یومِ تکبیر اور یومِ صلیب!

یومِ تکبیر اور یومِ صلیب!
یومِ تکبیر اور یومِ صلیب!

  


پرسوں28مئی2013ءتھا اور پاکستان کا یومِ تکبیر تھا۔ 15سال پہلے آج ہی کے دن پاکستان نے بھارت کے5جوہری دھماکوں کے جواب میں6جوہری دھماکے کئے تھے۔ جوہری دھماکہ کرنے کا پبلک فیصلہ کرنا یا اس جناتی قوت کو بوتل میں ہی بند رکھنا ہر قوم کی اپنی اپنی قیادت کا فیصلہ ہوتا ہے۔ اسرائیل ہم سے بہت پہلے جوہری قوت بن چکا تھا، مگر اُس نے اس کا پبلک اظہار کبھی نہ کیا۔ بھارت اور پاکستان سے پہلے پانچ بڑے ملکوں نے بھی جوہری دھماکے کئے تھے، لیکن مجھے معلوم نہیں کہ ان پانچوں سواروں نے کبھی اپنا نام یومِ تکبیر منانے والوں میں شامل کیا ہو۔ میرے نزدیک آج اس ”یوم“ کا نہ منانا اس کے منانے سے بہتر ہو گا۔

یہ وہ تباہ کن قوت ہے جو استعمال نہیں کی جا سکتی، اس کا صرف تجربہ کیا جا سکتا ہے اور اس کے بعد یہ محض ایک ”ڈراوا“ رہ جاتا ہے، جس کو انگریزی میں ڈیٹرنس کہتے ہیں۔ امریکہ دُنیا کا پہلا ملک تھا جس نے جولائی 1945ءمیں پہلے ایٹم بم کا تجربہ کیا اور پھر جلد ہی اس کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال بھی کیا۔ یہی امریکہ آج دُنیا کی واحد سپرپاور ہے جس کی”سُپرمیسی“ اس وجہ سے نہیں کہ اس کے پاس ہزاروں جوہری وار ہیڈز ہیں ،کیونکہ اس کو معلوم ہے کہ وہ ان میں سے کسی ایک بم کو بھی استعمال نہیں کر سکتا۔ اگر کرے گا تو اپنے پاﺅں پر آپ کلہاڑی مارے گا!

یومِ تکبیرکی نسبت سے امریکہ اپنا ”یومِ صلیب“ منانے کا ارتکاب تو کیا کرے گا ،وہ تو ہر آن لرزہ براندام رہتا ہے کہ اس کا اتنی محنتوں اور مشقتوں سے تعمیر کیا ہوا شیش محل کوئی معمولی سا ”دہشت گرد“ اُٹھ کر ایک معمولی قسم کے نیو کلیئر بم کے ذریعے زمین بوس نہ کر دے۔ باقی روس، فرانس، برطانیہ اور چین رہ گئے تو انہوں نے بھی کبھی اپنا ”یومِ دھماکہ“ نہیں منایا۔ مجھے خبر نہیں کہ اس کی وجہ کیا ہے؟.... ان کے مقابلے میں پاکستان کے پاس سب سے کم تعداد میں جوہری بم سٹاک میں ہیں، لیکن پاکستان ہے کہ ہر سال ”یومِ تکبیر“ کی تقریب اس طرح مناتا ہے کہ جیسے اُس نے ایک بار پھر دلی فتح کر لی ہو۔

یہ دلی کی ”فتح“ مَیں نے محاورتاً استعمال کی ہے، وگرنہ دلی کو نجانے کتنے حملہ آوروں نے کتنی بار روندا اور فتح کیا اور اس”فتح“ میں صرف مسلمان ہی شامل نہ تھے، دوسری اقوام بھی تھیں.... شائد اسی لئے حضرت ِ اقبال ؒنے بابر بادشاہ کی زبان سے کہلوایا تھا کہ میرا کابل، دہلی سے ہزار مرتبہ زیادہ قابل ِ احترام ہے کہ جس پر آج تک کوئی اور ملک یا قوم قابض نہیں ہو سکی، جبکہ دلی ایک ایسی خاتون ہے جس کے ہزاروں شوہر ہیں:

ہزار مرتبہ کابل نکوتر از دلی ست

کہ آں عجوزہ عروسِ ہزار داماد است

میاں نواز شریف صاحب جو چند دنوں کے بعد دوبارہ بھاری مینڈیٹ والے وزیراعظم بننے جا رہے ہیں، ماضی میں نجانے کتنی بار دعویٰ کر چکے ہیں کہ مَیں نے پاکستان کو جوہری قوت بنایا، اربوں ڈالر کی امریکی امداد کی پیشکش ٹھکرا دی اور بھارت کے مقابلے میں اس سے زیادہ بہتر اور زیادہ کارگر دھماکے کئے.... اگر اُن کے اس اعلان کو انتخابی مہم کے نعروں کا اظہار بھی سمجھا جائے تو میرے خیال میں پھر بھی میاں صاحب کو نیو کلیئر وار ہیڈ کی تکمیل کی راہ میں پیش آنے والی چند در چند مشکلات پر قابو پانے والی گزشتہ سول اور فوجی حکومتوں کے رول کو فراموش کر کے یہ اعلان نہیں کرنا چاہئے، کیونکہ ایٹم بم تو پاکستان نے1984ءمیں بنا لیا تھا جب ملک پر ایک ”فوجی آمر“ کی حکمرانی تھی،لیکن اس فوجی آمر نے نیو کلیئر بٹن دبانے کا سہرا کبھی اپنے سر نہ باندھا۔

ویسے تو قوم یومِ تکبیر منا چکی ہے ،لیکن قوم کا ہر مردو زن، بچہ بوڑھا اور لڑکا لڑکی سوچتا ہے کہ کیا واقعی یہ کوئی ایسا ”یوم“ ہے جس نے پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ میں کوئی بڑا اضافہ کیا ہے یا اس نے عوام الناس کی تقدیر بدل ڈالی ہے یا اس کے مزمن امراض میں کوئی تھوڑا سا بھی افاقہ ہوا ہے.... مَیں سمجھتا ہوں (اور آپ سب قارئین بھی جانتے ہیں) کہ پاکستان دُنیا کی وہ واحد جوہری قوت ہے جو تباہی کے دہانے تک آ پہنچی ہے۔ اس کا کوئی قومی ادارہ (ماسوائے مسلح افواج کے) یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اس نے مئی1998ءکی نسبت 15برس بعد آج مئی2013ءمیں اپنی ہمہ جہت پستی کے پاتال کو نہ چھوا ہو۔

کبھی خیال آتا ہے کہ یومِ تکبیر پر ہمارا اِترانا 1998ءمیں شائد اس لئے جائز یا مستحسن تھا کہ ہم نے اپنے دشمن نمبر ایک کو آگے نہیں نکلنے دیا تھا۔ ہم ویسے بار بار اعلان کیا کرتے تھے کہ ہم بھارت کے ساتھ اسلحہ کی دوڑ میں شریک نہیں ہونا چاہتے، لیکن اس کے باوجود ہمیشہ شریک رہتے تھے، مقدار اور تعداد کے تناسب سے نہ سہی، اپنے جثّے کے مطابق اپنا حصہ ڈالنے سے گریز نہیں کیا کرتے تھے۔ تب تک انڈو.... پاک بریکٹ قائم تھی اور آف.... پاک بریکٹ کا کسی نے نام بھی نہیں سنا تھا،لیکن اب تو عرصہ ہوا یہ انڈو .... پاک بریکٹ انڈو.... چائنا ہو چکی ہے اور ہم اپنے دشمن سے اسلحہ کی دوڑ میں جتنا پیچھے رہ گئے ہیں، اس کا سرسری ذکر بھی سوہانِ رُوح ہے۔.... ذرا سوچئے کہ ایسا کیوں ہوا؟

کیا دُنیا میں پاکستان کے علاوہ دوسرا ایسا ملک بھی ہے جس کی ایک بغل میں ایٹم بموں سے بھرا ہوا تھیلا سمایا ہوا ہو، دوسری بغل میں ہائیڈروجن بموں کا ”توڑا“ دبایا ہوا ہو، کمر پر درجنوں اقسام کے میزائلوں کا ترکش سجایا ہوا ہو اور گلے میں کشکول لٹکایا ہوا ہو؟....

دُنیا کے دوسرے علانیہ اور غیر علانیہ سات جوہری ممالک میں سے کوئی ایک ملک بھی ایسا نہیں جس نے نیوکلیئر دھماکے کے بعد وہ ”ترقی“ کی ہو جو پاکستان نے گزشتہ15برسوں میں کر ڈالی ہے۔ اس ترقی کی ایک ایک تفصیل سے ساری دُنیا آگاہ ہے، اس لئے جب میاں نواز شریف صاحب اپنی حالیہ انتخابی مہم میں یہ کہتے تھے کہ ہم نے پہلے ایٹمی دھماکہ کیا تھا، اب اقتدار میں آ کر اقتصادی دھماکہ کریں گے، تو مجھے اس سلوگن سے خوف آتا تھا۔

اب اللہ کریم نے ان کو ایک اور موقع دے دیا ہے اور ساتھ ہی ایک نئی آزمائش بھی عطا کر دی ہے، اس لئے ان جیسے نعروں کی راہ پر چلنے سے گریز کریں جو ایٹمی دھماکوں کا باعث بنی تھی .... یہ ضرور کیجئے کہ جس انڈیا کے مقابلے میں آپ نے ایٹمی دھماکے کئے تھے، اس کے ساتھ مقابلے کا جذبہ مرنے نہ دیں،اس کو زندہ رکھیں۔ بھارت سے خوشگوار تعلقات رکھ کر بھی تو آپ مقابلے کے اس جذبے کی پرورش کر سکتے ہیں .... اس کا کھلے عام اظہار نہ کریں، بلکہ اپنے دل کے آبگینے میں چھپا کر رکھیں اور جب وقت آئے تو لوگوں کو سینہ کھول کر دکھلائیں کہ دیکھیں مَیں نعروں یا سلوگنوں یا دعووں پر یقین نہیں رکھتا۔ مَیں یہ سب کچھ اپنے دل میں پالتا رہتا ہوں اور پالتا رہوں گا۔ آپ دیکھیں گے کہ ایک وقت آئے گا جب آپ کسی دھماکے کا اعلان نہ بھی کریں گے تو سارا پاکستان، بلکہ ساری دُنیا اس کی آواز سن لے گی، سب کو پتہ ہے کہ آپ کی اس تیسری ٹرم کے آغاز میں آج پاکستان کہاں کھڑا ہے۔ آپ کو یاد دلانے کی ضرورت نہیں، کچھ کر دکھانے کی ضرورت ہے.... قوم کی بنیادوںکی آخر سِل کھسک رہی ہے ۔ اس کو سنبھالنا اور پھر ساری ٹائلز کو ازسر نو جوڑنا آسان کام نہیں۔ معترضین کی پروا نہ کریں.... ہاں ایک بات اور.... میڈیا کو زیادہ قریب نہ ہونے دیں۔ یہ آپ کے دل میں چھپی آرزوﺅں کو بے نقاب کرنے کا ٹھیکیدار بنا ہوا ہے اور بزعم خود سمجھتا ہے کہ پبلک کو آگہی دے رہا ہے۔

پاکستان ایک بڑا ملک ہے، اس میں امکانات (Potentials) کی کمی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے مفادات کی خاطر، میڈیا کے عزائم اور شیڈول تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ ہر بات کا ”سو موٹو“ نوٹس نہ لیں۔ بعض سٹوریاں صرف اس خاطر گھڑی جاتی ہیں کہ کوئی ان کا سو موٹو نوٹس لے۔

مَیں آپ کے استادِ محترم مشکور حسین یاد صاحب کے تتبع میں اپنے آپ کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ کوئی نصیحت کروں۔ مجھے خبر نہیں کہ یاد صاحب اس بات پر مجھ سے خفا ہوں گے یا سر بگریباں ہو کر سوچیں گے کہ ہر بڑا آدمی پہلے چھوٹا ہوتا ہے، سکول کے بعد کالج جاتا ہے اور پھر موقع ملے تو یونیورسٹی میں بھی چلا جاتا ہے، لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جو لوگ یونیورسٹی نہیں جاتے یا نہیں جا سکتے، ان کی تربیت کا کام خود فطرت اپنے ذمے لے لیتی ہے۔ یہی فطرت ہے جو بزدلوں کو دلیر، کند ذہنوں کو ذہین و فطین، شرمائے شرمائے رہنے والوں کو بے باک، آہستہ نواﺅں کو شعلہ نوا اور سُست گاموں کو تیز گام بناتی ہے۔

کسی بھی اچھے استاد کی مثال ایک موسلا دھار بارش سے دی جاتی ہے۔ وہ جب برستی ہے تو خشک و تر کا لحاظ نہیں رکھتی، سب قطعہ ¿ اراضی پر یکساں برستی ہے! لیکن یہ اپنی اپنی ارضی خصوصیات ہوتی ہیں جو اپنی استعداد ِ اخذ و جذب کے مطابق اس بارش سے مستفید ہوتی ہیں۔ اگر زمین پتھریلی ہے تو بارش اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑے گی اور اگر زرخیز (Alluvial) ہے تو سرسبز و شاداب ہونے میں دیر نہیں لگائے گی....

اساتذ کے فیض ِ تربیت کی بارش نواز شریف صاحب پرویسی ہی تھی جیسی کلاس کے دوسرے طلباءپر .... لیکن کیا یاد صاحب کو یاد ہے کہ ان کا کوئی دوسرا شاگرد بھی تیسری بار پاکستان کا وزیراعظم بن سکا؟.... یہ حقیقت اساتذہ کرام کو بھی یاد رکھنی چاہئے اور تصویر کا یہ رُخ کبھی ذہن سے فراموش نہیں کرنا چاہئے۔   ٭

مزید : کالم