فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر393

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر393
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر393

  

فلم’’ پختو‘‘کے ھیرو گلریز تبسم تھے یہ غالباًان کی پہلی اور آخری فلم تھی ۔اس بارے میں ہماری معلومات یہی ہیں ۔گل ریز تبسم بنیادی طور پر ایک لوک گلو کار تھے ۔فلم پختو ان کی اداکاری کا پہلا تجربہ تھی جو آخری بھی ثابت ہوئی۔ہم نے تو یہ فلم نہیں دیکھی مگر دیکھنے والے ان کی اداکاری کی بہت تعریف کرتے ہیں ۔کچھ کا خیال ہے کہ اگر یہ فلم بر وقت ریلیز ہو جاتی تو گل ریزاداکار کی حیثیت سے بھی بہت شہرت اور کامیابی حاصل کرتے مگر قسمت کو یہی منظور تھا ۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

جن دنوں یہ فلم نمائش پذیر ہو ئی اس و قت پاکستان میں فلمی صنعت زوال سے دوچار تھی اور سکڑ کر چند فلموں تک محدود ہوکر رہ گئی تھی ۔اس فلم کی کہانی خلیل خان نے لکھی تھی ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ مکالمہ نویس خلیل خان خاموش فلموں کے زمانے میں اداکاری کرتے رہے ۔جب بولتی فلموں کا دور آیا تو انکی اداکاری کا دور ختم ہو گیا تھاپھر انہوں نے مکالمہ نویسی اور کہانی لکھنے کی طرف توجہ دی اور پشتو فلموں کے مصنف بن گئے۔اب وہ مرحوم ہو چکے ہیں۔اللہ تعالی مغفرت کرے۔ہم نے نہ تو ان کی کوئی خاموش فلم دیکھی اور ہی کوئی پشتو فلم دیکھنے کا اتفاق ہوالیکن ان کی بزرگی اور گزشتہ کاموں کی پیش نظر وہ اچھے الفاز میں یاد کئے جانے کے قابل ہیں۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر392 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

پختو کے اداکاروں میں گل ریز تبسم اور خانم کے علاوہ نعمت سرحدی ،آصف خان اور بدر منیر بھی شامل تھے ۔ بدرمنیرکوپشتوفلموں میں کم وبیش وہی حیثیت حاصل رہی ہے جو مرحم سلطان راہی کو پنجابی فلموں میں حاصل تھی۔یعنی کوئی پنجابی فلم ان کے بغیر مکمل نہیں سمجھی جاتی تھی اور مشکل سے ہی کامیاب ہوتی تھی ۔پنجابی اور پشتوفلموں میں ان دونوں فنکاروں پر قدرت کا کرم تھا کہ فلم بین ان کے شیدائی تھے ۔فلم اچھی ہو یا بری ان کی بلا سے ان کو تواپنے محبوب فنکاروں کو دیکھنے سے مطلب تھا۔یہ مقام بھی بہت کم فنکاروں کو حاصل ہوتا ہے۔اگر یہ فلم بروقت ریلیز ہو جاتی تو ممکن ہے بہت کامیاب ہوتی لیکن التوا اور تاخیرکے باوجوداسے ناکام نہیں کہا جا سکتا۔شایداس لئے کہ پشتو فلموں کے مقبول اور نامور فنکار اس فلم میں کام کر رہے تھے ۔اس فلم کے سبھی اہم فنکار پشتو فلموں کے مانے ہوئے فنکار رہے ہیں ۔نعمت سرحدی بعد میں فلموں سے وابستہ ہوئے مگر ان کی عمدہ اداکاری کی وجہ سے بہت جلد ممتاز ولن بن گئے تھے۔

ہم نے مختلف ایوارڈ کے سلسلے میں پشتو فلمیں بھی دیکھی ہیں۔نعمت سرحدی کو فلموں میں دیکھ کر بہت متاثر ہوئے۔ایک روز ان سے ملاقات ہوئی تو ہم نے بطور خاص ان کی فلموں اور اداکاری کا تذکرہ کیا اور ان کی تعریف کی۔تعجب کی بات یہ ہے کہ اتنے اچھے اداکارکی خدمات سے پنجابی اور اردو کے فلم سازوں نے فائدہ نہیں اٹھایااس کا سبب بھیڑ چال کے سوا اور کچھ نہیں۔

نعمت سرحدی تعریف سن کر بہت خوش ہوئے ۔ظاہر ہے ہر انسان کی فطرت ہے کہ وہ اپنی تعریف سن کے بہت خوش ہوتا ہے۔ہم اس وقت فلمی صنعت سے عملی طور پر کنارہ کش ہوچکے تھے ۔اس لئے نعمت سرحدی کیلئے یہ تعریف قطعی متوقع تھی ۔

’’خانم ‘‘ کی آخری فلم کا حال آپ نے سن لیا اب ان کی پہلی فلم کا احوال سننے سے پہلے کچھ ان کی شخصیت کے بارے میں بتا دیا جائے تو بہتر ہو گا ۔

خانم کا تعلق گوجرانوالہ سے تھا اور وہ فلموں میں کام کرنے کے لئے گوجرانوالہ سے لاہور آئی تھیں۔ان کے بارے میں ہم نے کہیں سنا اور پڑھا ہو کہ وہ مشہور ڈریس ڈیزائنر بی جی کی بہن ہیں لیکن یہ درست نہیں ہے ۔خانم کی ایک بہن ہیں جو ریڈیو پر گلو کاری کرتی رہی ہیں پھر ریڈیو ہی کے ایک افسر سے ان کی شادی ہو گئی اور اب تک ہنسی خوشی زندگی بسر ہو رہی ہے ۔

خانم کا ایک حوالہ یہ بھی ہے کہ بمبئی کی فلمی صنعت کی ایک اداکارہ امیتا تھیں۔انہوں نے زیادہ فلموں میں کام نہیں کیا اور نا ہی صف اول میں جگہ حاصل کر پائیں امیتا خانم کی خالہ زاد بہن ہیں یا یوں کہئے کے خانم امیتا کی خالہ زاد بہن ہیں ۔امیتا ان سے پہلے فلمی صنعت سے وابستہ ہوئی تھیں اور غالباًان کے فلمی دنیا میں آنے سے پہلے ہی رخصت ہو گئیں ۔لیکن عام رواج کے مطابق ان کا ایک ملا جلا یا ہندوانہ نام رکھ دیا گیا۔وہ بھرے بھرے جسم اور موٹی موٹی آنکھوں اور بیزوی چہرے کی وجہ سے اسکرین پر بہت اچھی لگتی تھیں ۔اداکاری بھی ٹھیک ہی کر لیتی تھیں مگر عروج حاصل نا کر پائیں ۔خدا جانے وہ فلموں سے کیوں رخصت ہوئیں اور اب کہاں ہیں ؟

خانم کا تعلق ایک پیشہ وارانہ خاندان سے تھا لیکن پاکستانی فلموں کے ایک معروف ہیرو کے والد نے ان کی والدہ سے نکاح کر لیا تھا۔خانم اور ان کی بہن انہی کی اولادیں ہیں مگر یہ شادی کھلے عام نہیں ہوئی تھی ،اور نہ ہی کبھی اس کا باقاعدہ اعلان کیا گیا تھااس لئے بہت کم لوگ اس حقیقت سے واقف ہیں۔خانم کے والد نے کبھی کھم کھلا ان سے وابستگی کا اظہار بھی نہیں کیا تھا۔نہ ہی وہ اپنے اس خاندان کے ساتھ کہیں دیکھے گئے۔بہر حا ل دنیامیں خصوصاًفلمی دنیا میں ایسے واقیات رونما ہوتے رہتے ہیں اس لئے یہ کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں ہے۔

’’خانم‘‘ اپنی والدہ کے ساتھ گوجرانوالہ سے لاہور آئیں تو اداکارہ بننے کا شوق اپنے ساتھ لے کر آئیں۔لوگوں نے انہیں مشورہ دیا فلم سازشباب کیرانوی سے ملو۔شباب صاحب متواتر اور مسلسل فلمیں بناتے رہتے تھے اور نئے چہرے متارف کرا نے کے لئے بھی مشہور تھے۔انہوں نے فلمی صنعت کو کئی نامور فنکار اور فنکارائیں دی ہیں۔بہت سے فنکاروں نے ان کی فلموں سے شہرت اور مقبولیت حاصل کی جبکہ وہ اس سے پہلے زیادہ مشہور نہیں تھے ۔

شباب صاحب نے خانم کو بھی مایوس نہیں کیا ۔شباب کیرانوی کی فلم ،بازار، خانم کو ایک مختصر سا کردار دیا گیا تھا اس فلم کے ہدایت کار مشہورعکاس اے حمید (بھائیا جی)تھے۔ہماری لکھی ہوئی پہلی فلم ،ٹھنڈی سڑک،کے ہدایت کار بھی یہی تھے ۔اے حمید کے بارے میں ہم بہت تفصیل سے بیان کر چکے ہیں۔وہ شباب کیرانوی کے بہت قریبی دوست تھے اور فلمی دنیا سے انہیں متعارف کرانے کا سہرا بھی حمید صاحب کے سر ہے۔،بازارکے دوسرے اداکاروں میں سنگیتا ،نشو،ایک اور نیا چہرہ عادل اور طالش بھی شامل تھے ایم ارشد اس فلم کے موسیکار تھے۔یہ خانم کی پہلی فلم تھی جو غالباً1972 مین نمائش کے لئے پیش کی گئی تھی۔

’’بازار ‘‘نے اوسط درجے کی کامیابی حاصل کی تھی۔خانم اس فلم میں کسی کو اپنی طرف متوجہ نہ کرسکیں لیکن فلم ساز اورگلو کار عنایت حسین بھٹی کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہو گئیں ۔عنایت حسین بھٹی اور ان کے بھائی کیفی ممتاز فلم ساز اور ہدایت کار تھے۔ان دونوں کے اشتراک سے متعد پنجابی فلموں نے جنم لیااور مختلف فنکاروں کوان کی فلموں سے شہرت اور کامیابی حاصل ہوئی۔اداکارہ رانی کو ایک اچھی اداکارہ لیکن ایک منحوس ہیروئین تصور کیا جاتا تھاکیونکہ وہ جس فلم کام کرتی تھیں وہ فلاپ ہو جاتی تھی حالانکہ رانی کی اداکاری اور رقص کے سب معترف تھے ۔کیفی کی پنجابی فلم رانی کی پہلی سپر ہٹ فلم تھی اس طرح ان کی ناکامیوں کا دور ختم ہو گیا اور قسمت ان ایسی مہربان ہوئی کہ وہ کامیاب ترین ہیروئن کے مرتبے پر پہنچ گئی تھیں۔اس کامیابی میں ہمارے دوست فلم ساز و ہدایت کار حسن طارق کا بھی نمایاں ہاتھ تھاجن کے ساتھ بعد میں رانی کی شادی ہو گئی تھی۔یہ داستان پہلے ہی بیان کی جا چکی ہے ۔ (جاری ہے)

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر394 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ