سردار اختر مینگل منتخب، بلوچستان کی سیاست پر اثرات مرتب ہوں گے

سردار اختر مینگل منتخب، بلوچستان کی سیاست پر اثرات مرتب ہوں گے
سردار اختر مینگل منتخب، بلوچستان کی سیاست پر اثرات مرتب ہوں گے

  


سندھ اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے لئے منتخب اراکین نے حلف اُٹھا لیا اور یوں انتقال اقتدار کے آخری مرحلے کا آغاز ہوگیا ہے۔ پنجاب میں یکم جون مقرر کی گئی، البتہ بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کی تاریخ ابھی نہیں بتائی گئی اصولاً اس کا اجلاس بھی یکم جون تک ہونا چاہئے۔ تاہم ابھی اعلان نہیں ہوا۔ اس عرصہ میں بلوچستان کی سیاست میں ایک اہم تبدیلی رونما ہوگئی ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی (م) کے سربراہ سردار اختر مینگل کو کامیاب قرار دیا گیا ہے۔ ان کے حلقے کا نتیجہ رُکا ہوا تھا۔ اب وہ صوبائی اسمبلی میں آگئے اور یقیناً ان کا کردار بھی اہم ہوگا۔ اس سے پہلے مسلم لیگ، پختونخوا ملی پارٹی اور نیشنل پارٹی کے درمیان مخلوط حکومت کے قیام کے معاملات طے پا گئے تھے، لیکن مسئلہ عبدالمالک بلوچ اور سردار ثناءاللہ زہری کے درمیان اٹک گیا کہ ڈاکٹر مالک بلوچ کو قائد ایوان بنانے کے حق میں فضا بنی تھی، لیکن ثناءاللہ زہری دستبردار نہیں ہوئے چنانچہ فیصلہ میاں محمد نواز شریف پر چھوڑ دیا گیا تھا، تاحال میاں محمد نواز شریف نے کسی کے حق میں رائے نہیں دی۔ اس لئے یہ صوبہ پھر سے مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ سردار اختر مینگل جو انتخابی عمل پر زبردست تحفظات کا اظہار کر چکے ہوئے ہیں، تمام مسائل کو غور سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کا لائحہ عمل بھی ایک آدھ روز میں واضح ہوجائے گا۔

ادھر عدالت عظمیٰ نے ایک اور تاریخ ساز فیصلہ دے دیا اور نیب کے سربراہ سید فصیح بخاری کا تقرر کالعدم قرار دے دیا ہے۔ تاہم ساتھ ہی ہدایت کی گئی ہے کہ چیئرمین کا تقرر فوری طور پر کیا جائے۔ سید فصیح بخاری نے یہ کہہ کر کہ فیصلہ ان کی توقع کے خلاف ہے۔ فیصلہ مان لیا اور دفتر چھوڑ کر اپنے گھر چلے گئے ہیں۔ اب نئے چیئرمین کے تقرر کا مسئلہ ہے۔ عدالت عظمیٰ نے فی الفور مقرر کرنے کی ہدایت دی ہے جبکہ فیصلے میں قرار دیا ہے کہ تقرر کرتے وقت قائد حزب اختلاف سے مشاورت نہیں کی گئی۔ اس کے بعد ہی یہ بھی کہا گیا کہ نئے چیئرمین کا تقرر فوری کیا جائے۔ یہ ممکن کیسے ہو سکتا ہے؟ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ اسمبلی کا اجلاس یکم جوان کو ہوگا اور وزیراعظم کا حلف 5 جون کوہو گا۔ اس کے بعد ہی قائد حزب اختلاف کے تقرر کا مسئلہ آئے گا، جو قائد حزب اختلاف کی با معنی مشاورت سے ہوگا اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں، جب تک قائد حزب اختلاف کا انتخاب نہیں ہو سکتا اور عمل میں اسمبلیوں کی تکمیل اور قائد ایوان کے انتخاب اور پھر بطور وزیراعظم حلف کے بعد ہی ہوگا اور جب قائد حزب اختلاف مقرر ہو جائیں گے تو ہی مشاورت بھی ممکن ہوگی۔ تب تک خلاءتو رہے گا۔ بہرحال عدالتی فیصلے سے حکومت کو تو سہولت حاصل ہوگئی کہ وہ کوئی تین نام تجویز کر کے قائد حزب اختلاف کی رائے حاصل کر سکتی ہے کہ کون قائد حزب اختلاف ہوگا۔ بہرحال حکومت کی یہ ایک رکاوٹ عدلیہ کے فیصلے سے دور ہوگئی۔

ملک کے اندر انتقال اقتدار کے حوالے سے جو عمل جاری ہے، اسے تکمیل پذیر ہونے میں دن لگیں گے اور اسی مناسبت سے چیئرمین کا تقرر بھی تاخیر کا شکار ہوگا۔ اس سلسلے میں گزارش یہ ہے کہ اب موقع مل گیا ہے تو چیئرمین کے تقرر سے قبل بہتر عمل نئے احتساب بل کی منظوری کے بعد چیئرمین مقرر کرنا مناسب ہوگا۔ خود مسلم لیگ (ن) نے سابقہ مخلوط حکومت کے ساتھ ہی طے کیا تھا۔ نیا احتساب بل منظور کر کے ایک خود مختار ادارہ بنایا جائے تاکہ احتساب کا عمل سیاسی نہ کہلا سکے۔ مسلم لیگ (ن) کو بعض شقوں پر اعتراض تھا اب مسلم لیگ (ن) اسمبلی میں اکثریت کے بحث اس قانون کو منظور کرانا مشکل نہیں ہوگا اور ایسا ہی ہونا چاہئے تاکہ تمام معاملات کو ٹھوس حمایت حاصل ہو جائے۔

بلوچستان میں حکومت کے قیام کا معاملہ الجھن کا شکار ہوا ہے تو انتظار کر لیا جائے۔ میاں شہباز شریف فارغ ہوں گے تو یہ بھی طے ہو ہی جائے گا۔ بہرحال آئندہ ہونے والا ہر دن انتقال اقتدار کی تکمیل کا ہے۔

مزید : تجزیہ