بلند عمارتوں کی تعمیر۔۔۔ضروریات اور خدشات!
ڈھاکہ(بنگلہ دیش) کی ایک چوبیس منزلہ عمارت میں آگ لگنے کی وجہ سے19افراد جاں بحق اور بیسیوں زخمی ہو گئے، فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں کی بہترین کوشش کے باوجود نقصان سے نہ بچایا جا سکا کہ آگ اوپر کی منزلوں میں لگی۔ متعدد افراد نے تو جان بچانے کے لئے چھلانگیں لگائیں اور موت کو گلے لگا لیا، بلند عمارتوں کی ایسی ہی آتشزدگی کی وارداتیں کراچی ، لاہور اور اسلام آباد میں ہو چکی ہیں۔ ایل ڈی اے کے دفتر کی عمارت میں نیچے اترنے کا کوئی بندوبست نہ تھا۔ جب اس عمارت میں آگ لگی تو بہت سے لوگ اندر ہی زندہ جل گئے۔ کراچی کے بارہ، چودہ منزلہ فلیٹوں میں آتشزدگی سے بھی آگ بجھانے میں مشکلات پیش آتی رہیں کہ ہمارے پاس آگ بجھانے اور لوگوں کو بچانے کے لئے اتنی بلند جگہ والے آلات ہی نہیں ہیں، چنانچہ جانی نقصان تو ہوتا ہی ہے۔ اب ایک خبر تو یہ ہے کہ اسلام آباد ترقیاتی ادارے نے بلند عمارتوں کے لئے آگ بجھانے کے آلات کی پابندی کے حوالے سے نئے قواعد بنائے ہیں،جو جلد ہی نافذ العمل ہوں گے، تاہم ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا کہ فائر بریگیڈ اور ریسکیو کو نئے حالات کے لئے تیار کرنے اور ان کو آلات و مشینری فراہم کرنے کا بھی اہتمام کیا گیا ہے یا نہیں؟ 2005ء کے زلزلے میں اسلام آباد کی ایک عمارت گر گئی تو ریسکیو اداروں کی ’’تنگ دستی‘‘ کھل کر سامنے آگئی۔ حال ہی میں وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں وفاقی کابینہ نے اسلام آباد میں بلند عمارتوں کی تعمیر کی حد پر عائد پابندی ختم کرنے،این او سی کی شرط بھی ختم کر دی ہے، کابینہ کا خیال ہے اِس سے تعمیراتی شعبے میں انقلاب برپا ہو گا اور موجودہ زمانے کے مطابق دبئی اور نیو یارک کی نقل شروع ہو جائے گی اور ایک دوسرے کے مقابلے میں زیادہ بلند عمارتیں بننے لگیں گی۔ وزیراعظم عمران خان تو واضح طور پر کہہ چکے کہ ان کے دورِ اقتدار میں زرعی زمینوں پر مزید ہاؤسنگ کالونیاں بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور عمارتوں کی تعمیر بلندی کی طرف ہو گی،اسی حوالے سے یہ سوال پیدا ہوا کہ اجازت تو دے دی گئی، لیکن حوادث کا بھی خیال رکھا گیا یا نہیں؟ ۔۔۔ کسی بھی بدقسمتی کے موقع پر امدادی کارروائیوں کی کیا صورت ہو گی۔ اس بارے میں نہ توکچھ بتایا گیا اور نہ ہی یہ معلوم ہے کہ بلند عمارتوں کی بہتات پانی، گیس اور بجلی کی ضرورت میں بھی بہت زیادہ اضافہ کر دے گی، تو اِس بارے میں بھی ساتھ ساتھ کام ہو گا؟کہ ان ضرورتوں کے بغیر تو بلند عمارتوں کی تعمیر فائدہ مند نہیں ہو سکتی۔ جہاں تک وزیراعظم کی یہ خواہش ہے کہ تعمیرات بلندی کی طرف جائیں،اس میں میدانی علاقوں کے موسم کو بھی مدنظر رکھنا اور سماجی مزاج کا دھیان بھی لازم ہے۔فلیٹوں کی سکیم تو یوں بھی پنجاب کے میدانی علاقوں میں کامیاب نہیں تھی کہ یہاں گرمیوں میں ہوا نہیں چلتی اور لوگوں کا مشترکہ طور پر گزارہ کرنے کا مزاج نہیں ہے، یہ ضرورت تو ہو سکتی ہے،لیکن اس سے سماجی مسائل بڑھ جائیں گے کہ پنجاب والے (خصوصاً جنوبی مرکزی علاقوں کے لوگ) تو چھتوں پر سونے کے بھی عادی ہیں۔ جہاں تک اسلام آباد، لاہور اور ملتان جیسے شہروں کا تعلق ہے تو یہ بڑے اور ہوائی سروس کے علاقے ہیں،ایسے شہروں میں بلند عمارتوں کی تعمیر کے لئے سول ایوی ایشن،ائر فورس اور ماحولیات کی آرا کو شامل کرنا لازمی ہونا چاہئے، ورنہ یہ سکیم بھی دوسری فلاپ سکیموں کی طرح فیل ہو جانے کا خدشہ ہے۔
