قوم ترکلانی عیسوزی نے بھی جندول کے آراضیات کی ملکیت کا دعویٰ کر دیا

قوم ترکلانی عیسوزی نے بھی جندول کے آراضیات کی ملکیت کا دعویٰ کر دیا

جندول(نمائندہ پاکستان) انتظامیہ کے مشکلات میں مزید اضافہ ، قوم ترکلانی عیسوزی نے بھی جندول کے آراضیات کی ملکیت کا دعوہ کر دیا ۔ اس سلسلہ میں گاوں شینہ میں سعید خان کے ہجرہ میں قومی جرگہ محمدیار خان کے سربرہی میں منعقد ہوا جس میں عبد الرحمن خان ، یوسف خان ، نواب زادہ ،حکیم خان ، شاد محمد خان، محمد عالم خان سمیت دو سو سے زیادہ قومی مشران نے شرکت کی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے محمد یار خان ولد شیر زمان خان کا کہنا تھا کہ آراضیات جندول کے سلسلہ میں سابق حکمران دیر شاہ جہان کے خاندان کا کیس من گھڑت ہے ان کا کہنا تھا کہ ان کے تملیک نامے بھی جعلی ہے اس لئے کہ 1960میں حکومت پاکستان نے شاہ جہان اور اس کے بیٹے شہاب الدین کو گرفتار کرکے نظر بند کیا تھا اور حکومت خسروں کو حوالہ کی تھی پھر کس طرح نظر بندی کے وقت میں تقسیم نامے اور تملیک نامے ترتیب دیئے گئیں ۔انہوں نے کہا کہ شاہ جہان کا خاندان وضاحت کریں کہ انہوں نے جائیداد کس سے خریدی ہے اگر وہ کہتے ہیں کہ یہ جائداد انہوں نے انگریزوں سے خریدی تھی تو اس وقت انگریز جندول آئے ہی نہیں تھے اور کہتے ہیں کہ عمراں خان یا کسی اور سے خریدے ہیں تو ثبوت لائے ۔انہوں نے کہا کہ شاہجہان کا خاندان 1890میں جندول کی زمینوں کی خریداری کا دعوہ کر رہے ہیں حالانکہ اس دور میں شاہ جہان پیدا ہی نہیں ہوا تھا اور اس کا باپ اورنگزیب عرف چاڑا نواب بھی صرف 13سال کا تھا۔انہوں نے کہا کہ 1890میں شاہ جہان کا دادا محمد شریف خاندان سمیت سات میں پناہ گزین بن کر زندگی گذار رہا تھا اور دیر پر محمد شاہ خان کی حکومت تھی ۔انہوں نے وضاحت کی کہ 1014ہجری میں چورک بابا نے جندول کی زمینوں کو ترکلانی عیسوزی خاندان کے مابین تقسیم کیا تھا جو کہ تاریخ کا حصہ ہے اس لئے جندول کی جائیداد اسی قوم کے زیلی شاخوں کی مشترکہ پدری و جدی جائیداد ہیں ۔مشران نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسی بھی ناخوشگار حالات سے قوم کا بچھانے کیلئے بہتر حکمت عملی تشکیل دی جائے اور حقیقی مالکان کو جندول کے آراضیات لوٹائی جائے تاہم اگر ایسا نہ ہوا اور زمینوں کو کسی ایک شخص کو جبراََ حوالہ کرنے کی کوشش کی تو بڑی پیمانہ پر خونریزی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی جائیداد کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...