کراچی میں بھتہ خوری کا سمندرایک بارپھرچڑھناشروع ہوگیا: عتیق میر

کراچی میں بھتہ خوری کا سمندرایک بارپھرچڑھناشروع ہوگیا: عتیق میر

کراچی (اکنامک رپورٹر) آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی میں بدامنی کی صورتحال دوبارہ آٹھ ماہ قبل کی پوزیشن پر لوٹنا شروع ہوگئی ہے،شہر میں بھتہ خوری کا سمندر ایک مرتبہ پھر چڑھنا شروع ہوگیا ہے، تاجروں کو دھمکی آمیز فون کالز کے واقعات میں دوبارہ تیزی آگئی ہے، قیامِ امن کے تحت حکومت کی غیرسنجیدہ کوششوں سے کراچی آپریشن ناکامی کی جانب بڑھ رہا ہے، عام مجرموں کے مقابلے میں باوردی مجرموں کی وارداتوں میں تشویشناک اضافہ ہوگیا ہے، محکمہ پولیس کو سیاسی اثرات سے نجات اور بدعنوانی سے پاک کیا جائے، سیکوریٹی اداروں کے باکردار افراد کی حوصلہ افزائی اور بدعنوانوں کو منظرعام پر لائیں گے ان خیالات کا اظہار انھوں نے آج اپنے دفتر میں لاءاینڈ آرڈر کمیٹی کے تیسرے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں کمیٹی کے چیئرمین محمد احمد شمسی دیگر ارکان انصار بیگ قادری، طارق ممتاز، شاکر فینسی، شیخ محمد عالم، جاوید ملک، سید محمد سعید،محمد آصف، سید شرافت علی، سمیع اللہ خان، عبدالغنی،عرفان للہ ، عمران پاروانی، دلشاد بخاری،محمد عارف، شمیم احمد شریک تھے، انھوں نے کہا کہ سابق ایڈیشنل آئی جی کراچی شاہد حیات خان کو سازش کے تحت عہدے سے ہٹایا گیا جس سے پولیس کا بہتری کی جانب گامزن سیٹ اپ دوبارہ اپ سیٹ ہوگیا ہے اور پولیس میں کرپٹ مافیا آزادانہ طور پر شہریوں اور تاجروں کی لوٹ مار میں دوبارہ فعال ہوگیا ہے

، انھوں نے کہا کہ رات کے اندھیرے میں ایجنسیاں بے قصور تاجروں کو ان کے گھروں سے اٹھارہی ہیں

، تشدد، خوفزدہ اور ہراساں کرکے رہائی کے عوض منہ مانگی رقوم وصول کی جارہی ہیں، سیکوریٹی اور تفتیش کی بعض ایجنسیوں کو بدعنوانی کی صنعت کا درجہ حاصل ہوگیا ہے، بیشتر تھانے جرائم کا گڑھ بن گئے ہیں جن کے خلاف شکایت سننے والا کوئی نہیں ہے، تھانے سے کچہری تک پورا نظام مجرم کے حق میں استوار ہوگیا ہے، اجلاس میں تاجر نمائیندگان نے حکومت سے اپنے دیرینہ مطالبات دہراتے ہوئے کہا کہ سیلولر فون کمپنیوں کو سختی سے ہدایت کی جائے کہ ماضی میں جاری کردہ دو کروڑ سے زائد غیرقانونی فون سموں کی دوبارہ جانچ پڑتال کی جائے، پولیس کو فراہم کیئے گئے موبائل فون لوکیٹرز کی فعالیت اور کارکردگی کو بہتر کیا جائے،بھتہ اور اغواءبرائے تاوان کے خلاف عبرت ناک قوانین کا نفاذ عمل میں لایا جائے، محکمہ پولیس سے کالی بھیڑوں کی چھانٹی کا عمل فی الفور شروع کیا جائے،تھانوں کی سطح پر بھتہ جرائم کی روک تھام کی تربیت، شکایت کے اندراج اور ازالے کی سہولت فراہم کی جائے، شہر میں رینجرز کی تعداد اور استعداد میں اضافہ کیا جائے، قانونِ شہادت پر فوری عملدرآمد کرکے عدالتی نظام کو مﺅثر اور مضبوط کیا جائے،تاجروں نے کہا کہ امن و امان کے تحت صوبائی سیکوریٹی اداروں کی مشکلات اور مسائل کے پیشِ نظر یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ حکومتِ سندھ کے زیرِاثر سیکوریٹی اداروں سے بہتر کارکردگی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔

مزید : کامرس