیں ہے، بلکہ وہ دوسرا ملک بھی رکھتے ہیں۔ دوسراملک رکھنے کی سہولت فرد کے لئے تو ٹھیک ہوسکتی ہے، لیکن پاکستان کے لئے تو کسی طور پر بھی ٹھیک نہیں ہے۔

جب تک ملک میں رہنے والے لوگوں کی ملک سے وفاداری ہر قسم کے شک و شبہ سے بالا تر نہیں ہوگی اس وقت تک کام نہیں چلتا۔ کسی بھی منصوبہ بندی، کسی بھی کام پرعمل درآمد، کسی بھی کام کے نتائج وغیرہ ادھورے ہی رہتے ہیں کہ ان پر کام کرنے والے لوگوں میں وہ خلوص و جذبہ پایا ہی نہیں جاتا جس کی ضرورت ہوتی ہے ۔ دہری شہریت ایسے جذبہ اور خلوص کی راہ میں رکاوٹ ہوتی ہے۔ 

اکثر منصوبوں کی ناکامی کی ایک وجہ یہ بھی قرار دی جاتی ہے۔ حکومت کو فوری طورپر ان تمام افسران کے خلاف تادیبی کارروائی کیوں نہیں کرنا چاہئے، جنہوں نے اپنے بارے میں درست معلومات کو چھپایا ۔ ایسے لوگوں کو سرکاری ملازمت میں کیوں کر رکھا جائے، ان پر کیوں کر یقین کیا جا سکتا ہے جولوگ اپنے بارے میں سرکاری ریکارڈ میں درست معلومات فراہم نہیں کر سکتے ان پر کس طرح یقین کیا جا سکتا ہے کہ یہ حکومت پاکستان کی خفیہ اوراہم معلومات اِدھر اُدھرنہیں کریں گے۔

ایسے ملازمین جنہوں نے درست معلومات فراہم نہیں کیں، پہلی کارروائی کے طورپر ان کی ملازمتیں ختم کر دینا چاہئے ، ان کی پاکستانی شہریت منسوخ ہونا چاہئے اور انہیں ملک بدر کرنا چاہئے۔ خیبرپختونخوا کے ڈاکٹر شکیل آفریدی نے کیاگل کھلائے۔

حکومت کو کیوں نہیں چاہئے کہ جن لوگوں کی جن ممالک میں دہری شہریت ہے،ان حکومتوں سے ان لوگو ں کی جائیداد اور بنک میں موجود پیسوں کی تفصیلات حاصل کریں، پھر ان لوگوں سے پوچھا جائے کہ پیسہ کہاں سے آیا، اور بیرون ملک کس طرح منتقل ہوا۔ پاکستان سے بدعنوانی کے ذریعہ کمایا گیا کثیر سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جاتا ہے اور سرمایہ بیرون ملک منتقل کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ ہنڈی کا کاروبار کرنے والے یہی تو کام کرتے ہیں کہ سرمایہ کو غیر قانونی طور پر ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل کرتے ہیں۔ 

اس تماش گاہ میں کہا جاتا ہے کہ سپریم کورٹ انتظامیہ اور مقننہ کے کاموں میں مداخلت کرتی ہے،اس طرح کی بات کردینے میں حکومت کی ناکارہ کارکردگی کی پردہ پوشی تو ضرور ہوجاتی ہے کہ یہ ہی مقصود ہوتا ہے۔

البتہ یہ جواب کون د ے گا کہ کوئی بھی حکومت اب تک کہاں سو ئی ہوئی تھی کہ دہری شہریت کے معاملہ پر کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی، کوئی قانون ساز ی کیوں نہیں کی گئی۔ اگر سپریم کورٹ اس کا نوٹس نہیں لیتی تو حکومت تو سوئی ہی رہتی ویسے بھی سات غیر ملکی تو سرکاری ملازمت کر ہی رہے ہیں۔ 

مزید : رائے /کالم