ذخیرہ اندوزو ں کی شرعی سزا کیا ہے؟علماء نے بڑا فتویٰ جاری کر کے حکومت کو راہ دکھا دی

ذخیرہ اندوزو ں کی شرعی سزا کیا ہے؟علماء نے بڑا فتویٰ جاری کر کے حکومت کو راہ ...
ذخیرہ اندوزو ں کی شرعی سزا کیا ہے؟علماء نے بڑا فتویٰ جاری کر کے حکومت کو راہ دکھا دی

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان علماء کونسل اور دارالافتاءپاکستان نے انسانی ضرورت کی اشیاء کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع کو حرام قرارد یتے ہوئے کہا ہے کہ تاجر حضرات فوری طور پر انسانی ضرورت کی روز مرہ کی اشیاء کو عوام الناس کو مہیا کریں ،حکومت ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لے اور ان کی اشیاء کو ضبط کر کے مستحقین میں تقسیم کر دے ۔

پاکستان علماء کونسل کے مرکزی چیئرمین اور صدر وفاق المساجد و المدارس پاکستان حافظ محمد طاہر محمود اشرفی ، مولانا اسد زکریا قاسمی ، علامہ عبد الحق مجاہد ، مولانا مفتی محمد عمر فاروق ، مولانا مفتی محمد ضیاء مدنی ، مولانا مفتی حفیظ الرحمن ، مولانا نعمان حاشر ، مولانا محمد شفیع قاسمی ، علامہ طاہر الحسن ، مولانا اسد اللہ فاروق ، علامہ زبیر عابد، مولانا حسین احمد درخواستی اور دیگر اکابر علماء و مشائخ کی طرف سے جاری کردہ فتویٰ میں کہا گیا ہے کہ ذخیرہ اندوزی اور عوام الناس کے استعمال کی چیزوں کا ذخیرہ کرنا شرعی طور پر نا جائز ہے اور ذخیرہ اندوزی کرنے والے سے اللہ اور اللہ کے نبی ﷺ نے بیزاری کا اعلان کیا ہے،احادیث مبارکہ میں ذخیرہ اندوزی کرنے والے کو ملعون قرار دیا گیا ہے اور حضرت عمرؓ سے ایک روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ جس نے مسلمانوں کے خلاف غذائی اجناس کی ذخیرہ اندوزی کی اللہ کریم اس پر غربت افلاس اور جذام کی بیماری کو مسلط کر دیں گے۔ملک گیر لاک ڈاون کی وجہ سے عوام الناس اضطراب کا شکار ہیں، ایسی صورتحال میں ذخیرہ اندوز اور ناجائز منافع خور اشیائے ضروریہ کو مارکیٹ سے غائب کرکے معاشرے میں افراتفری پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں ایسے عناصر ناصرف ملک و قوم کے لئے پریشانی کا باعث بن رہے ہیں بلکہ اللہ کے عذاب کو بھی دعوت دے رہے ہیں۔

اس ناگہانی صورتحال میں خوراک اوردیگر اشیائے ضروریہ مخلوق خداکی پہنچ سے دورکرنا اور ناجائز منافع کمانے کی غرض سے عوام کو مزید تکلیف اور قحط میں مبتلا کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے شریعت نے اس کی مذمت بیان کی ہے اور اس قابل نفرت فعل میں مبتلا ہونے والا شخص شریعت کی نظر میں انتہائی نا پسندیدہ ہے۔ علماء و مشائخ نے کہا کہ کرونا وباء کی وجہ سے ایک طرف حکومت ،عوام اور ریاستی ادارے پریشان ہیں، لاک ڈاون کی وجہ سے ملک کی ایک بڑی آبادی بےروزگاری کا شکار ہوچکی ہے،جن کےپاس دو وقت کی روٹی کے لئے بھی وسائل نہیں ایسے حالات میں منافع کمانے کی غرض سے خوراک،دیگر اشیائے ضروریہ اور ادویات مارکیٹ سے غائب کرنا حرام ہے۔رسول اللہﷺنے واضح طور پر فرمایا کہ’’ذخیر اندوزی کرنے والاملعون ہے،لعنت ، رحمت کی ضدہے جب معاشرہ پر اللہ کی رحمت کے بجائے لعنت نازل ہونے لگے تو پھر رحمت کے آثار غائب ہونے لگتے ہیں اور لعنت کے آثار نظر آتے ہیں،جس وقت پورا معاشرہ اللہ کی رحمت کا طلب گار ہے ایسے وقت میں چند ذخیرہ اندوز اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں۔

قائدین نے کہا ہے کہ احادیث مبارکہ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ جس شخص نے مسلمانوں کے خلاف غذائی اجناس کا ذخیرہ اندوزی کی اللہ تعالیٰ اس پر غربت افلاس اور جذام کی بیماری مسلط کردینگے اور ان کا ٹھکانہ جہنم کا گڑھا ہے۔ذخیرہ اندوز باز آجائیں اور اس ناگہانی صورتحال میں اشِیائے ضروریہ عوام الناس کی پہنچ سے دور کرنے کے بجائے انہیں سستے داموں فروخت کریں تاکہ وہ بھی اللہ کی رحمت کے طلبگار بن جائیں۔ انہوں نے کہا کہ خوراک اور اشیائے ضروریہ تک عوام کی رسائی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے حکومت کو ہرحال میں اپنی اس ذمہ داری کو پورا کرنا ہوگا۔ جولوگ ایسے غیرمعمولی حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پریشانی کا باعث بن رہے ہیں ایسے ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف سخت کریک ڈاون کیا جائے اور انہیں عبرت کا نشان بنایا جائے۔

مزید :

روشن کرنیں -