بر طانوی بحران اور یورپی یونین
زمانے کے رنگ کیسے بدلتے ہیں؟۔۔۔ آج سے کچھ عرصہ پہلے تک آدھی دنیا کی قسمت کے فیصلے بر طانیہ کیا کر تا تھا۔ ایشیا، افر یقہ اور امریکہ کے بر اعظموں پر مشتمل کئی ممالک اور علاقوں کی معیشت، سیاست، جغرافیہ حتیٰ کہ معاشرت کو کن بنیادوں پر استوار کرنا ہے، یہ سب کچھ ’’لندن‘‘ میں بیٹھے حکمران طبقات طے کیا کرتے تھے ،مگر اب دیکھیں کہ بر طا نیہ خود اپنے اہم معاملات کا فیصلہ بھی نہیں کر رہا۔
2016ء میں ’’یورپی یونین‘‘ کے معاملے میں جو ریفرنڈم ہوا، اس کے بعد سے اب تک برطانیہ مسلسل ایک بحران کی زد میں ہے، بلکہ ماضی کی اتنی بڑی سامراجی طاقت دنیا کے سامنے ایک طرح کا تماشہ بنی ہوئی ہے۔
برطانوی وزیراعظم تھریسامے جولائی 2016ء سے یعنی وزیراعظم بننے کے فوراً بعد سے ہی اس کوشش میں لگی ہوئی ہیں کہ کسی طرح سے بر طانوی پارلیمنٹ کے ذریعے ’’یورپی یونین‘‘ سے الگ ہونے کے عمل کو مکمل کروایا جائے۔۔۔ مگر تھریسا مے کی بار بار کی کوششوں کے باوجود وہ ایسا کرنے میں کا میاب نہیں ہو رہیں ، بلکہ اب تو انہوں نے واضح طور پر اعلان کر دیا ہے کہ اگر یورپی یونین سے الگ ہونے کے لئے ان کے معاہدے کو پارلیمنٹ منظور کر لے تو وہ وزارت عظمیٰ سے بھی استعفیٰ دے دیں گی۔یہاں پر بنیادی سوال پیدا ہو تا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ اتنا زیادہ سیاسی شعور رکھنے والی برطانوی قوم ’’یورپی یونین ‘‘ کے مسئلے پر سیاسی پختگی کامظاہرہ نہیں کر سکی اور ایک شدید بحران میں پھنسی ہوئی ہے؟ یا دوسرے الفاظ میں کیا یہ برطانوی قوم اور حکمرانوں کی ناکامی ہے کہ وہ اس مسئلے کو حل نہیں کر پا رہے یا پھر ’’یورپی یونین‘‘ کی ساخت میں کوئی مسئلہ ہے؟ ان انتہائی اہم سوالوں کے جواب کے لئے ہمیں یورپی یونین کی بنیادی ساخت کو سمجھنا پڑے گا۔
دنیا کے کئی خطے اور ممالک تاریخی، تہذیبی، معاشی ، جغرافیائی اور سب سے بڑھ کر فطری اعتبا ر سے ایک وحدت ہیں، مگر محض سیا سی اور سرحدی تقسیم سے یہ خطے الگ الگ ریا ستوں پر مشتمل ہیں، جیسے عرب ممالک، خاص طور پر خلیجی ممالک جو تاریخی، تہذیبی، اور جغرافیائی اعتبار سے ایک وحدت ہیں، مگر اس خطے کو کئی ملکوں میں تقسیم کر دیا گیا۔
اسی طرح شمالی اور جنو بی کوریا ، افر یقہ اور لاطینی امریکہ کے کئی ممالک کی غیر فطری تقسیم اس امر کی مثا لیں ہیں،جبکہ دوسری طرف کئی خطوں کو تاریخی، تہذیبی، سیاسی اعتبار سے جدا ہونے کے باوجود ایک معاشی ، سیاسی اور تہذیبی وحدت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اس وقت یورپی یونین اس امر کی سب سے بڑی مثال ہے۔جب 7 فروری 1992ء کو Maastricht Treaty (یورپی یونین کا معاہدہ) کر کے یو رپ کے 27ممالک پر مشتمل یورپی یونین کی بنیاد رکھی گئی تو یورپ کے کئی دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کی جانب سے یہ دعوے کئے گئے کہ یورپی یونین ایک فطری بلاک ہو گا۔ ایسا تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ یورپ میں سیاسی ،معاشی اور تہذیبی اعتبار سے خاصی مماثلت ہے، اس لئے یہ بلاک مستقبل میں بھی قائم رہے گا،مگر یہ دعویٰ کر نے والے بھول گئے کہ یو رپ قطعی طور پر ایک معاشی اور سیاسی وحدت نہیں، بلکہ یو رپی یونین کے اندر معاشی اور سیا سی تر قی کی تقسیم اسی قدر گہری ہے ،جس قدر ترقی یا فتہ یورپی مما لک کی ایشا ئی مما لک سے۔
ایک طرف جنوبی یورپ(پرتگال، یونان، سپین، اٹلی) اور دوسری طرف شمالی یورپی ممالک (جرمنی، ہالینڈ، فرانس، سکینڈے نیوین ممالک) ہیں۔ یہ تقسیم محض ثقافتی نہیں، بلکہ سیاسی اور معاشی بھی ہے۔ در اصل یہ تقسیم ’’کلائنٹل ازم ‘‘اور ’’نان کلائنٹل ازم ‘‘کی ہے۔
آج سیاسیات کے جدید ماہرین جمہوری ممالک میں سیاسی شعور کا اندازہ لگانے کے لئے کلائنٹل ازم اور نان کلائنٹل ازم کے پیمانے کو ہی استعما ل کر رہے ہیں۔ کلائنٹل ازم سے مراد کیا ہے؟ اور یہ کیسے یو رپی یونین کے اتحا د پر اثر انداز ہورہی ہے؟۔۔۔ ایسے جمہوری ممالک جہاں پر سیاسی جماعتیں اپنے اقتدار کے لئے ریاستی اداروں اور وسائل کو استعمال میں لا کر اپنے ووٹروں یا حامیوں کو نوازتی ہیں۔
اس نوازنے میں سرکاری اداروں میں اپنے حامیوں میں نوکریوں کی تقسیم، حامیوں کو قانون سے تحفظ فراہم کرنے سے لے کر پیسوں اور دیگر مراعات شامل ہوتی ہیں۔ ان ممالک کے ووٹر اپنی حکومتوں یا سیاسی جماعتوں سے کسی دیرپا پروگرام کی بجائے فوری مراعات کے طالب ہوتے ہیں۔جیسے نوکریاں، پیسے، پانی ، سیوریج، نلکے اور تھانے کچہریوں میں سیاسی حمایت کے حصول کے مفادات وغیرہ۔
وا ضح رہے کہ ایسی ریا ستوں میں جہاں کلائنٹل ازم کی بنیاد پر جمہوری نظام چل رہے ہیں، ان ممالک میں ریاستی وسائل کے نام پر اپنے حامیو ں کو نوازنا قطعی طور پر کرپشن کے زمرے میں نہیں آتا، بلکہ یہ سب کچھ قانون کے تحت ہوتا ہے۔ کلائنٹل ازم کے حا مل ممالک ایسے ہیں، جہا ں ریاست یا مستقل ریاستی اداروں کے باقاعدہ طور پر منظم ہونے سے پہلے ہی جمہوری نظام آ جاتا ہے اور سیا سی جماعتوں کو اپنی سیاسی حمایت کے حصول کے لئے ووٹروں کو بغیر کسی جواب دہی کے نوازنا پڑتا ہے۔
بھارت، پاکستان، میکسیکو، بنگلہ دیش، سری لنکا، برازیل، تھائی لینڈ ،کینیا ، نا ئیجیریا وغیرہ کلائنٹل ازم کی حامل ریاستیں تصور کی جاتی ہیں۔ دوسری طرف جن ممالک میں ریا ست کے مستقل اداروں ( بیورو کریسی) کے منظم ہونے کے بعد صحیح معنوں میں جمہو ریت آئی، ان مما لک میں سیاسی جما عتوں نے اپنے حا می طبقوں یا گروپوں کو نوازا تو ضر ور، مگر ریاستی اداروں کو مکمل طور پر اپنے حا میوں کے لئے استعما ل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں،کیو نکہ مضبوط ریاستی ڈھانچے نے سیاسی جماعتوں کو اس امر کی اجازت نہ دی۔
یہی وجہ ہے کہ جرمنی، برطانیہ، ہالینڈ، فرا نس اور سکینڈے نیوین ممالک میں کلاسیکل معنوں میں کلائنٹل ازم قا ئم نہ ہو سکا۔۔۔ (جمہوریت آنے کے بعد)۔۔۔ اب اگر اسی تناظر میں یورپین یونین کے مسئلے پر حالیہ برطانوی بحران کو دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس مسئلے کی جڑ یں بھی کلا ئنٹل ازم اور نان کلائنٹل ازم میں ہی مو جود ہیں۔ سابق برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی جانب سے 2016ء میں یورپین یونین میں رہنے یا نہ رہنے کے حوالے سے ریفرنڈم کا انعقاد اس لئے کیا گیا تھا ، تاکہ اپنی جما عت ’’قدامت پرست پارٹی ‘‘میں موجود یورپین یونین کے مخالف رہنماؤں اور دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت ’’یوکے انڈی پینڈنس پا رٹی‘‘ کی سیا ست کو کمزور کیا جائے۔
ریمین ( یورپین یونین میں رہنے ) کے بڑے حامیوں میں ڈیوڈ کیمرون اور لیبر پا رٹی کے راہنما جیریمی کوربن شامل تھے، جبکہ یوکے انڈی پینڈنس پارٹی کے راہنما نائیجل فراج اور قدامت پرست پارٹی کے اہم رہنما بورس جانسن لیو (چھوڑنے) کے حامیوں کی قیادت کر رہے تھے ۔
اس وقت برطا نیہ کے اکثر سماجی اور معاشی مسائل کا ذمہ دار ایسے ایمیگرنٹس کو ٹھہرایا جا رہا ہے، جو یورپین یونین کی آڑ میں غریب یورپی ممالک سے آکر برطانیہ میں آباد ہو جا تے ہیں اور برطانوی معیشت پر بوجھ کا سبب بنتے ہیں۔ یہی وہ بنیا دی مسئلہ تھا ، جس کو بنیاد بنا کر قدامت پسند پارٹی کے چند رہنماؤں اور ’’یوکے انڈی پینڈنس پارٹی‘‘ نے یورپی یونین چھوڑنے کی مہم چلائی تھی،جبکہ بڑامعاشی مسئلہ یہی تھا کہ کیا برطانوی سرمایہ داروں کا مفاد ایک واحد یورپی منڈی میں پورا ہو سکتا یا پھر لیو (چھوڑنے) کے حامیوں کے مطابق برطانوی سرمایہ داروں کا مفاد یورپین یونین سے نکل کر چین، بھارت، عرب اور دولت مشترکہ کی منڈیوں میں ہے؟ ریمین (یورپین یونین میں رہنے) مہم کے حامیوں کا موقف تھا کہ یورپین یو نین میں رہنے سے نیٹو کا عسکری اتحاد بھی مضبوط رہے گا، جبکہ یورپین یو نین کو چھوڑنے والوں کا مو قف تھا کہ برطانیہ کو اس لئے بھی یورپین یونین کی رکنیت چھوڑ دینی چاہیے، کیونکہ اگر جرمنی نے یورپین یونین کے لئے ’’یورپی فوج‘‘ تشکیل دے دی تو اس سے جرمنی نہ صرف پورے یورپ پر چھا جا ئے گا، بلکہ یورپین یونین محض جرمنی کے مفادات کو پورا کرنے والا ایک ادارہ بن کر رہ جا ئے گا۔ یو رپ کے امیر ممالک ،مثلاًبرطانیہ، فرانس اور جرمنی اب غریب یورپی ممالک کے لئے مزید قربانیاں دینے کے لئے تیا ر نہیں۔
یورپی یو نین کے حکمرا ن یو رپی یونین کو قائم رکھنے کی بھر پو ر کوشش کر رہے ہیں، مگر بحران ہے کہ قابو میں ہی نہیں آرہا۔۔۔ اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یورپی یو نین کی تشکیل اپنی ہیت میں ہی ایک غیر فطری اتحا د تھا، جہا ں کلائنٹل ازم اور نان کلائنٹل ازم کی حا مل ریاستو ں کو ایک ہی لڑی میں پرو نے کی کوشش کی گئی۔کلائنٹل ازم اور نان کلانئٹل ازم کی یہ تقسیم اس قدر گہر ی ہے کہ مستقبل قر یب میں اس تقسیم کا ختم ہو نا ممکن دکھا ئی نہیں دیتا ۔
