کورونا وائرس،دنیا بھرمیں فاصلہ رکھنے پر زور لیکن سماجی دوری کا دراصل کیا فائدہ ہے؟ برطانوی نشریاتی ادارے نے واضح کردیا

کورونا وائرس،دنیا بھرمیں فاصلہ رکھنے پر زور لیکن سماجی دوری کا دراصل کیا ...
کورونا وائرس،دنیا بھرمیں فاصلہ رکھنے پر زور لیکن سماجی دوری کا دراصل کیا فائدہ ہے؟ برطانوی نشریاتی ادارے نے واضح کردیا

  

لندن(ڈیلی پاکستان آن لائن)کورونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے کیلئے دنیا بھرمیں لوگوں سے روابط توڑنے ، فاصلہ رکھنے اور میل ملاپ ختم کرنے پر زور دیا جا رہاہے۔ اس سماجی دوری کا دراصل کیا فائدہ ہے اور دنیا کیوں اس پر مصر ہے اس کا اندازہ بی بی سی اردو پر شائع ایک وضاحتی گرافک سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے،

بی بی سی اردو پر شائع اس گرافک میں بتایا گیا ہے کہ اگر پچاس فیصد کی شرح سے سماجی دوری اختیار کرلی جائے تو ایک شخص پانچ دن میں ایک اعشاریہ 25 افراد کو متاثرکرتا ہے۔ لیکن اگر سماجی دوری کے بنا رہا جائے تو ایک متاثرہ شخص دواعشاریہ 50فیصد لوگوں کو متاثر کرے گا۔

اسی تناسب کے ساتھ اگر زندگی گزاری جائے تو سماجی دوری کے ساتھ ایک ماہ میں صرف پندرہ افراد میں اس وائرس کی منتقلی کا خدشہ ہے لیکن اگر سماجی دوری نہ رکھی جائے تو ایک ماہ میں صرف ایک متاثرہ شخص مزید 406 افراد کو اس موذی مرض میں مبتلا کردے گا۔

تصویر بشکریہ بی بی سی اردو 

اور اگر سماجی دوری کے حکومتی احکامات کو نظرانداز کیا جائے تو یہ اعداد و شمار انتہائی خوفناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اٹلی اور سپین میں لوگوں نے سماجی دوری کی ہدایات کو اہمیت نہیں دی یہی وجہ ہے کہ وہاں اب مریضوں کی تعداد اس وائرس کے ابتدائی مرکز چین سے کہیں زیادہ ہوچکی ہے۔

مزید :

کورونا وائرس -