سندھ اور بلوچستان کے سرحدی علاقے ”کتے کی قبر“ پر تنازع لیکن یہ نام کیسے پڑا، دلچسپ کہانی سامنے آگئی

سندھ اور بلوچستان کے سرحدی علاقے ”کتے کی قبر“ پر تنازع لیکن یہ نام کیسے پڑا، ...
سندھ اور بلوچستان کے سرحدی علاقے ”کتے کی قبر“ پر تنازع لیکن یہ نام کیسے پڑا، دلچسپ کہانی سامنے آگئی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کراچی (ویب ڈیسک) بلوچستان اور صوبہ سندھ کے درمیان سرحدی علاقے ’کتے کی قبر' کی ملکیت پر تنازع کھڑا ہو گیا ہےلیکن اس علاقے کا یہ نام کیسے پڑا ، انتہائی دلچسپ کہانی بھی سامنے آگئی۔ یہ علاقہ کھیر تھر کے پہاڑی سلسلے میں سندھ کے شہداد کوٹ اور بلوچستان کے خضدار ضلع کے درمیان واقعہ ہے، جو سطح سمندر سے 7500 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

روزنامہ نوائے وقت کے مطابق سندھ کے سینیئر صوبائی وزیر نثار کھوڑو کا کہنا ہے کہ ’کتے کی قبر‘ کا علاقہ سندھ کا حصہ ہے اور رہے گا۔ ’ہم چھوٹے صوبے کے دوست ضرور ہیں مگر سرحد پر کسی صورت میں سمجھوتہ نہیں کریں گے‘۔ نثار کھوڑو نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں 1876ءکا گزٹ بھی دکھایا اور بتایا کہ کتے کی قبر کا علاقہ تقریباً ڈھائی لاکھ ایکڑ اراضی پر مشتمل ہے جو کھیرتھر کے پہاڑی سلسلے میں ٹھنڈا علاقہ ہے جو گورکھ ہل سٹیشن سے بھی بلند ہے۔ ’کھیرتھر پہاڑی سلسلہ قمبر علی خان میں شامل ہے، بلوچی زبان میں لفظ کتے کی قبر نہیں استعمال ہوتا، یہ سندھی زبان کا لفظ ہے، نئی حلقہ بندیوں میں بھی اس کو سندھ کا ہی حصہ دکھایا گیا ہے۔‘ اس موقع پر قمبر شہداد کوٹ ضلع سے پیپلزپارٹی کے رکن سندھ اسمبلی سردار خان چانڈیو کا کہنا تھا کہ انگریز دور حکومت سے کتے کی قبر سندھ کا علاقہ ہے،

سروے آف پاکستان میں بھی اس کی شہادت موجود ہے لیکن اب اس پر بلوچستان کا دعویٰ سمجھ سے بالاتر ہے۔ سینئر صوبائی وزیر نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت نے تین رکنی کمیٹی بنائی ہے۔ یہ کمیٹی اپنا کام کرے لیکن حکومت سندھ ایک انچ سے بھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔ اس سے قبل جمعیت علما اسلام کے مرکزی نائب امیر اور رکن قومی اسمبلی مولانا قمر الدین نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع خضدار کے علاقوں ڈھاڈارو اور کتے کی قبر کو صوبہ سندھ کے علاقے شہداد کوٹ میں شامل کرنا لوگوں کے احساسات اور جذبات سے کھیلنے کے مترادف ہے۔

’مردم شماری کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے ضلع خضدار کے آباد اور وسائل سے مالا مال علاقے ڈھاڈارو اور کتے کی قبر کو صوبہ سندھ کے انتخابی حلقے شہداد کوٹ قمبر میں شامل کرنا اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ الیکشن کمیشن، سندھ حکومت کی کچھ شخصیات کے توسط سے یہ نہیں چاہتی کہ ملک کے تمام صوبے اپنے جغرافیائی حدود میں رہ کر ایک دوسرے کے ساتھ برادرانہ تعلق قائم کریں۔‘ واضح رہے کہ شہداد کوٹ قمبر پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کا حلقہ انتخاب ہے۔

کتے کی قبر کے علاقے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں گیس کے ذخائر موجود ہیں، اس علاقے میں بلوچ قبائل کے ساتھ سندھی قبائل چھٹا اور گھائنچا برادریاں بھی رہتی ہیں۔سندھ کے نامور ادیب مرزا قلیچ بیگ نے 1885 میں اس علاقے کا سفر کیا تھا۔ اپنے سفر نامے ’ڈھیاڑو جبل کے سیر‘ میں وہ کتے کی قبر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں ایک شخص سو روپے کا مقروض تھا اس نے اپنا کتا گروی رکھوایا جب اس کے پاس سو روپے ہوگئے تو وہ ادائیگی کے لیے روانہ ہوا لیکن راستے میں اس نے دیکھا کہ اس کا کتا آ رہا ہے وہ اس پر سخت ناراض ہوا۔ کتا لعن طعن سن کر وہیں مر گیا۔ کتے کا مالک قرض کی ادائیگی کے لیے جب پہنچا تو اسے بتایا گیا کہ کچھ چوروں نے اس کے گھر کو لوٹ لیا تھا اس کتے کی مدد سے وہ سامان برآمد ہوا اور یہ ملکیت سو روپے سے کہیں زیادہ تھی ،اس لیے انہوں نے کتے کو رہا کر دیا۔ مالک کو یہ سن کر دکھ پہنچا اور اس نے واپسی اسی جگہ پر کتے کی قبر تعمیر کرائی۔

نامور ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری کا کہنا ہے کہ یہ قبر قدیم دور میں تعمیر کی گئی ہے جس کو دیگر کلاسیکل قبروں کی طرح پتھروں سے بنایا گیا ہے، یہ قبر ایک پہاڑی پر واقع ہے جہاں تک رسائی آسانی سے ہو سکتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قبر کسی معتبر یا سردار کی ہے۔ ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری سندھ کے محکمہ آرکیالوجی کے سیکریٹری بھی رہ چکے ہیں اور اس علاقے میں کئی بار جا چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی شہادتیں ملتی ہیں کہ اس قبر کو کھول کر دوبارہ بند کیا گیا ہے، اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ قدیم زمانے میں سرداروں اور معروف افراد کو ان کے قیمتی سامان کے ساتھ دفن کیا جاتا تھا اس لیے خزانے کی لالچ میں بعض علاقوں میں ان قبروں کو کھولا گیا ہے۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی