اگر دنیا کی دو ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے پر ایٹمی حملہ کرتی ہیں تو اس کا نتیجہ کیا ہو گا؟ برطانوی ماہر نے خوفناک جواب دے دیا

اگر دنیا کی دو ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے پر ایٹمی حملہ کرتی ہیں تو اس کا نتیجہ ...
اگر دنیا کی دو ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے پر ایٹمی حملہ کرتی ہیں تو اس کا نتیجہ کیا ہو گا؟ برطانوی ماہر نے خوفناک جواب دے دیا
سورس: Rawpixel.com (creative commons license)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا اس وقت تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے، جس میں ایٹمی ہتھیار استعمال ہونے کا غالب امکان ہو گا۔ اگر دنیا کی دو ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے پر ایٹمی حملہ کرتی ہیں تو اس کا نتیجہ کیا ہو گا؟ ایک برطانوی ماہر نے اس سوال کا ایسا خوفناک جواب دیا ہے کہ سن کر ہی آدمی وحشت زدہ رہ جائے۔ 
ڈیلی سٹار کے مطابق اینی جیکبسن نامی اس خاتون ماہر نے ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی ایک ملک کی طرف سے دوسرے پر ایٹمی حملہ ہونے کے 72منٹ کے اندر کروڑوں لوگ لقمہ اجل بن جائیں گے اور اگر جواباً دوسرے ملک نے بھی ایٹمی حملہ کر دیا تو غالب امکان ہو گا کہ زمین سے نوع انسانی کا ہی خاتمہ ہو جائے۔
نیوکلیئر وارفیئر کی ٹیکنالوجی اور حکمت عملیوں، خفیہ ریسرچ لیب ’ڈی اے آر پی اے‘ اور بدنام زمانہ ’ایریا51‘ پر تحقیق کرنے اور  کتابیں تصنیف کرنے والی اینی جیکبسن کا دوران گفتگو کہنا تھا کہ ’’اگر روس یا چین کی طرف سے میزائل لانچ کیا جاتا ہے تو امریکی صدر کے پاس ناگزیر فیصلہ کرنے کے لیے صرف 6منٹ کا وقت ہو گا۔ اگر امریکی صدر جوابی حملے کا فیصلہ کرتا ہے تو لگ بھگ دنیا کی تمام آبادی ختم ہو جائے گی۔ دوسری صورت میں امریکہ کا کوئی ایک شہر صفحۂ ہستی سے مٹ جائے گا۔‘‘
اینی جیکبسن کا کہنا تھا کہ ’’دنیا کی تباہی ایک غلط فہمی کی دوری پر ہے۔ چین یا روس کے حملے کی صورت میں امریکی صدر کے پاس سوچنے کا بھی وقت نہیں ہو گا اور اسے بغیر وقت ضائع کیے فوری فیصلہ کرنا ہو گا۔ اس صورت میں چینی یا روسی حملے کی غلطی فہمی پر بھی امریکہ کی طرف سے ایسا قدم اٹھ سکتا ہے جو دنیا کو تباہ و برباد کر دے گا۔ تمام ایٹمی طاقتوں کے ساتھ ایسا ہی معاملہ ہے۔ کسی بھی ایٹمی ملک کے حملے کی غلط فہمی پر مخالف ملک کے پاس سوچنے کا بھی وقت نہیں ہو گا اور وہ جوابی حملہ کر دے گا اور اسے حملے کے بعد علم ہو گا کہ مخالف ملک کے حملے کی اطلاع غلط تھی لیکن تب تک پانی سر سے گزر چکا ہو گا۔ ‘‘
اینی جیکبسن بتاتی ہیں کہ ’’امریکہ کے پاس دشمن ممالک کے حملے کی پیشگی اطلاع دینے والا ایک سسٹم موجود ہے جو خلاء میں ہے۔ اس سسٹم کو ’ایس بی آئی آر ایس‘ کہا جاتا ہے۔ یہ سیٹلائٹس کی ایک کہکشاں پر مشتمل ہے جن کے ذریعے امریکہ اپنے تمام دشمنوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ جونہی کوئی دشمن ملک بین البراعظمی میزائل لانچ کرے گا، ایک سیکنڈ کے اندر امریکہ اس سے آگاہ ہو جائے گا اور جوابی حملہ کر دے گا۔‘‘

مزید :

برطانیہ -