الیکشن کمیشن کے دو ارکان کی نامزدگی:بامعنی مشاورت کے تقاضے پورے کریں

الیکشن کمیشن کے دو ارکان کی نامزدگی:بامعنی مشاورت کے تقاضے پورے کریں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


دو صوبوں(سندھ اور بلوچستا ن) کے ارکان الیکشن کمیشن کی نامزدگی کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافِ رائے شدت اختیار کر کے باقاعدہ تنازع بنتا نظر آ رہا ہے،دونوں ارکان کی نامزدگی کی آئینی مدت پہلے ہی ختم ہو چکی ہے،جس دوران نئی نامزدگیوں کا معاملہ حل کر لینا چاہئے تھا،بظاہر اس میں کوئی رکاوٹ بھی نہیں ہونی چاہئے تھی،کیونکہ یہ ایسا معاملہ نہیں،جس پر بلاوجہ تاخیر کی جائے۔آئین کا تقاضا صرف یہ ہے کہ وزیراعظم کو قائد حزبِ اختلاف کی مشاورت سے یہ نامزدگیاں کرنی ہیں، لیکن اب تک ’’بامعنی مشاورت‘‘ کا سیدھا سادہ آئینی راستہ اختیار کرنے کی بجائے ایسا طریقِ کار اختیار کیا جا رہا ہے جسے بھول بھلیوں اور بجھارتوں سے تعبیر کیا جائے تو غلط نہ ہو گا،پہلے تو دفتر خارجہ کی ایک خاتون عہدیدار نے دونوں صوبوں سے تین تین افراد نامزد کر کے قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف کو ایک خط لکھ دیا، جس پر بجا طور پر یہ سوال پیدا ہوا کہ دفتر خارجہ کا اِس معاملے سے کیا تعلق ہے؟اگر اُنہیں وزیر خارجہ نے خط لکھنے کے لئے بھی کہہ دیا تھا تو اُنہیں یہ موقف اختیارکرنا چاہئے تھا کہ آئین نے ’’وزیراعظم اور قائد حزبِ اختلاف‘‘کی مشاورت کی پابندی لگائی ہے اس میں دفتر خارجہ کہاں سے آ گیا؟لیکن انہوں نے غالباً حُکمِ حاکم کے تحت خط لکھ کر اپنا فرض نبھا دیا،جس کا جواب قائد حزبِ اختلاف نے یہ کہہ کر دے دیا تھا کہ اس خط سے آئینی پابندی کی بجاآوری نہیں ہوتی۔
اب وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پرنسپل سیکرٹری نے ایک خط بھیج دیاہے جس میں مزید تین تین نام تجویز کر دیئے گئے ہیں لُطف کی بات یہ ہے کہ یہ چھ نام اُن ناموں سے مختلف ہیں جو اس سے پہلے دفتر خارجہ کے خط میں تجویز کئے گئے تھے۔گویا اب تک 12نام سامنے آ چکے ہیں، جن میں سے دو نام فائنل ہونے ہیں، شہباز شریف نے اس خط کا جواب بھی بھجوا دیا ہے،جس میں یہی موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس طرح مشاورت کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔معلوم نہیں اس خط کے بعد حکومت کی طرف سے کیا موقف سامنے آتا ہے یا اب کی بار کون خط لکھتا ہے،لیکن سوال یہ ہے کہ وزیراعظم کو آخر قائد حزبِ اختلاف کے ساتھ مشاورت کے سلسلے میں تحفظات کیا ہیں؟ وہ کیوں آئین کے تقاضے کے مطابق اس طرح مشاورت نہیں کر ر ہے جس طرح آئین کی منشا ہے اور سرکاری عہدیداروں کے ذریعے خط کتابت کی بے کار اور بے مقصد مشق کیوں کی جا رہی ہے، معروف معنوں میں مشاورت جس طرح ہونی چاہئے اس طرح کیوں نہیں کی جاتی اور وزیراعظم اس معاملے میں الجھنوں کا شکار کیوں ہیں؟
یہ درست ہے کہ وزیراعظم عمران خان قائد حزبِ اختلاف شہبازشریف کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے وہ انہیں چور ڈاکو تو اکثر کہتے رہتے ہیں،الزامات بھی لگاتے رہتے ہیں،لیکن اُنہیں اسی ایوان نے قائد حزب اختلاف بنایا ہے،جس ایوان نے عمران خان کو وزیراعظم بنایا ہے، اگر وہ اپنے انتخابات کو جائز اور درست تسلیم کرتے ہیں تو اُنہیں قائد حزبِ اختلاف کے انتخابات کو بھی درست ماننا پڑے گا،اس سلسلے میں پسند ناپسند کی نہیں،طریقِ کار اور ضابطوں کی اہمیت ہے۔ اگر انہیں شہباز شریف کے ساتھ کسی قسم کی ورکنگ ریلیشن شپ بھی پسند نہیں تو اس کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ وہ کسی نہ کسی طریقے سے مہم جوئی کر کے شہباز شریف کو اس منصب سے ہٹا دیں، یا اگر ممکن ہو تو حزبِ اختلاف میں ان کے خلاف بغاوت کرا دیں، ویسے جب اپوزیشن لیڈر کے انتخاب کا مرحلہ درپیش تھا تو بلاول بھٹو زرداری کو اس منصب کی پیشکش کی گئی تھی،لیکن انہوں نے یہ دانہ چگنے سے انکار کر دیا اور پیپلزپارٹی نے یہ موقف اختیار کیا کہ مسلم لیگ(ن) حکمران جماعت کے بعد دوسری بڑی پارٹی ہے اِس لئے اپوزیشن لیڈر کا تعلق اسی جماعت سے ہونا چاہئے، پھر بھی حکومت نے پوری کوشش کی کہ اس معاملے کو جتنا لٹکایا جا سکے لٹکا دیا جائے،بالآخر طوعاً و کرہاً شہباز شریف کو قائد حزبِ اختلاف ماننا پڑا وہ جیسے بھی ہیں باقاعدہ منتخب ہیں اور اسی طریقے سے منتخب ہیں، جس طرح وزیراعظم خود ہیں اُنہیں اگر کوئی مراعات حاصل ہیں تو وہی ہیں جو آئین و قانون اور قومی اسمبلی کے ضوابط کار اُنہیں عطا کرتے ہیں،انہیں جو پروٹوکول ملتا ہے وہ کسی کی مہربانی یا نظر عنایت کا نتیجہ نہیں ہے،اُنہیں اگر وزراء کی کالونی میں سرکاری گھر ملا ہوا ہے تو یہ اُن پر کسی کا کوئی احسان نہیں ہے، جس طرح ریاست کے دوسرے عہدیدار اور منصب دار ہیں اسی طرح قائد حزبِ اختلاف کا بھی ایک منصب ہے، کسی کو پسند آئے یا نہ آئے،جب تک شہباز شریف قانوناً اس منصب پر فائز ہیں۔ان کی حیثیت کے مطابق ان سے سلوک کرنا ہوگا اور اس حیثیت کو تسلیم کرنا ہوگا۔
اگر وزیراعظم کو قائد حزبِ اختلاف کے ساتھ مشاورت پسند نہیں تو اس کا ایک آئینی طریقِ کار بھی ہے۔انہیں چاہئے کہ وہ اختیار کریں اور اگر کامیاب ہو جائیں تو اُن کی مشاورت کے اس سارے عمل سے ہی اُن کی جان چھوٹ جائے گی،جس نے انہیں مشکل میں ڈال رکھا ہے، طریقِ کار یہ ہے کہ آئین میں جہاں جہاں اور جس جس عہدیدار کی نامزدگی میں ’’قائد حزبِ اختلاف سے مشاورت‘‘ کی پابندی عائد کی گئی ہے اس شق کو آئین سے نکالنے کے لئے آئینی ترمیم لے آئیں۔ اس کوشش میں اگر وہ کامیاب ہو گئے تو اُن کا راستہ بھی صاف ہو جائے گا اور آئندہ قائد حزبِ اختلاف کے ساتھ مشاورت کے امتحان سے انہیں گزرنا نہیں پڑے گا،لیکن جب تک ایسا نہیں ہوتا،اُس وقت تک انہیں یہ کڑوی گولی نگلنی پڑے گی،اِس لئے بہتر ہے کہ وہ خط کتابت کا مشغلہ ختم کر کے سیدھے سبھاؤ قائد حزبِ اختلاف کے ساتھ باہمی مشاورت کر کے جلد از جلد الیکشن کمیشن مکمل کریں،جن دفتروں اور جن عہدیداروں کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں اُنہیں بھی آزمائش سے دوچار نہ کریں۔

مزید :

رائے -اداریہ -