علماء کرام نے ملک و قوم کیلئے بیش بہا قربانیاں دیں:مولانا غلام صادق

علماء کرام نے ملک و قوم کیلئے بیش بہا قربانیاں دیں:مولانا غلام صادق

چارسدہ (بیورورپورٹ) سابق ایم این اے امیر علمائے تحفظ و مدارس مولانا غلام محمد صادق نے کہا ہے کہ عرصہ دراز سے عوام کی طرف سے شکایات مل رہی ہیں کہ بعض خفیہ اداروں کے ہاتھوں علماء کرام کو جبری اٹھا کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دئیے جا رہے ہیں ۔چارسدہ میں علماء کی مسلسل گمشدگیاں لمحہ فکریہ بن گیا ہے ۔ جے یوآئی تحصیل شبقدر کے نائب امیر مولانا نوررازق کی تین قبل گمشدگی اور ماضی میں مولانا نظر حسین و دیگر علمائے کرام کی گمشدگیوں سے عوام میں اضطراب پایا جا رہا ہے جو کسی بھی وقت مظاہروں کی سبب بن سکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار سابق رکن قومی اسمبلی شیخ الحدیث مولانا غلام محمد صادق اور جے یو آئی کے ضلعی امیر مولانا محمد ہاشم خان نے چارسدہ پریس چیمبر میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ وطن عزیز میں قوم اور ملک سے مخلص افراد علماء و صلحاء کو اٹھا کر خفیہ ایجنسیوں نے قومی اداروں کے کر دار پر سوالیہ نشانات ثبت کئے ہیں۔ علمائے کرام نے ہمیشہ ملک و ملت کی ترقی کیلئے حقیقی قربانیاں دیکر ایک تاریخ رکھ چھوڑی ہے لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر بیرونی قوتیں علماء اور محب وطن حلقوں کے کردار اور قربانیوں کو مشکوک بنا کر ملک میں تصادم اور افراتفری کیلئے سازش کے تحت میدان بنا رہے ہیں لیکن علماء سنجیدہ طرز عمل سے اغوائیگیوں اور جبری گمشدگیوں کے معاملہ کو افہام و تفہیم سے حل کرانے کیلئے ہر حد تک قربانیاں پیش کرتے رہیں نگے ۔ سازشی خفیہ ہاتھ ہماری صبر کا امتخان نہ لیں۔ مولانا غلام محمد صادق نے ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا کہ ملک میں ہم آہنگی کو فروع دینے اور افراتفری کے ماحول کو ختم کرانے کیلئے ملک بھر سے اٹھائے گئے افراد بشمول معزز علمائے کرام ولانا نظر حسین ، جمعیت علماء شبقدر کے نائب امیر مولانا نور رازق ، مولانا فرمان اللہ یو سی امیر نحقی اور مولانا قاری لقمان سمیت دیگر اٹھائے گئے علمائے کرام اور شہریوں کو باحفاظت آزاد کراکے عام عوام او ر گمشدہ افراد کے خاندانوں میں پائی جانیوالی بے چھینی اور اضطراب کو دور کریں ۔انہوں نے مزید کہاکہ ریاستی ادارے عوام کو تحفظ کے لئے اپنے خدمات فراہم کریں نہ کہ عالمی سامراجی سازشوں کے محور بن کر ایک آزاد ملک میں آزاد عوام کو بلا وجہ ظلم و ستم کا نشانہ بنائے ۔ ملک میں اغواء برائے تاوان ،قتل و غارت ،بچوں کی بے خرمتی جیسے واقعات روز کا معمول بن چکا ہے ۔ مذہبی جماعتوں نے ملک کی سا لمیت کیلئے بڑی قربانیاں دی ہیں ۔اس سے پہلے بھی قوم ملک میں گھمبیر حالات سے دو چار ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان اور مولانا عبدالغفور حیدری پر کئی دفعہ خود کش حملے ہوئے مگر جمعیت علمائے اسلام نے محاذ آرائی کی بجائے ریاستی اداروں سے بھر پور تعاون کیا ۔ ٹھوس شواہد کے بغیر کسی بھی شخص کو اٹھانا غیر انسانی اور غیر اخلاقی کام ہے اور بین الاقوامی اصولوں کے بھی منافی ہے لیکن ریاستی ادارے ۔ ٹھوس شواہد کے بغیر شہریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھا کر ملک کے جانثاروں کو مزید رسوا نہ کریں۔ انہوں نے کہاکہ علمائے کرام کو خفیہ اداروں کی طرف سے اٹھانا 2018کے انتخابات میں جمعیت علمائے اسلام کیلئے مشکلات پیدا کرنے کے مترادف ہیں جوکہ اس قسم واقعات انتخابات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جے یو آئی انتظامیہ کے ساتھ کسی قسم کی محاذ آرائی نہیں چاہتی اس لئے انہوں نے ڈی سی اور ڈی پی او سے مطالبہ کیا کہ گرفتار علمائے کرام کو باعزت طور پر رہا کیا جائے بصورت دیگر جمعیت علمائے اسلام ملک گیر احتجاج پر مجبور ہونگی ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...