معاشی بدحالی ماضی کے حکمرانوں کی کر پشن اور بیڈ گورننس کا نتیجہ،ملک کو مضبوط اور خوشحال بنانے کیلئے کسی رکاوٹ کو برداشت نہیں کیا جائیگا :گور نر پنجاب
لاہور(صباح نیوز) گور نر پنجاب چوہدری محمدسرور نے کہا ہے کہ معاشی بدحالی ماضی کے حکمرانوں کی کر پشن اور بیڈ گورننس کا نتیجہ ہے مگر اب ملک کو مضبوط اور خوشحال بنانے کیلئے گڈ گورننس اورآئین وقانون کی حکمرانی میں کسی رکاوٹ کو برداشت نہیں کیا جائیگا ، ایف بی آر سمیت کوئی ادارہ بزنس کیمونٹی کو تنگ نہیں کر یگا اور بزنس کیمونٹی کے خلاف جو بھی ناجائز مقدمات درج ہیں پولیس کو تحقیقات کے بعد انکو ختم کر نے کی ہدایت کردی ہے،حکومت بزنس کیمونٹی سمیت تمام شعبوں کو ساتھ لیکر چلے گی ۔
وہ گور نر ہاؤس لاہور میں چوتھی ایل پی جی اینڈ انر جی انٹر نیشنل کانفرنس اور مقامی ہوٹل میں پا کستا ن اکیڈ می آ ف فیملی فز یشنز کے زیر اہتمام29ویں’’فیملی کون انٹرنیشنل 2019 ‘‘ سے خطاب کر رہے تھے جبکہ اس موقعہ پر صوبائی وزیرانر جی ڈاکٹر اختر ملک 'ایل پی جی ایسوسی ایشن کے چیئر مین عر فان کھوکھر 'معروف بزنس مین افتخارملک 'ارسلان کھوکھر'ڈاکٹر طارق محمود میاں 'ڈاکٹر سعید احمد 'ڈاکٹر طاہر چوہدری 'ڈاکٹر عبد الر حمن 'ڈاکٹر نوید احمد بھٹی اور ڈاکٹر ناہید ندیم سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ گور نر پنجاب چوہدری محمدسرور نے گور نر ہائوس لاہور میں ایل پی جی اینڈ انر جی انٹر نیشنل کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے نہ صرف ملک کو اربوں ڈالرز کا مقروض کر دیا بلکہ انکی کر پشن اور بیڈ گورننس کی وجہ سے ملک میں ادارے بھی تباہ ہوئے ہیں،تحر یک انصاف جب اقتدار میں آئی تو ہمیں معاشی لحاظ سے تباہ شدہ ملک ملا مگر اسکے باوجود ہم نے ملک کو پائوں پر کھڑا کر نے کیلئے آئی ایم ایف کے پاس جانے کی بجائے نئی پالیسیا ں بنائیں جسکی وجہ سے پاکستان آج معاشی طور پر دن بدن مضبوط ہورہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایل پی جی ایسوسی ایشن کے جو بھی جائز مطالبات ہیں انکی منظوری کیلئے وفاقی اور پنجاب حکومت ان کے ساتھ مکمل تعاون کر یں گی اور حکومت کی یہ طے شدہ پالیسی ہے کہ ملک میں بزنس کیمونٹی کو زیادہ سے زیادہ سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائی جائیگی کیونکہ بے روزگاری کے خاتمے اور ملکی ترقی میں ان کا اہم کردار ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح خسارے کو کم کرنا اور مہنگائی پر قابو پانا ہے اور آج پاکستان میں کاروباری صلاحیت بڑھ رہی ہے ملکی تجارتی خسارے میں بھی کمی آرہی ہے اور حکومتی اقدامات سے زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہوا میں پالیسی نہیں بنائے گی بلکہ بزنس سے متعلق پالیسی بنانے سے قبل بزنس کمیونٹی سے مشاورت کی جائے گی ۔ اس طرح ہر شعبہ میں متعلقہ شعبہ جات کے ایکسپرٹ حضرات سے باہمی مشاورت کے بعد ہی کوئی پالیسی ترتیب دی جائے گی۔بزنس کمیونٹی نے ہر طرح کے حالات میں معیشت کو سنبھالنے میں اپنا بڑا کردار ادا کیا ہے۔
گور نر پنجاب چوہدری محمدسرور نے انٹر نیشنل فیملی کو ن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دیہی علاقوں میں علاج معالجہ کی فراہمی کیلئے ہمیں مزید کام کر نے کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں وفاقی اورپنجاب حکومت اکیڈمی آف فیملی فزیشنز کی ٹھوس سفارشات کا خیر مقدم کر یں گی۔انہوںنے کہا کہ پاکستان اور دیگر ممالک سے ماہر ین طب کی اس کانفر نس میں شر کت انہیں ایک سنہری موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ اپنے علم 'تجر بات اور طب کی جدید تحقیق کو ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کر سکیں تاکہ وہ طب کی دنیاکو درپیش مسائل کا بہتر انداز سے احاطہ اور انکے حل کیلئے بہتر ین راہنما اصول مر تب کر سکیں ۔ میرے پاکستان آنے کا مقصد بھی یہی تھا کہ میں اپنے تجربہ کو پاکستان کے عوام کے نام کر سکوں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان ملک میں غر یبوں کو صحت کی سہولتوں کی فراہمی کیلئے جو اقدامات کر رہے ہیں ان کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی اور تاریخ میں پہلی بار پنجاب کے سر کاری ملازمین بھی صحت کارڈ کے ذریعے مفت علاج کرواسکیں گے ۔ انہوں نے کہ پاکستان کو مضبوط بنانے کیلئے تمام شعبوں سے وابستہ لوگوں کو مل جل کر کام کرناہوگا اور جب ہر کوئی اپنی ذمہ داری پوری کر یگا تو ملک آگے بڑ ھے گا
