سندھ حکومت کا قومی مالیا تی وسائل کی تقسیم پر تحفظات کا اظہار ، صوبوں کا حصہ کم نہیں کیا جائے گا: اسد عمر
لاہور(سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ دیسک ، نیوز ایجنسیاں) سندھ حکومت نے قومی مالیاتی وسائل (این ایف سی) کی تقسیم پر تحفظات کا اظہار کردیا۔وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت قومی مالیاتی کمیشن کا اجلاس ہوا جس میں صوبائی وزرائے خزانہ اور سیکریٹریز نے شرکت کی۔ اجلاس میں سندھ نے قومی مالیاتی وسائل (این ایف سی) کی تقسیم پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے آمدن اور وسائل سے کم فنڈز دیے جانے کا شکوہ کیا اور وفاقی حکومت سے شیئر زیادہ کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ این ایف سی ایوارڈ کے اجلاس میں سندھ کے وزیراعلیٰ و وزیر خزانہ سید مراد علی شاہ شریک نہیں ہوئے بلکہ ان کی جگہ سیکریٹری خزانہ نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کا اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ قومی مالیاتی ایوارڈ بجٹ سے پہلے تشکیل نہیں پا سکے گا اور آئندہ بجٹ پچھلے مالیاتی ایوارڈ کے مطابق ہی بنے گا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کی وفاق سے فنڈ نہ ملنے کی بات سیاسی اعتراض ہے، نویں مالیاتی کمیشن میں صوبوں کا حصہ کم نہیں کیا جائے گا۔دوسری جانب وزارت خزانہ نے قومی مالیاتی کمیشن اجلاس کا اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ وزیر خزانہ اسد عمر کی سربراہی میں نویں قومی مالیاتی کمیشن اجلاس ہوا، فروری میں بنائے گئے 6 ذیلی گروپوں نے اجلاس کو بریفنگ دی اور بریفنگ میں وسائل کی تقسیم کیلئے مختلف تجاویز دی گئیں۔اعلامیے کے مطابق تجاویز میں وسائل کی تقسیم میں شفافیت، ہم آہنگی اور ڈیٹا کے تبادلہ پر زور دیا گیا جب کہ اجلاس میں ذیلی گروپوں کو وسائل کی تقسیم پر تجاویز دینے کا کام جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی۔ خیبر پختونخوا نے مالی وسائل وفاقی اکائیوں میں برابر تقسیم کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے تمام شہریوں کو ایک جیسی بنیادی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے، اجلاس میں خیبر پختونخوا کی تجاویز کو سراہا گیا اجلاس میں اتفاق کیا گیا ہے کہ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ رواں سال 31 دسمبر تک اپنا کام مکمل کرے اور این ایف سی کا آئندہ اجلاس اپریل سے پہلے منعقد کیا جائے گا۔ آئندہ اجلاس میں فاٹا میں ٹیکسوں کے نفاذ اور کاروبار کرنے میں آسانیاں پیدا کرنے سے متعلق تجاویز دی جائیں گی۔وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ وسائل کی منصفانہ تقسیم مالیاتی کمیشن کی بڑی ذمہ داری ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ مالی معاملات میں مذاکرات کے دوران صوبوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہر صوبہ مالیاتی وسائل کے ڈیٹا کے تبادلے کیلئے فوکل پرسن مقرر کرے گا اور قومی مالیاتی کمیشن سیکرٹریٹ کومضبوط کرنے کیلئے اقدامات کیے جائیں گے۔ اعلامیے کے مطابق سندھ اور خیبر پختونخوا نے اس سلسلے میں رضا کارانہ طور پر تجاویز پیش کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ کوشش ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کا پراسیس رواں سال 31 دسمبر تک مکمل کرلیا جائے، ایک دو معاملات ایسے ہیں جن پر اصولی موقف طے پانے کی ضرورت ہے ،ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد وفاق اور صوبوں کے مابین ٹیکس کے حوالے سے ربط کمزور ہوا لیکن اب ہم چاہتے ہیں کہ آئندہ وفاقی اور صوبائی بجٹ میں اس سلسلہ میں پیشرفت اور بہتری لائی جائے،ہم نے این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے مجموعی بہتری کی کوشش کرنی ہے نہ کہ کسی نے کسی سے کچھ چھیننا ہے ۔ اسد عمر نے کہا کہ اجلاس میں گزشتہ میٹنگ میں تشکیل دیئے گئے 6 ورکنگ گروپس کی طرف سے کئے جانیوالے کام کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا کیونکہ گزشتہ این ایف سی کے اجلاس میں صوبوں اور وفاق کو اس سلسلہ میں کوار ڈی نیشن کی ذمہ داری تفویض کی گئی تھی۔وفاق اور صوبوں کے ورکنگ گروپس پر ہونے والا تمام کام پہلی مرتبہ ٹیبل کیا گیا ہے ،ابھی فیصلہ سازی کا موقع نہیں بلکہ وفاق او رصوبوں کے ذہن میں جوخیالات اور سفارشات ہیں اور آگے چلنے کے حوالے سے بات ہوئی ہے۔ اسد عمر نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ این ایف سی کے حوالے سے تشکیل دیئے گئے 6 ورکنگ گروپس میں ایک کی وفاق جبکہ پنجاب، خیبرپختونخواہ بھی ایک ایک اور بلوچستان دو گروپس کی کوارڈی نیشن کر رہا ہے، انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں وفاق اور صوبوں کے سوالات، آراو تجاویز اور سفارشات پر غورو خوض اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا گیا جبکہ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ این ایف سی ایوارڈ میں مجموعی طور پر بہتری لانی ہے اور ایک دوسرے سے کچھ چھیننا نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نویں این ایف سی ایوارڈ کی حتمی تاریخ تو نہیں دی جاسکتی لیکن کوشش ہے کہ 31 دسمبر تک این ایف سی ایوارڈ پر پراسیس کو مکمل کرلیا جائے۔ایک دو معاملات ایسے ہیں جن پر اصولی موقف طے پانے کی ضرورت ہے، ان میں سے ایک فاٹا کے خیبرپختونخواہ میں انضمام کے بعد وہاں کے معاملات میں بہتری لانا اور یہ ساری قوم کا عزم ہے کہ فاٹا کے ترقیاتی کاموں میں تیزی لائی جائے۔ اسد عمر نے کہا کہ گزشتہ چند سالوں میں ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد وفاق اور صوبوں کے مابین ٹیکس کے حوالے سے ربط کمزور ہوا لیکن اب ہم چاہتے ہیں کہ آئندہ وفاقی اور صوبائی بجٹ میں اس سلسلہ میں پیش رفت اور بہتری لائی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کی تشکیل آئی ایم ایف سے مشروط نہیں ہے ۔کاروبار بڑھانے کے لئے آسانیاں تلاش کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سابقہ حکومتوں کے دور میں بھی ٹیکس وصولی کم رہی ۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلاول کی وفاق سے فنڈز نہ ملنے کی بات سیاسی اعتراض ہے ، مالیاتی کمیشن میں رد و بدل کی باتیں بھی سیاسی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ چونکہ قومی مالیاتی ایوارڈ بجٹ سے پہلے تشکیل نہیں پا سکے گا اس لئے اس لئے آئندہ مالی سال کا بجٹ پچھلے مالیاتی ایوارڈ کے مطابق ہی بنے گا۔صحافی کے اس سوال کہ آئندہ بجٹ عوام دوست ہوگا کا جواب دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ عوام دوسٹ بجٹ کے حوالے سے ہر کسی کی اپنی تشریح ہے ، میں سمجھتا ہوں کہ بجٹ عوام دوست ہی ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے بات چل رہی ہے ، این ایف سی ایوارڈ کی تشکیل آئی ایم ایف سے مشروط نہیں ۔ اسد عمر نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2بلین ڈالر سے کم ہو کر فروری میں 395ملین ڈالر تک آ گیا ہے ۔25ہزار روپے کی منتقلی پر ٹیکس کی خبریں سفید جھوٹ ہیں، نان فائلر پر ٹیکس لگے گا فائلر پر کوئی ٹیکس نہیں ہے ۔ ممبر این ایف سی سندھ اسد سعید نے کہا کہ اجلاس میں اس بات پر اصولی موقف اختیار کیا گیا ہے کہ کسی صوبہ کا نقصان یا کسی کو زائد فائدہ نہ ہو۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی این ایف سی کے حوالے سے اجلاس کوخوشگوار ماحول میں جاری رہیں گے۔ ممبر این ایف سی بلوچستان محفوظ علی خان نے کہا کہ بلوچستان میں دہشتگردی سمیت سکیورٹی کی صورتحال کے باعث اخراجات کئی گنا بڑھ گئے۔ بلوچستان کو دوسرے صوبوں کے برابر لانے کیلئے بھی میکنزم بنانے کی ضرورت ہے۔ خیبرپختونخواہ کے وزیر خزانہ تیمور جھگڑا نے کہا کہ تمام صوبوں کی آراء کے مطابق این ایف سی ایوارڈ میں بہتری لانے کی کوشش کی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ فاٹا کی ترقی میں پورا ملک حصہ ڈالے گا۔پنجاب کے وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت نے کہا کہ نئے این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے پراسیس انتہائی اچھے ماحول میں چل رہا ہے، اجلاس میں تمام اکائیوں کی طرف سے وفاق کے مفاد میں سوچا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ نویں این ایف سی ایوارڈ سے وفاق اور اس کی تمام اکائیوں کو فائدہ حاصل ہو گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں تمام صوبوں کا کردار یکساں اہمیت کا حامل ہے جبکہ فیڈریشن کی مضبوطی صوبوں کے استحکام کی ضامن ہے،قومی مالیاتی کمیشن میں تمام ممبران کی رائے یکساں اہمیت کی حامل ہے، امید ہے کہ صوبے ایک دوسرے کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے مشترکہ مفاد کی حامل تجاویز پیش کریں گے اورایک دوسرے کی آراء کا احترام کریں گے۔ وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ ملک خطر ناک حالات سے باہر نکل آیا ہے۔ ملک کو اب کوئی خطرہ نہیں۔ حکومت نے گزشتہ چھ ماہ میں سترارب روپے کے نقصان کا سامنا کیا ہے۔ آج صرف پنجاب کا ہی نہیں بلکہ پورے ملک کا خزانہ خالی ہے گزشہ روز سول سیکرٹریٹ لاہور میں منعقدہ نویں این ایف سی ایوارڈ کے انعقاد کے موقعہ پر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ حکومت کی کاوشوں سے ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری آ رہی ہے۔ جس کے باعث پاکستان مالی بحران سے باہر نکل آیا ہے۔ آئندہ چند روز میں پاکستان کے عوام کو خوشخبریاں ملیں گی۔ مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے مستقبل کا فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے جو کوئی بھی کرپشن میں ملوث پایا گیا اس کا احتساب ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کو این ایف سی ایوارڈ پر کچھ تحفظات ہیں جس کا اظہار سندھ کر چکا ہے۔ وزیرا علیٰ سندھ مراد علی شاہ نے نویں مالیاتی ایورڈ کے اجلاس میں شرکت کیوں نہیں کی یہ سوال انہیں سے پوچھا جائے تو بہتر ہے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ پاکستان کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے 6 سے 12 ارب ڈالر کا مالیاتی پیکج مئی کے وسط تک موصول ہوجائے گا۔ایک انٹرویومیں انہوں نے کہاکہ فنڈ حاصل کرنے کیلئے اپریل کے اواخر یا مئی کے پہلے ہفتے میں سمجھوتہ طے پا جائے گا اور 6 سے 12 ارب ڈالر تک کا پیکج ملنے کی توقع ہے۔وزیر خزانہ نے کہاکہ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان پائے جانے والے اعتراضات گزشتہ چند ماہ کے مقابلے میں بڑی حد تک کم ہوچکے ہیں اور اب ہم سمجھوتے کی طرف گامزن ہیں۔دریں اثناوزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے جمعہ کے روز سول سیکرٹریٹ میں وفاقی وزیر خزانہ اسد عمرکی قیادت میں 9 ویں نیشنل فنانس کمیشن کے ارکان نے ملاقات کی۔ خیبر پختونخواہ کے وزیر خزانہ تیمور خان جھگڑا، وزیرخزانہ پنجاب ہاشم جواں بخت،ممبرپنجاب ڈاکٹر سلمان شاہ،ممبر بلوچستان محفوظ علی خان اورممبر سندھ اسدسید ملاقات کے دوران موجود تھے ۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ارکان کی آمد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل فنانس کمیشن کے اراکین کو پنجاب آمد پر خوش آمد ید کہتے ہیں ۔نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈکیلئے ورکنگ گروپس کا اجلاس خوش آئند ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ پر پیش رفت سے قومی یکجہتی اوربین الصوبائی ہم آہنگی کو فروغ ملے گا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے 9ویں نیشنل فنانس کمیشن کے اراکین کے اعزاز میں ظہرانہ دیاگیا۔ظہرانے میں ون ڈش سے نیشنل فنانس کمیشن کے ارکان کی تواضع کی گئی۔
این ایف سی اجلاس
