قدیم دور کا جاہل شہزادہ
’’ہاں! ہم علم حاصل کرنا چاہتے ہیں‘‘۔ شہزادہ شاہ زیب جوش سے بولا۔
’’ٹھیک ہے، مَیں پہلے ٹائم سکول جایا کروں گا، پھر دوسرے ٹائم تمہیں پڑھا دیا کروں گا‘‘۔ مدثر نے کہا۔
’’اچھا یہ ’’ٹائم‘‘ اور ’’سکول‘‘ کیا ہوتا ہے؟‘‘ شہزادے نے اپنی ٹھوڑی پر انگلی رکھ کر پوچھا:
’’ٹائم کا مطلب وقت اور سکول کا مطلب وہ جگہ جہاں علم حاصل کیا جاتا ہے‘‘۔مدثر نے پیار سے بتایا۔
’’اوہ! اچھا‘‘۔ شہزادہ سمجھے والے انداز میں بولا۔
’’اچھا تم سو جاؤ، دیر ہو گئی ہے‘‘۔ مدثر یہ کہہ کر بستر پر لیٹ گیا اور شہزادہ اُس کے ساتھ والے بیڈ پر سو گیا۔نرم و ملائم بستر پر بھی شہزادے کو نیند نہ آ رہی تھی وہ بار بار کروٹیں بدل رہا تھا۔ کچھ دیر بعد سسکیوں کی آوازیں بھی بلند ہونے لگیں۔
’’کیا ہوا تم رو کیوں رہے ہو؟‘‘۔ مدثر نے شہزادے کو روتے دیکھا تو اُٹھ بیٹھا اور اُس سے رونے کی وجہ دریافت کی۔’’ہمیں اپنے بہن بھائیوں اور اماں بابا کی یاد ستا رہی ہے، ہمیں اپنا ملک بھی بہت یاد آ رہا ہے‘‘۔ شہزادے نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔ ’’کوئی بات نہیں دوست! اللہ بہتر کرے گا تم سو جاؤ‘‘۔’’ یہ اللہ کیا ہوتا ہے؟‘‘
’’وہی جو سب کی پریشانیاں دور کرتا ہے، بچھڑے لوگوں کو ملاتا ہے، سب کو رِزق دیتا ہے، سب کی مدد کرتا ہے اور اِس دُنیا کا کارواں چلاتا ہے تم اللہ سے دُعا مانگو اللہ ضرور تمہاری دُعا قبول کرے گا‘‘۔
’’دُعا؟ یہ دُعا کا مطلب کیا ہوتا ہے؟‘‘
’’اگر اللہ کا بندہ جھولی پھیلا کر اُس سے گڑ گڑاتا ہے اور اپنی خواہش کا اظہار کرتا ہے، تم اُسے دُعا مانگتا کہتے ہیں‘‘۔
اپنے سوال کا جواب پا کر شہزادہ لیٹ گیا، مدثر بھی سو گیا۔ شہزادہ لیٹے لیٹے خدا سے دُعائیں مانگ رہا تھا اور اس کی آنکھ لگ گئی۔ صبح ہوئی تو مدثر سکول کی تیاری کر کے سکول روانہ ہو گیا اور شہزادے کو کہہ گیا کہ جب سکول سے لوٹے گا تو اس کے بعد تجھے پڑھائے گا۔شہزادے سے صبر نہ ہو رہا تھا کہ کب مدثر آئے اور اُسے پڑھائے۔اُسے نیا نیا علم حاصل کرنے کا شوق بیدار ہوا تھا۔ شہزادے کو آخر اُس وقت چین ملا جب مدثر سکول سے لوٹا۔مدثر نے کپڑے بدلے، کھانا کھایا اور الف، ب والا قاعدہ لے آیا اور شہزادے کو پڑھانے لگا۔ ’’الف‘‘ مدثر نے کہا تو شہزادے نے بھی ’’الف‘‘ کہا۔ مدثر کافی دیر اُسے پڑھاتا رہا، شہزادے کو آدھی الف ب یاد ہو گئی۔
’’شاباش! تم بہت ہوشیار ہو‘‘۔ مدثر نے اس کا حوصلہ بڑھایا۔’’ہیں! ہوشیار کیا ہوتا ہے بھلا؟‘‘
’’ہوشیار وہ ہوتا ہے جو تیز دماغ رکھتا ہے اور چست ہوتا ہے۔ ’’جیسے تم ہو‘‘۔
اسی طرح شہزادہ آہستہ آہستہ بہت کچھ سیکھ رہا تھا، مدثر کوئی بات کرتا اُسے بات میں کچھ لفظ کے معنی معلوم نہ ہوتے تو فوراً مدثر سے پوچھ لیتا تو مدثر کوئی جھنجھلاہٹ کے معنی بتا دیتا، جس سے شہزادے کے علم میں اضافہ ہو جاتا۔
ایک دن دونوں پارک میں گھومنے گئے۔وہ ایک بنچ پر بیٹھے تھے کہ وہاں کئی لڑکے آ گئے۔ اُن سب سے آگے والا لڑکا موٹا تھا جو سبھی لڑکوں کا سردار تھا۔ موٹے لڑکے نے مدثر کے سر پر ٹوپی اتار لی، مدثر چونک گیا۔
’’میری ٹوپی واپس کرو‘‘۔ مدثر چلایا۔
’’ارے اِسے ٹوپی واپس چاہئے ہم ہے تو ہم سے ٹوپی لے کر دکھاؤ‘‘۔ موٹا طنز کرتے ہوئے بولا۔
’’یہ لوگ کون ہیں؟‘‘ شہزادے نے مدثر سے پوچھا۔’’یہ میرے سکول میں میرے ساتھ پڑھتے ہیں،یہ ہیں تو میرے کلاس فیلوز،لیکن انتہائی شریر ہیں،یہ مجھے بہت تنگ کرتے ہیں‘‘۔مدثر نے جواب دیا۔
’’کلاس فیلوز کا مطلب بتا سکتے ہو؟‘‘ شہزادے نے آہستگی سے پوچھا۔ ’’کلاس فیلوز کا مطلب ہے اکٹھے علم حاصل کرنے والے‘‘! مدثر نے کلاس فیلوز کے معنی بتائے تو لہجے میں اضطراب تھا۔’’ارے! تم دونوں کیا کھسر پھسر کر رہے،اور یہ جنگلی انسان کون ہے؟‘‘موٹے لڑکے نے شہزادے کی طرف گھور کر کہا تو شہزادے کو اپنی توہین برداشت نہ ہوئی۔اُس نے غصے میں آ کر موٹے لڑکے کی گال پر زور دار مُکا دے مارا، موٹے لڑکے کی چیخ نکل گئی،شاید اُس کے دانت ٹوٹ گئے تھے اور واقعی موٹے کے منہ سے خون نکلنے لگا اور اُس کے اوپر والے تین دانت ٹوٹ گئے تھے۔ موٹے لڑکے کے پیچھے کھڑے اُس کے ساتھی خوف زدہ ہو کر بھاگ گئے۔ موٹا لڑکا بھی سر پٹ دوڑ کر بھاگ گیا۔ مدثر اُسے عجیب نظروں سے دیکھنے لگا، وہ بولا:’’واقعی! تم مجھے کسی اور جہاں کی مخلوق لگتے ہو‘‘۔
’’یہ تو ایک معمولی سی بات ہے، ہم نے تو اپنے ملک میں ایک خونخوار شیر کو مار ڈالا تھا،دو تین دانت توڑنا تو ایک عام سی بات ہے‘‘۔شہزادے نے اپنا کارنامہ سنایا۔
’’تمہیں مان گئے اور تمہاری بہادری کو بھی مان گئے‘‘۔ مدثر بے ساختہ بول پڑا،اس کے بعد دونوں گھر لوٹ آئے اور کمرے میں بیٹھ گئے۔مدثر قاعدہ نکال کر اُسے پڑھانے لگا،اِسی دوران مدثر کی امی جان کمرے میں داخل ہوئیں اور اُسے موبائل فون دیتے ہوئے بولیں:’’مدثر! تمہارے چاچو زاد کا فون ہے، بات کر لو‘‘۔ مدثر نے امی جان سے موبائل فون لے لیا اور اپنے چچا زاد سے باتیں کرنے لگا۔ شہزادہ پُر سوچ نگاہوں سے موبائل کو دیکھ رہا تھا۔ جب مدثر نے فون کر لیا تو موبائل امی کو دے دیا، امی موبائل لے کر چلی گئیں۔
’’وہ۔۔۔ وہ کیا تھا؟‘‘ شہزادے شاہ زیب کے پوچھنے پر وہ بولا:’’موبائل فون!‘‘
’’موبائل فونٖ ہائیں یہ موبائل فون اب کیا شے ہے؟‘‘
’’موبائل فون کے ذریعے ہم کسی بھی دور دراز علاقے سے کسی سے باتیں کر سکتے ہیں، اس سے پہلے ٹیلی فون ایجاد کیا گیا، پھر سائنس نے مزید ترقی کی تو موبائل بھی آ گئے۔ واضح رہے کہ ٹیلی فون انگریز داں گراہم بل نے ایجاد کیا تھا‘‘۔ مدثر نے شہزدے کو موبائل فون کے متعلق معلومات دیں۔
’’اچھا! تم نا ہمیں’’سائنس‘‘ کے معنی بتاؤ‘‘۔
’’یہ جو تم آس پاس نئی نئی ایجادات دیکھتے ہو نا، یہ سب سائنس کی بدولت ہے۔ ٹیلی ویژن، استری، گاڑیاں، جہاز سب سائنس کے کرشمات ہیں‘‘۔مدثر نے بتایا۔ ’’اب تو یہ بتاؤ کہ ’’ایجاد‘‘ کسے کہتے ہیں‘‘۔
’’ایجاد کا مطلب ہے بنانا، جیسے گراہم بل نے ٹیلی فون ایجاد کیا تو ہم کہیں گے کہ ٹیلی فون کا موجد گراہم بیل ہے‘‘۔
‘‘اتنی اچھی معلومات دینے کا شکریہ!‘‘ شہزادے نے شکریہ ادا کیا تو مدثر مسکرایا او کہا:’’اچھا اب مَیں تمہیں پڑھاتا ہوں، اس کے بعد مجھے اپنے سکول کا کام بھی کرنا ہے‘‘۔
مدثر شہزادے کو پڑھانے لگا تو وہ بڑی دِل جمعی سے پڑھنے لگا۔’’س‘‘ سے ’’ساون‘‘ مدثر نے پڑایا تو شہزادے نے اس کے پیچھے یہ الفاظ دہرائے: ’’س‘‘ سے ’’ساون‘‘! ’’ش‘‘ سے شادابی! سلسلہ یونہی رواں دواں رہا، تین چار دِنوں میں شہزادے کو ساری الف، ب یاد ہو گئی۔ مدثر نے اُسے گنتی اور اے بی سی بھی سکھائی۔ شہزادہ ذہین دماغ کا مالک تھا، سو جلد ہی گنتی بھی یاد کر لی اور اے بی سی بھی اُسے باآسانی آ جاتی تھی۔ اب مسئلہ تھا لکھنے کا! سو مدثر روزانہ اُس سے تختی پر لکھواتا، چند دِنوں میں وہ لکھنا بھی سیکھ چکا تھا۔ اس کی لکھائی بہت پیاری تھی،وہ مدثر کی کہانی والی کتابیں لے کر بیٹھ جاتا اور لفظ جوڑ کر پڑھتا۔ آہستہ آہستہ وہ اُردو فر فر پڑھنے لگا، گنتی اور اے بی سی میں بھی اُس کی روانی تیز ہو گئی۔بچو! شہزادہ قریباً ڈیڑھ سال مدثر کے گھر رہا، ایک دن پتہ ہے کیا ہوا! آیئے آپ کو بتاتا ہوں۔ مدثر سکول گیا ہوا تھا جبکہ شہزادہ کہاین کتاب پڑھ رہا تھا۔ اچانک ایک جھماکا ہوا، شہزادے کی آنکھیں بند ہو گئیں اور جب کھلیں تو خود کو اپنے ملک میں کھڑ ے پایا۔ وہ اس بات پر تو خوش ہوا کہ ہ اپنے ملک آ گیا، مگر ساتھ غمگین بھی ہوا کہ وہ مدثر سے جدا ہو گیا ہے۔وہ خوش ہو کر محل کی طرف بھاگ پڑا۔ محل میں لوگوں نے شہزادے کو دیکھا تو خوش ہوئے۔ شہزادہ شاہ زیب اب اپنے ملک میں ایک ایسا انسان تھا جو تعلیم اور تہذیب یافتہ تھا۔ وہ ایک شہزادہ تھا، مگر اُس نے ملک کے لوگوں کو تعلیم جیسے عظیم زیور سے آراستہ کرنا شروع کر دیا، ملک کے لوگ خوشی خوشی شہزادے سے علم سیکھتے تھے، رفتہ رفتہ پورا ملک تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو گیا اور ملک امن کا نمونہ بن گیا۔ ملک کے لوگ تمیز سیکھ چکے تھے اِس لئے لڑائی جھگڑے نہ کرتے، ملک کا نقشہ تبدیل ہو گیا اور امن کا گہوارہ بن چکا تھا۔ایک روز خبر پھیلی کہ قریبی اور پڑوسی ملک کے بادشاہ،بادشاہ کے پورے خاندان اور ساری رعایا پر ایک جمرود نامی جادو گر نے قبضہ جما لیا ہے۔ بادشاہ اور اس کا خاندان قید خانے میں ہیں اور رعایا جمرود جاگو گر کی خدمت کر رہی ہے۔ جادو گر کا کہنا تھا کہ اگر کوئی مرد کی اولاد اس سے مقابلہ کرے تو وہ سب کو رہائی دے دے گا۔ بادشاہ نے شاہ زیب سے کہا:’’ شابو! وہ بادشاہ میرا بہت اچھا دوست ہے، تمہارے پاس طاقت اور علم ہے اس کو کام میں لاتے ہوئے جمرود کا مقابلہ کرو‘‘۔
’’جی ایسا ہی ہو گا‘‘۔شزادہ شاہ زیب مؤدب انداز میں سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے جھکا۔ وہ قریبی ملک جا پہنچا۔ محل میں داخل ہوا تو غلام جمرود جادو گر کی غلامی کرتے نظر آ رہے تھے۔ جمرود جادو گر نے شہزادے کو دیکھا:’’ اے لڑکے! تو کون ہے؟‘‘
شہزادے نے برجستہ کہا:’’تمہاری موت ہوں‘‘۔
جادو گر طیش میں آیا:’’کیا بک رہا ہے؟‘‘
شہزادہ بولا:’’اے نمرود فرعون کی اولاد! مَیں یہاں بادشاہ اور رعایا کو آزاد کرانے کی خاطر آیا ہوں‘‘۔
’’اچھا!واحد انسان ہو جس نے ایسا کرنے کی ہمت کر کے اپنی موت کو بلاوا دیا۔ تجھے پتہ نہیں، تجھے کتنے مراحل میں سے گزرنا پڑے گا‘‘۔
’’اے جمرود جادو گر! جلدی مجھ سے مقابلہ کر، میرے پاس ’’ٹائم‘‘ کم ہے،اپنے گھر بھی جانا ہے‘‘۔
’’ایں ٹائم!‘‘ جمرود جادو گر کو یہ لفظ نیا نیا لگا۔ ’’ہاں ٹائم، وقت کو کہتے ہیں، تجھے کیسے پتا ہو گا، تُو تو جاہل جادوگر ہے‘‘۔ شہزادے شاہ زیب بولا۔ ’’پہلے ایک جواب دے‘‘۔ جادو گر غرایا تھا۔ ’’جلدی بول!‘‘ شہزادہ بیزاری کے عالم میں بولا۔
‘‘اُس شے کا نام بتا جو بڑھ جائے تو چھوٹی نہیں ہوتی‘‘۔ جادو گر کے بولنے پر شہزادے نے جھٹ جواب دیا:’’قد!‘‘
’’جلد جواب دے دیا‘‘۔جادو گر نے حیران ہو کر کہا۔’’میرے پاس علم جو ہے‘‘۔ وہ بولا۔
’’تمہارے پاس علم ہے، اب دیکھتے ہیں تمہارے پاس قوت بھی ہے‘‘۔جمرود جادو گر اس کے سامنے آیا۔’’اے جمرود!مَیں نیش یر کو چیر پھاڑ کر رکھ دیا، میرے سامنے تجھ جیسے بھیڑیئے کی کیا اوقات؟‘‘
شہزادے نے طنز کرتے ہوئے کہا تھا۔
’’تُو نے مجھے بھیڑیا بولا‘‘۔ جمرود غصے سے کانپنے لگا۔’’ تو اور کیا، چھچھوندر بولوں؟ چلو ٹھیک ہے۔ تیرا نام چھچھوندر صحیح لگے گا‘‘۔شہزادے نے مزید طنز بھرے انداز میں کہا تھا۔
’’چل اب لڑ! ‘‘ جمرود جادو گر نے شہزادے سے دماغ لڑانا ٹھیک نہ سمجھا اور جسمانی لڑائی لڑنے کی دعوت دی۔
’’تجھ میں دیکھتے ہیں کتنا دم ہے، پر تُو اپنے جادو سے نہیں لڑنے گا، ایسے لڑائی کرے گا‘‘۔ شہزاے نے اپنے علم کے ذریعے اُسے سنبھانا چاہا۔
’’چل ٹھیک ہے‘‘۔ پھر شہزادے اور جادو گر کے درمیان لڑائی شروع ہوئی۔ شہزادے نے اپنی طاقت کا بھرپور اظہار کیا۔ جادو گر کی ٹھیک ٹھاک دُھلائی کر کے بھگانے پر مجبور کر دیا تھا۔ شہزادے شاہ زیب نے قید خانے سے بادشاہ اور اس کے خاندان کو آزاد کروایا۔ بادشاہ، شہزادے کی جواں مردی سے متاثر ہوا تھا اور بادشاہ شبیر،یعنی اپنے جگری دوست سے اپنی بیٹی شہزادی ماہ پارہ کی شادی، شہزادے شاہ زیب سے کروانے کی بات کی۔بادشاہ شبیر نے کہا:’’مجھے کوئی اعتراض نہیں‘‘۔ پھر بارات قریبی ملک میں گئی اور شہزادی ماہ پارہ، شہزادے کی دُلہن بن کر آ گئی۔
پرستان کے پرستارو! آپ کو ’’علم‘‘ کی اہمیت و افادیت کا ’’علم‘‘ ہوا، سو حضور اکرمؐ کے اس فرمانِ عالی شان پر عمل کیجئے:’’علم حاصل کرو،چاہے اس کے لئے تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے‘‘۔
