بچوں کی چھٹیاں گھومنے پھرنے کے لئے نہیں 

بچوں کی چھٹیاں گھومنے پھرنے کے لئے نہیں 
بچوں کی چھٹیاں گھومنے پھرنے کے لئے نہیں 

  

ایک طرف اگر کورونا سے ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری جانب انسانی جانوں کو بچانے کی امید بھی مل چکی ہے۔کورونا سے بچاو کی ویکسین لگانے کا عمل جاری ہوچکا ہے۔ ابھی تک صرف چند ترقی یافتہ ممالک کورونا سے بچاو کی ویکسین تیار کرچکے ہیں، جن میں سے چین کی تیار کردہ ویکسین بہت کامیاب نتائج ظاہر کررہی ہے اورسب سے بڑی بات یہ ہے کہ چین کی تیارکردہ ویکسین کے تجربات میں پاکستان بھی شامل رہاہے، جو کہ ایک ترقی پذیر ملک کے لئے بہت بڑا اعزاز اور کامیابی ہے۔چین ہی کے تعاون سے ملک میں ویکسین کی جلد فراہمی ممکن ہوسکی ہے وگرنہ دیگر ترقی پذیر ممالک کی طرح ہم بھی آج ویکسین کے لئے کسی مسیحاکے منتظر ہوتے۔

پاکستان میں ویکسین لگانے کا عمل مرحلہ وار شروع کیا گیا ہے، جس کے تحت پہلے مرحلے میں ہیلتھ ورکرز اور بزرگ شہریوں کو ویکسین لگائی جا رہی ہے اس حکمت عملی کا مقصد کورونا کا براہِ راست سامنا کرنے والے ہیلتھ ورکرزکی زندگیوں کو محفوظ بنانا ہے تاکہ وہ کورونا کے مریضوں کا علاج کرتے ہوئے اس کی زد میں نہ آ سکیں اور بزرگ شہریوں کو ویکسین اِس لئے پہلے لگائی جا رہی ہے کہ ان میں کورونا کے خلاف قوت مدافعت کم ہوتی ہے، جس کی وجہ سے وہ زیادہ تعداد میں کورونا میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔بزرگ شہریوں کو ویکسین لگانے کے لئے سنٹرز بنائے گئے ہیں،جہاں انہیں مفت ویکسین لگانے کا عمل جاری ہے۔ساٹھ سال سے زائد عمر کے افراد کو ویکسین لگانے کے عمل کے بعد دوسرے مرحلے کا جلد آغاز کیا جا رہا ہے، جس کے تحت پچاس سال تک کی عمر کے افراد کو ویکسین لگائی جائے گی اس کے باوجودجس طرح کورونا نے تعلیم، صحت، کاروبار اور روزگار سمیت زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے اس کا ازالہ ہونے میں کافی وقت درکار ہو گا۔اس وقت دنیا کورونا سے نمٹنے کی فکر میں ہے،دنیا کا مستقبل کیا ہو گا، ابھی اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے تاہم کورونا نے ایک بات سب پر واضح کر دی ہے کہ مہلک وبائیں کسی بھی دور میں رونما ہو سکتی ہیں۔ 

رمضان المبارک کی آمد آمد ہے،رمضان المبارک کے دوران افطار و سحر میں کئی مقامات پر اجتماعی تقاریب منعقد ہوتی ہیں اور بطور خاص مساجد میں مسلمان اجتماعی طور پر عبادات کا اہتمام بھی کرتے ہیں، لیکن کورونا کی تیسری لہرکی بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے باعث اس سال بھی عبادات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس سلسلے میں ایسی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے کہ جس سے رمضان المبارک کی عبادات میں رکاوٹ نہ پیدا ہو سکے اس کے ساتھ ساتھ دکانداروں اور چھوٹے کاروبار کرنے والے افراد کو خصوصی ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ وہ اور ان کے اہل خانہ رمضان کے روزے اور عید کی حقیقی خوشیوں کو پا سکیں۔اس کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی چاہئے کہ وہ حکومت کا ساتھ دیں۔

حکومت کورونا سے بچاو کے لئے تعلیمی ادارے بند کرتی ہے تاکہ بچے گھروں میں رہ کر کورونا سے محفوظ رہ سکیں توایسے میں لوگ اپنے بچوں کو لے کر باہرگھومنے نکل پڑتے ہیں،اسی طرح بہت سے لوگ مارکیٹوں،بازاروں،ہوٹلوں میں کورونا سے بے نیاز ہوکر گھومتے پھرتے رہتے ہیں،ایسے افراد کا یہ غیر ذمہ دارانہ رویہ نہ صرف کورونا کے پھیلاو کا سبب بنتا ہے،بلکہ تعلیم،کاروبار اور روزگارکو بھی بری طرح متاثر کرتا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوچکا ہے کہ غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افراد کورونا سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں جو خود تو موت سے کھیلتے ہیں،اس کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی موت کے منہ میں پہنچا دیتے ہیں۔ایسے افراد کو اب سوچنا ہو گا کہ تعلیم، صحت، کاروبار، روزگار کو تباہ کرنے والا ہے کون؟ کورونا یا……ہم 

مزید :

رائے -کالم -