سٹاک مارکیٹوں کی بہتری کیلئے ڈی میوچلائزیشن پر کام تیز کردیاگیا

سٹاک مارکیٹوں کی بہتری کیلئے ڈی میوچلائزیشن پر کام تیز کردیاگیا

لاہور(کامر س رپورٹر) سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان نے تینوں سٹاک مارکیٹوں کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے ڈی میوچلائزیشن پر کام تیز کر دیا ہے ۔سٹاک مارکیٹوں کی کارپورٹائزیشن کے بعد اب ڈی میوچلائزیشن کا عمل شروع کیا جا رہا ہے جس سے تینوں سٹاک مارکیٹیں کراچی،لاہور اور اسلام آباد ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گی ۔حصص کی خریدوفروخت بڑھ جائے گی۔سٹاک مارکیٹوں میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا اور حصص کا کاروبار صاف و شفاف ہونے سے سرمایہ کاروں کا سٹاک مارکیٹ پر اعتماد بڑھ جائے گا۔ان خیالات کا اظہار ایس ای سی پی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عامر خان،ڈپٹی ڈائریکٹر طارق نسیم اور کمپنی رجسٹریشن کی ماہر سدرہ منصور نے لاہور سٹاک ایکسچینج کے ایڈیٹوریم میں اکنامک رپورٹرز کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔

ایس ای سی پی کے ان نمائندوں کا کہنا تھا کہ ایس ای سی پی کے نظام کو جدید بنیادوں پر استوار کیا گیا ہے اور نئے نظام کے تحت سٹاک مارکیٹوں کی مانیٹرنگ سخت کی جا رہی ہے ۔نیشنل کلیئرنگ کمپنی اور سی ڈی سی کمپنی کے قیام سے حصص کے کاروبار میں شفافیت بڑھ گئی ہے تاہم سرمایہ کاروں کو چاہئے کہ وہ اپنے بروکرز سے اپنے حصص کی خریدوفروخت کی باقاعدہ سٹیٹمنٹ حاصل کریں تاہم ایس ای سی پی کی جانب سے نئے نظام کے تحت حصص گذاروں کو ان کے حصص کی خریدوفروخت کی ای میل اور ایس ایم ایس کے ذریعے معلومات فراہم کر دی جاتی ہے ۔ایس ای سی پی کے ان نمائندوں کا کہنا تھا کہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں کرنے والی کمپنیوں اور بروکرز کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جاتی ہے جس کے تحت ان کے کیسز زیادہ سے زیادہ ایف آئی اے یا نیب کے سپرد کئے جا سکتے ہیںتاہم اگر سرمایہ کارسی ڈی سی میں اپنا اکاﺅنٹ کھلوائیں اور اپنے حصص کی خریدوفروخت کی سٹیٹمنٹ حاصل کریں تو فراڈ اور دھوکہ دہی سے بچ سکتے ہیں۔اس موقع پر ایس ای سی پی کی سدرہ منصور نے بتایا کہ ملک بھر میں ایس ای سی پی نے کل 64086کمپنیاں رجسٹرڈ کی ہیں جن میں پبلک لیمٹڈ کمپنیوں کی تعداد 580اور پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیوں کی تعداد 57686ہیں ۔کمپنیوں کی رجسٹریشن کا نظام انتہائی آسان بنا دیا گیا ہے اب کوئی بھی شخص چاہئے وہ بیرون ملک ہو وہ آن لائن طریقہ کے تحت اپنی کمپنی ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ کروا سکتا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ کمپنی رجسٹریشن کی فیس بھی آن لائن کے تحت جمع کرائی جا سکتی ہے جبکہ کریڈٹ کارڈ کے ذریعے بھی فیس جمع کرانے پر کام شروع کر دیا گیا ہے اور جلد ہی کریڈٹ کارڈ کے ذریعے بھی کمپنی رجسٹریشن کی فیس جمع کرائی جا سکے گی۔

مزید : کامرس