پھول سے بچے مرجھا گئے

پھول سے بچے مرجھا گئے
پھول سے بچے مرجھا گئے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

ہم تقریبات منانے میں مست ہو جاتے ہیں، احتیاطی تدابیر کا خیال نہیں رکھتے۔ ویگن رکشہ میں بچوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ٹھونس دیتے ہیں۔ درمیان میں گیس کے سلنڈر بھی رکھے ہوتے ہیں۔ فحش گانے بھی بچوں کو سنائے جا رہے ہوتے ہیں۔

پھر معلوم ہوتا ہے ویگن یا رکشہ میں دھماکہ ہوا، آگ لگ گئی، پھول جیسے بچے موت کی آغوش میں چلے گئے، حکومتی سطح پر شور بلند ہوا، نوٹس لیا گیا، کچھ عرصہ میڈیا نے بھی ساتھ دیا۔ اس مسئلے کو ٹی وی پر دکھایا جاتا رہا۔

گیس کے سلنڈر استعمال کرنے پر پابندی لگا دی گئی۔ متاثرین رو دھو کر چپ کر گئے۔ ملنے والوں نے تسلی دی۔ اللہ اور دے دے گا۔ جو باقی ہیں، ان کا خیال کریں۔ اسی طرح پھر سفرِ زندگی چل پڑتا ہے، مگر مرنے والوں کا دکھ اندر ہی اندر پلتا رہتا ہے۔

جب کوئی خوشی کا لمحہ آتا ہے، معصوم بچے، ان کی باتیں ، ان کے بستے ، کپڑوں کی خوشبو سے والدین بے حال ہو جاتے ہیں۔ کچھ دیر کے لئے رو دھو لیتے ہیں۔
جہاں تک سکولوں کی حالت کا ذکر ہے، اس بارے میں کئی سروے ہو چکے ہیں، دیواریں ٹوٹی ہوئی ہیں، مویشی بندھے ہوئے ہیں۔ درختوں کے نیچے پڑھائی ہو رہی ہے۔ بچے زمین پر بیٹھے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ صاف پانی کا کوئی انتظام نہیں، لیٹرین وغیرہ ہے ہی نہیں یا بُری حالت میں دکھائی دیتی ہیں۔

ٹی وی شو میں بڑے بڑے وزیر دعوے کرتے ہیں۔ ہم نے اسی میدان میں پروگرام بنائے ہیں۔ کچھ سال میں اس کے اثرات آپ دیکھیں گے۔ سبز باغ دکھانے میں کوئی حرج نہیں۔ ان کا رعب بڑی بڑی گاڑیاں یہ جا وہ جا۔ کبھی بیرون ملک کے دورے، دیگر مراعات، اگر کوئی پوچھ لے تو کمرے سے نکال دیتے ہیں۔ دھمکیاں دیتے ہیں۔
اس کا نقصان عوام ہی کو اٹھانا پڑے گا۔ ان کے پانچ سال تو آپ نے برداشت کرنے ہیں۔ یوم پاکستان کی تقریب پاکستان کے مختلف شہروں میں زور و شور سے منائی گئی۔ شہروں کو مختلف روشنیوں اور ماڈلوں سے سجایا گیا۔

مینارپاکستان کے قریب رات کے 12بجے کے بعد روشنیوں کے تماشے دکھائے گئے۔ دشمن خوف سے ڈر گیا تو دوسری طرف گوجرانوالہ کے سکول میں بھی تقریب منعقد کی گئی۔ بچے اچھے کپڑے پہن کر آئے تھے۔ خوشی کا اظہار کر رہے تھے۔ پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔ ٹیچر بھی وطن سے محبت کا پیغام دے رہے تھے، مگر افسوس نجی سکول کے مالک نے اس خستہ حالت سکول کی مرمت پر توجہ نہیں دی تھی۔ بس مال جمع کیا۔

خستہ حال دیوار گر گئی ، جس میں 5بچے اور ایک ٹیچر جاں بحق ہو گئے اور درجن سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ یہ خوشی کی تقریب دکھ اور غم میں بدل گئی۔تھوڑی دیر میں یہ خبر ملک بھر میں پھیل گئی۔ سب صدمے سے بے حال ہو گئے۔ عوام کو اس سے پہلے والے ظلم و زیادتی کے واقعات یاد آنے لگے۔ اب عوام کو سوچنا ہو گا۔

بچوں کی خود نگرانی کرنا ہو گی۔ اچھے سکولوں کا انتخاب کرنا ہو گا، کیونکہ ان کی لاپرواہی بچوں کو واپس نہیں لا سکے گی۔کاش اداروں کے سربراہ اپنی ڈیوٹی فرض سمجھ کر اور اللہ تعالیٰ سے وعدہ وطن کی خدمت کا پورا کریں تو ملک میں اس قسم کے واقعات نہ ہوں، مگر وہ مقابلے کا امتحان پاس کرکے بڑا آفیسر بننے کا خواب دیکھتے ہیں اور سکون سے سرکاری سہولتوں سے فائدہ اٹھا کر اسلام آباد میں زندگی بسر کرتے ہیں۔

قوم و ملک کی خدمت کرنے کے لئے راتوں کو اٹھنا پڑتا ہے۔ اپنے اداروں کو دیکھنا پڑتا ہے۔ صرف وزیراعلیٰ کے نوٹس لینے سے بات نہیں بنے گی۔ جن کی وجہ سے معصوم بچوں کی جانیں گئی ہیں، انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔

یہ بھی ضروری ہے کہ جو معیاری ادارے نہ ہوں، انہیں چلانے کی اجازت نہ دی جائے۔ کچھ عرصے بعد ان اداروں کو چیک کرتے رہنا چاہیے۔ صرف ٹی وی شو نہیں کرنے چاہئیں۔ ڈرو اس وقت سے جب اللہ تعالیٰ کی عدالت میں بے گناہ بچوں اور بڑوں کی جان جانے کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ یہ پھول سے بچے محنت اور امن کا پیغام پھیلا رہے تھے۔

وطن کے نغمے گا رہے تھے!گزشتہ دنوں وزیر تعلیم شفقت محمود ایم این اے کو گورنمنٹ سطح پر سکول بنانے کی فائل راقم دے آیا تھا۔ گزشتہ 20سال سے ایل ڈی نے مصطفےٰ ٹاؤن میں سکول کی جگہ نقشے میں چھوڑی ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں ان سے ملاقات کرنے میں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دیگر محکموں سے خط و کتابت کرنا پڑی ،کاش اس پر جلد کام ہو جائے۔

ایسا نہ ہو یہ جگہ کوئی اور لے اُڑے۔ یہاں کے بچے تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہ جائیں اور باہر دیگر سکولوں میں رش لگا رہے۔ ٹریفک بند رہے اور والدین بچوں کے خیریت سے گھر آنے جانے میں لگے رہیں یا نجی سکولوں کی بھاری فیسیں ادا کرتے رہیں۔ ملک کی ترقی کے لئے بہت ضروری ہے کہ بڑھتی ہوئی خوفناک حد تک آبادی اور جہالت پر قابو پانا ضروری ہے۔

ورنہ تمام ترقی کے اقدام دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ اس مسئلے میں دیر کرنے کی ضرورت نہیں۔ جلد سے جلد ان کاموں کی طرف عملی اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ ان معصوم بچوں کا مستقبل روشن بنانا ضروری ہے۔ ان کی جان و مال کی حفاظت کرنا ضروری ہے۔ انہیں بہتر ماحول مہیا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

مزید :

رائے -کالم -