معیشت کی دو اقسام اور پاکستانی معیشت کی مشکلات

معیشت کی دو اقسام اور پاکستانی معیشت کی مشکلات
معیشت کی دو اقسام اور پاکستانی معیشت کی مشکلات

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

محمد اعظم طارق
یونیورسٹی آف سرگودھا

معیشت کی دو اقسام ہیں جن میں مائیکرو اور میکرو اکنامکس ہے۔مائیکرو اکنامکس انفرادی جبکہ میکرواکنامکس مجموعی مسائل سے متعلق ہے ۔ 
پاکستان میکرواکنامکس عدم استحکام کا شکار ہے ۔میکرو اکنامکس کے بڑے مسائل مہنگائی ،بہت زیادہ بے روز گاری ہے ۔یہ ایسے مسائل ہیں جو کہ بیرون سے آنے والی سرمایہ کاری کو روکتی ہوں اور ملک میں کاروبار کے مواقع کم کر دیتی ہیں ۔اور اس کے ساتھ ساتھ انتہا کی مہنگائی ملک میں قوت خرید بھی کم کر دیتی ہیں ۔اور جب قوت خرید کم ہو جاتی ہے جس سے ملک میں اندرونی کاروبار اور نچلی سطح کے کاروبار بند ہونا جاتے ہیں اور جس سے ملک میں بے روزگاری اور افلاس بڑھنا شروع ہو جاتا ہے ۔ 
پاکستان کی سیاسی لیڈر شپ بھی پاکستان کی معاشی پستی کی ذمہ دار ہے ۔مثال کے طور پر پاکستان میں معاشی پالیسیاں کے متعلق فیصلہ سازی وہ لوگ کررہے ہیں جو کہ اس سسٹم پر قابض ہیں اور وہ پالیسیاں بھی ایسی ہی بناتے ہیں جو کہ ان کے لیے موزوں ہیں نا کہ عوام کے لیے ۔ایک انگریز مصنفہ Rozetta Emiita ہیں ان کی ایک کتاب ہے جس میں وہ لکھتی ہیں کہ پاکستان پر چند خاندان ہی قابض ہیں اور وہ اس ہی قیام پاکستان سے لے کر اب تک اس پر حکومت کرتے آرہے ہیں ان میں سرمایہ دار،جاگیردار ،عسکری اور بیوروکریٹک خاندان ہیں اور ایک دوسرے کے مفاد کا تحفظ ہی ان کی اولین ترجیح ہے جو کہ ریاست پاکستان کی معاشی فیصلہ سازی میں رکاوٹ ہے ۔ 
پاکستان ایک وہ ریاست ہے جس میں مختلف شعبہ جات ہیں جو کہ معیشت کی بہتری کے لیے کردار ادا کررہے ہیں لیکن یہاں پر کسی ادارے کے لیے کوئی خاص فیصلہ سازی نہیں ہے زیادہ تر وزرائے خزانہ کا تعلق کاروباری شعبے سے رہا ہے اور اس وجہ سے کاروباری شعبہ ہی ان کی فوقیت رہا ہے اور اس وجہ سے دوسرے شعبہ جات نظر انداز ہوتے رہے ہیں جس سے ان کی ترقی پر فرق پڑا ہے ان کی پسماندگی کی وجہ سے بہت سارے لوگ اور انڈسٹریز جو کہ ان سے منسلک تھیں وہ ماند پڑ گئی اس طرح ملک میں ایک بڑے پیمانے پر بے روزگاری بڑھی اور اس نے مزید کئی معاشی مسائل کو جنم دیا ۔ 
کسی بھی معیشت کو چلانے میں سب سے اہم کام اس کے ریونیو کولیکشن کا ہوتا ہے ۔اگر ریونیو کولیکشن کا نظام بہتر نہ ہو تو یہ  بجٹنگ کی میں کئی پیچیدگیاں پیدا کرسکتا ہے جن کی تفصیل آگے دی گئی ہے ۔ہمارے ہا ریونیو کولیکشن کا سب سے بڑا ادارہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو ہے اور جو کہ ایک مکمل طور پر بیوروکریٹک ادارہ ہے اس کے گریڈ سترہ سے چیرمین تک سب ہی بیوروکریسی سے تعلق رکھتے ہیں ۔ایک تو وہ معیشت کی گہرائی سے واقف نہیں ہوتے لہذا ٹیکس کی پالیسی سازی کے وقت وہ بس روایتی نظام کو ہی معمولی تبدیلی کے ساتھ آگے بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں جس کے کوئی خاطر خواہ نتائج نہیں ہوتی دوسری ایف بی آر اور وفاقی حکومت کے ریونیو پالیسیز پر بھی آئے روز اختلافات ہوتے رہتے ہیں جن کی وجہ سے ٹیکس کا نظام ٹھیک نہیں ہے ۔اور اس کے ساتھ ساتھ ایف بی آر اور اس کے ساتھ موجود ادارے کسٹم وغیرہ انتہائی کرپٹ ادارے ہیں جن میں شفافیت کا دور دور تک کوئی نام ہی نہیں لہذا اداروں کے ان غیر ذمہ دار رویوں نے بھی پاکستان کی معاشی مشکلات میں اضافہ کر رکھا ہے اور اس کے ساتھ ان اداروں میں ماہر معاشیات ہی نہیں جن کی وجہ سے نہ تو نئی پالیسیاں بن سکتی ہیں اور نہ ہی قوم ان پر اعتماد کرتی ہے ۔کم از کم اس ادارے کے پہلی چار سے پانچ پوزیشنز ماہر معاشیات کے پاس ہونی چاہیے تاکہ ایک بہترین معاشی اور ٹیکس پالیسی تشکیل دی جا سکے ۔اس کے ساتھ ساتھ صوبائی ادارے بھی ہیں جن میں ایکسائز وغیرہ ہیں اوران کی کارکردگی بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ان کا اکٹھا کردہ ٹیکس میں سے صرف آدھا ہی خزانے تک پہنچ پاتا ہے ۔کچھ حد تک ضلعی انتظامیہ بھی ٹیکس اکٹھے کرتی ہے جن کا کوئی بھی پتا نہیں چلتا ۔ضلعی انتظامیہ اور مقامی ایجنسیوں کے لوگوں ہی وہ ٹیکس کی رقم ہڑپ کر جاتے ہیں ۔لہذا اس صورت حال سے بچنے کے لیے ایک جامع ٹیکس کا نظام تشکیل دینے کی ضرورت ہے اور جس میں شفافیت سب سے زیادہ اہم ہو 
ہماری معیشت میں آئ ایم ایف اور ورلڈ بینک کا ایک کلیدی کردار ہوتا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ کئی دوسرے پہلی دنیا کے ممالک بھی پاکستان کی معیشت پر اثر انداز ہوتے ہیں جس کی بنیادی وجہ ہماری مقروض معیشت ہے۔ہم ان ممالک اور اداروں سے قرض لے لیتے ہیں اور جن پر شرح سود بہت زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے ہم سالانہ قسطوں میں سود تو دیتے رہتے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ ڈالر کا ریٹ زیادہ ہونے کی وجہ سے قرض کی رقم اور سود میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے اور یوں ہمیں اپنے بجٹ ایک بڑا حصہ سود کی ادائیگی میں خرچ کرنا پڑتا ہے ۔ 
کسی بھی ریاست کے بجٹ بنانے کا عمل اس کی ساری معیشت کی سمت تبدیل کر سکتا ہے ۔ایک اچھے بجٹ کی یہی خصوصیات ہوتی ہیں کہ اس میں ریونیو اور خرچ میں توازن رکھا جاتا ہے لیکن ہمارے ملک میں اس کا کوئی خیال نہیں کیا جاتا ہے جس وجہ سے بجٹ غیر معتدل صورتحال اختیار کرتا جارہا ہے اور ہمیں پھر بیرون سے قرض لینے پڑتے ہیں جس سے پھر بھی ہمارے بجٹ کے اسٹیمیشن پورے نہیں ہو پاتے اور یوں ہمارے اکثر اور تقریباً تمام بجٹ خسارے کا شکار رہے ہیں اور جو کہ منفی معاشی اشاریوں کا سبب بنتے ہیں اور وہ پھر ملک میں سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے 
کسی بھی ریاست کی معیشت کا دارومدار اس کی معتدل تجارت پر ہے لیکن ہمارے ہاں ایکسپورٹ کم لیکن امپورٹ زیادہ ہے جس کی وجہ سے تجارتی غیر معتدلی پیدا ہوتی ہے اور وہ براہ راست آپ کی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے اور یہی کچھ پاکستان میں بھی ہے 
۔پاکستان میں ایکسپورٹ کی کمی کی وجہ انڈسٹری کی کمی ہے ۔یہاں پر بھٹو کے صنعتوں کو پرائیویٹ کرنے کی پالیسی نے بھی اس ملک کی معیشت کو اثر انداز کیا اور آج کل کا معاشی بحران بھی اسی فیصلے کی وجہ سے ہے ۔یہاں پر سرمایہ کاری میں کمی کی بنیاد ٹیکس اور بجلی اور خام مال کی قیمتوں میں اضافے کو قرار دیا جاتا ہے لیکن ایسی بات نہیں ہے اس کی بنیادی وجہ بجٹ سے متعلقہ تمام پالیسیز اور ان کی ناکامیاں اور اس وجہ سے پاکستان کی معیشت پر لگنے والے منفی اشاریے اس کی وجہ ہے اور اگر سادہ الفاظ میں تو کمزور فیصلہ سازی اس کی وجہ ہے 
فیصلہ سازی میں عسکری و بیوروکریسی کے کردار نے بھی اس ملک کی معیشت کو گرانے میں کردار ادا کیا ہے ۔اگر کوئ یہاں سرمایہ کاری بڑے پیمانے پر کرنا چاہتا ہے تو اس کو سیاسی ،عسکری اور بیوروکریٹک لیڈرشپ سے علیحدہ علیحدہ معاملات طے کرنے پڑتے ہیں اور اس کی سرمایہ کاری کا ایک بڑا حصہ ان کی خوشامد میں لگ جاتا ہے پھر بھی وہ اپنی سرمایہ کاری کے محفوظ مستقبل کے بارے میں یقینی نہیں ہے ۔ 

نوٹ: اس بلاگ میں پیش کی گئی رائے سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں یا بلاگر کا اپنا نقطہ نظر ہے۔

مزید :

بلاگ -