”اب ہم یہ لباس نہیں پہنیں گی “ایئر ہوسٹسز نے ایئر لائن کے خلاف ’بغاوت ‘ کر دی ، تاریخی مقدمہ جیت گئیں

”اب ہم یہ لباس نہیں پہنیں گی “ایئر ہوسٹسز نے ایئر لائن کے خلاف ’بغاوت ‘ کر ...

ہانگ کانگ سٹی(نیوز ڈیسک)ہانک کانگ کی کیتھے پیسفک ائیرلائن کی ائیر ہوسٹسیں طویل عرصے سے مطالبہ کر رہی تھیں کہ انہیں قابل اعتراض یونیفارم سے نجات دلائی جائے کیونکہ اس مختصر یونیفارم کی وجہ سے وہ مسافروں کے لئے جنسی تفریح کا سامان بن کر رہ گئی ہیں۔ یہ ائیرلائن 1946ءمیں قائم ہوئی اور شروع دن سے ہی بیچاری ائیرہوسٹسوں کو چست شرٹ اور مختصر سکرٹ پہنائی جا رہی ہے۔ اس حیا سوز یونیفارم کے خلاف ائیرہوسٹسوں کا 70 سال سے جاری احتجاج بالآخر رنگ لے آیا ہے اور پہلی بار ائیرلائن نے اس بات پر رضامندی ظاہر کر دی ہے کہ ائیرہوسٹسیں مختصر سکرٹ کی بجائے پتلون بھی پہن سکتی ہیں۔

یوں تو اس ائیرلائن کی ائیرہوسٹسیں شروع سے ہی اس بات پر احتجاج کرتی رہی ہیں کہ انہیں صرف سکرٹ پہننے پر مجبور کیا جاتا ہے اور اس بات کا مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ انہیں پتلون پہننے کی اجازت دی جائے، مگر چار سال قبل ائیرہوسٹسوں نے بہت بڑی تعداد میں سخت ترین احتجاج شروع کیا۔ ائیرہوسٹسوں کا مﺅقف ہے کہ سکرٹ مختصر ہونے کی وجہ سے انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے اور ان پر جنسی حملوں کا خدشہ ہر وقت موجود رہتا ہے۔ اس غیر معمولی احتجاج کے بعد سے اس معاملے کو میڈیا میں بھی کافی توجہ ملتی رہی ہے۔

اب بالآخر ائیرہوسٹسوں کی یونین اس مطالبے کو منوانے میں کامیاب ہوگئی ہے کہ ائیرہوسٹسیں مختصر سکرٹ کی بجائے پتلون بھی پہن سکیں گی۔ اس کامیابی پر ائیرہوسٹسوں کا کہنا ہے کہ اب انہیں صرف اپنی یونیفارم پر اختیار ہی حاصل نہیں ہوگا بلکہ وہ خود کو پہلے سے زیادہ محفوظ بھی تصور کریں گی۔

مزید : بین الاقوامی