یو ای ٹی کا صنعتی میلہ۔۔۔ طلباء کیلئے روشن مستقبل کا ضامن

یو ای ٹی کا صنعتی میلہ۔۔۔ طلباء کیلئے روشن مستقبل کا ضامن
یو ای ٹی کا صنعتی میلہ۔۔۔ طلباء کیلئے روشن مستقبل کا ضامن

  

علم کی افادیت اور فضیلت سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا۔علم انسان کو ایسی بصیرت سے آشناکرتا ہے کہ جسکی بناء پروہ بلندیوں سے ہمکنار ہوتا ہے ۔اتنا کہنا کافی ہو گا کہ انسان کی اولین ضرورت علم ہے ،انسان کو انسان بنانے والی چیز تعلیم ہے اور قومی زندگی کیلئے آبِ حیات تعلیم ہے۔نوجوان نسل کسی بھی ملک،قوم یا قبیلے کا آئینہ ہوا کرتی ہے۔ اپنے لاجواب عزم و استقلال،بلندہمتی،روشن خیالی،حب وطنی،جذبہ ایمانی اور زوربازو سے قوموں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔چنانچہ نوجوان طلبا کی صحیح خطوط پر تعلیم وتربیت وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ملک بھر میں نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے ذریعہ معاش کی تلاش میں بھٹکنا شروع ہو جاتے ہیں، ہنر مندنوجوانوں کو بہتر روزگار ملنے میں مدتیں بیت جاتی ہیں ، جس کے نتیجے میں وہ مایوسی اور نا امیدی کا شکار ہو جاتے ہیں، عملی زندگی میں قدم رکھتے ہی زندگی کی تلخیوں کا احسا س ہونے لگتا ہے، لیکن یو نیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اپنے طلبہ وطالبات کو مایوسی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں گم ہو جانے سے بچاتی ہے۔

یو ای ٹی اپنے طلبہ وطالبات کی نہ صرف تعلیمی و اخلاقی آبیاری کرتی ہے بلکہ انکی تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھا تے ہوئے ان کے لئے بہترین روزگار کے مواقع بھی فراہم کرتی ہے۔یو ای ٹی انجینئرز کی استعداد کار میں اضافے اور انہیں انجینئرنگ کے شعبے میں جدید رحجانات سے آگہی فراہم کرنے کیلئے وقتا فوقتا مختلف قسم کے تربیتی کورسز کا اہتمام کرتی رہتی ہے۔ اس مقصد کیلئے جامعہ ہر سال ’’ انڈسٹریل اوپن ہاؤس اینڈ کیرئر فیر‘‘ کے نام سے دو روزہ صنعتی میلے کا ا اہتمام کرتی ہے، جس کے تحت مختلف انڈسٹریز اپنے سٹالز لگاتی ہیں اوریونیورسٹی کے آخری سال کے طلبہ وطالبات کو ملازمت کے مواقع دیتی ہیں۔ اس میلے کے دوران انڈسٹریز یونیورسٹی سے فارغ التحصیل طلبہ طالبات کا ٹیسٹ لیتی ہیں اور ان کی قابلیت کے مطابق انہیں ملازمت بھی دیتی ہیں ۔رواں سال بھی یونیورسٹی اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے مسلسل چوتھے کیریئر فیر کا اہتمام کر رہی ہے۔4 اور 5اپریل 2018کو منعقد ہونے والے اس صنعتی میلے میں کوئی بھی چھوٹی بڑی صنعت معمولی رجسٹریشن فیس ادا کر کے اس میلے کا حصہ بن سکتی ہے۔اس طریقہ کار کے تحت جہاں طلبہ وطالبات کو بروقت روزگار مل جاتا ہے وہیں صنعتوں کو بھی تجربہ کار اور ہنر مند افراد میسر آتے ہیں۔ اس دوران یونیورسٹی میں طلبہ طالبات کو خصوصی تربیت دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنے تخلیقی شہکار اور پراجیکٹس مناسب اور بہتر انداز میں پوسٹرز کی صورت میں صنعت کاروں کے سامنے پیش کر سکیں۔ اس میلے کا بنیادی مقصد تعلیمی اور صنعتی شعبوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے طلبہ کیلئے ایک چھت تلے روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔

یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر فضل احمدخالد نے کہاہے یو ای ٹی کے طلبا و طالبات صلاحیت کے اعتبارسے دنیا میں کسی سے کم نہیں ہیں۔ تعلیمی درسگاہوں اور صنعت کے درمیان مضبوط روابط ملک کی ترقی کے ضامن ہیں۔لہذا اس ضرورت کے پیشِ نظر دیر پا اور نتیجہ خیز تعلقات کا قائم ہونا روشن مستقبل کی نوید ہے۔اس سلسلے میںیوای ٹی پاکستان کی ترقی میں معیاری انجینئرز تیار کر کے اپنا کر دار ادا کر رہی ہے اور محکمہ شماریات کے مطابق پاکستان کے تعمیر و ترقی میں ستر فیصد سے زائد کردار یو ای ٹی کے انجینئرز کا ہے۔انہوں نے انڈسٹری اور تعلیمی اداروں کے مابین تعلقات کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہاہے کہ انڈسٹریل اوپن ہاؤس اینڈکیرئیرفیرانڈسٹری اور تدریسی اداروں کو آپس میں نہ صرف قریب کر تا ہے بلکہ مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق اعلیٰ اور معیاری افرادی قوت تیار کرنے میں بھی معاون رہا ہے۔ انہوں نے میلے کی افادیت پر زور یا ہے اور طلبہ و طالبات کو تلقین کی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اس میں حصہ لے کر اپنی صلاحیتوں کو جانچیں اور خود کو جدید تکنیکی مہارتوں سے لیس کرنے کیلیے دنیا کے تقاضوں پر گہری نظر رکھیں تاکہ انکی تعلیم انکے اور ملک کیلئے کارآمد ثابت ہو سکے۔ 

ڈائریکٹر امور طلباپروفیسر ڈاکٹر آصف علی قیصر نے اس میلے میں صنعت کاروں کی شرکت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سلسلے میں انڈسٹری کو آگے آنا ہوگا تاکہ ملک کے اس قیمتی اثاثے اور ٹیلنٹ کو اپنے جوہر دکھانے کا موقع مل سکے۔میلے میں شرکت کرنے والی انڈسٹریز سال آخر کے طلبہ کو مختلف صنعتی پراجیکٹس میں مصروف کریں اور انکی صلاحیتوں کا عملی فائدہ حاصل کریں۔اسی حوالے سے ڈاکٹر محمد طاہر ڈائر یکٹر ریسرچ اینڈ انوویشن کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں کی جانے والی مختلف ایجادات اور صنعتی حلقوں کو پیشِ نظر مختلف مشکلات اور ان کے حل کے حوالے سے پراجیکٹ کی نمائش کیلئے پیش کیا جائے۔انہوں نے کہا تعلیمی اداروں میں ایسی سر گر میاں تواتر سے ہونی چاہئیں اورایسے صنعتی میلے کا انعقاد سال میں ایک بار کی بجائے کم از کم دو بار کیا جانا چاہیے۔گذشتہ سال ہونے والا یہ میلہ کل آٹھ حلقوں پر محیط تھا ،جن میں مینو فیکچرنگ انڈسٹری، سروسز انڈسٹری، کمپیوٹر اور الیکٹرونکس، کنسٹرکشن، آئل گیس اور قدرتی وسائل، کیمیکل، پروسیس انڈسٹری ، توانائی اور ماحولیات شامل تھی۔جبکہ اس میں 100 سے زائد انجینئرنگ و غیر انجینئرنگ کمپنیوں نے حصہ لیا اور اپنے اسٹالز بھی لگائے ۔ اس دوران جامعہ کے سال آخر کے طلبہ نے اپنے منصوبوں اور کمپنیوں میں بھرتی ہونے کیلئے انٹرویوز بھی دیئے اس کے علاوہ جامعہ کے شعبہ پراڈکٹ ڈیزائن نے اپنی مصنوعات کی نمائش کا اہتمام کیا۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -