پاکستان اور بیلجئیم کو تجارتی تعلقات بڑھانے چاہئیں: سفیرپیٹرکلیز

پاکستان اور بیلجئیم کو تجارتی تعلقات بڑھانے چاہئیں: سفیرپیٹرکلیز

لاہور (کامرس رپورٹر) بیلجیئم کے سفیر پیٹر کلیز نے کہا ہے کہ سیکٹرز کی مطابقت سے ٹھوس اقدامات اٹھاکر بیلجیئم اور پاکستان تجارتی و معاشی تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز کرسکتے ہیں، دونوں ممالک کے نجی شعبہ کو آگے آکر اس سلسلے میں بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر کاشف انور سے لاہور چیمبر میں ملاقات کے موقع پر کیا۔ سابق سینئر نائب صدر ملک طاہر جاوید، سابق ایگزیکٹو کمیٹی اراکین رحمت اللہ جاوید، شیخ محمد ایوب، خامس سعید بٹ اور غلام سرور ملک بھی اس موقع پر موجود تھے۔ سفیر نے کہا کہ مشترکہ منصوبہ سازی اور تاجروں کے درمیان روابط کا فروغ دونوں ممالک میں موجودہ پوٹینشل سے فائدہ اٹھانے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے لاہور چیمبر کو اس سلسلے میں اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ تجارتی و معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے لاہور چیمبر کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے بیلجیئم کے سفیر نے کہا کہ تجارتی وفود کا تبادلہ، میلے اور سنگل کنٹری نمائشیں مطلوبہ نتائج کے حصول میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیلجیئم یورپین یونین میں تجارتی و معاشی سرگرمیوں کا مرکز ہے جس سے پاکستانی تاجروں کو فائدہ اٹھانا چاہیے مگر یہ مدّنظر رکھنا ضروری ہے کہ یورپین یونین کے اراکین نے کوالٹی کے اعلیٰ معیارات مقرر کررکھے ہیں جن سے ہم آہنگ ہونا ضروری ہے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے لاہور چیمبر کے نائب صدر کاشف انور نے کہا کہ پاکستان بیلجیئم کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے ، انہیں مزید مستحکم بنانے کے لیے لاہور چیمبر اپنا ہر ممکن کردار ادا کرے گا۔ دوطرفہ تجارتی حجم بڑھانے کے لیے انہوں نے تجارت کے قابل مزید نئی مصنوعات متعارف کرانے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپین یونین کمیشن کی جانب سے پاکستان کو جی ایس پی پلس سٹیٹس ملنے کے بعد پاکستان اور بیلجیئم کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری کے نئے امکانات روشن ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بیلجیئم انجینئرنگ، آٹوموبیل سیکٹر، کیمیکل انڈسٹری، کرسٹل اینڈ گلاس پروڈکٹس ، الیکٹریکل اور الیکٹرانک سیکٹر میں خاص مہارت رکھتا ہے ، ان شعبوں میں مشترکہ منصوبہ سازی سے پاکستان کو بہت فائدہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپین یونین کی جانب سے جی ایس پی پلس سٹیٹس کے حصول میں مدد کرنے پر پاکستان بیلجیئم کا شکر گزار ہیں۔

مزید : کامرس