بہن ! تم اکیلی نہیں ہو....!

بہن ! تم اکیلی نہیں ہو....!
بہن ! تم اکیلی نہیں ہو....!

  

ایک نجی ٹیلی ویژن چینل پر دو روز قبل ایک خبر نے چونکا دیا۔ خبر میں بتایا جا رہا تھا کہ مصطفےٰ آباد لاہور کی رہائشی ایک خاتون مشرف بی بی کا شوہر گزشتہ چار ماہ سے لاپتہ ہے، لیکن پولیس مقدمہ درج نہیں کر رہی۔ فوٹیج میں مشرف بی بی کے دو بچے بھی دکھائے جا رہے تھے ۔ 9سال کا بلال اور 7سال کی ملائکہ۔ مشرف بی بی تو شوہر کو یاد کر کے رو ہی رہی تھی،ننھے بچوں کا بھی یہی حال تھا.... تفصیلات کے مطابق مشرف بی بی کا شوہر سردار علی 9فروری 2014ءکوشیو کرانے گھر سے نکلا، لیکن پھر لوٹ کر نہیں آیا۔ چار پانچ گھنٹوں کے بعد جب گھر والوں کو تشویش ہوئی تو وہ اشرف حجام کے پاس پہنچے، لیکن اُس نے کہا کہ سردار علی آیا ہی نہیں، جس پر سردار کے گھروالوں کی تشویش میں مزید اضافہ ہو گیا۔ وہ اُسے ڈھونڈتے رہے، ہر جگہ چھان ماری، میوہسپتال کا ڈیڈ ہاﺅس بھی دیکھ لیا۔ جہاں جہاں شبہ تھا اُس کی جانچ پڑتال کر لی۔ غرض کوئی کونا نہ چھوڑا ، مگر سردار علی کا کوئی پتہ نہ چلا۔

سردار علی محنت کش اور دو بچوں کا باپ تھا۔ اُس کے بھائی بھی دو ہیںاور وہ تینوںایک ہی گھر میں، جو ٹرپل سٹوری ہے ، الگ الگ پورشن میں رہتے ہیں۔ سردار علی اور اُس کے بھائی محنت مزدوری کرتے ہیں۔ مشرف بی بی شوہر کے اس طرح اچانک پُر اسرار طور پر غائب ہو جانے کے بعد لوگوں کے گھروں میں کام کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پال رہی ہے، لیکن اِس میں سب سے کربناک بات یہ ہے کہ پولیس نے بھی مشرف بی بی سے کوئی تعاون نہیں کیا۔ وہ تھانہ مصطفی آباد میں 14فروری کو ایف آئی آر درج کرانے گئی اور بتایا کہ اُس کا شوہر پانچ روز قبل اچانک لاپتہ ہو گیا ہے۔ اُس نے اغوا کا شبہ بھی ظاہر کیا لیکن پولیس نے اغواءکے مقدمہ کے بجائے روزنامچہ میں صرف ایک رپٹ درج کی کہ سردار علی 9 فروری کو شیو کرانے کے لئے گھر سے گیا، پھر واپس نہیں آیا، یعنی یہ اطلاعی رپٹ تھی۔ ایسی رپورٹوں پر کچھ نہیں ہوتا، نہ کوئی کارروائی، نہ تفتیش میں کوئی پیشرفت۔یوں سمجھیں کہ رپٹ کے اندراج کے بعد معاملہ یہیں ختم ہو جاتا ہے۔

چونکہ مشرف بی بی ایک غریب عورت تھی، غریب عورت ہے، اس لئے شنوائی کے سب دروازے اُس کے لئے بند تھے۔ اُس نے کبھی تھانہ نہیں دیکھا۔ اُس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ کبھی اُسے بھی تھانہ دیکھنا پڑے گا۔ تھانوں میں کیا ہوتا ہے؟ لوگوں کی زبانی اُس نے بہت کچھ سن رکھا تھا۔ محلے داروں اور رشتہ داروں نے اُسے بتایا تھا کہ تھانے جانا ہے تو پیسوں کے بغیر تمہاری کوئی بات نہیں سنے گا۔ پیسے ہیں، تو مقدمہ بھی درج ہو گا، تمہاری شنوائی بھی ہو گی اور نتیجہ کسی منطقی انجام تک بھی پہنچے گا۔ غربت، مفلسی اور بیچارگی کی ماری نے بعد ازاں اسی لئے تھانے کا رخ نہیں کیا کہ اُس نے تھانے میں ہونے والے ”معاملات“ کے بارے میں بہت کچھ سن لیا تھا۔ میڈیا کی رپورٹ کے بعد پولیس نے تھانہ مصطفےٰ آباد لاہور میں سردار علی کے اغواءکا مقدمہ تو درج کر لیا ہے، لیکن آگے کوئی پیشرفت نہیں ہوئی، نہ اس کا کوئی امکان ہے، کیونکہ تفتیشی ونگ کے ماتحت اور افسران بھی اسی مٹی کی نشانیاں ہیں، جہاں ہر روز ظلم کے بازار سجے ہوتے ہیں۔ کوئی کسی پر رحم نہیںکرتا، نہ کوئی کسی مظلومت پر جاتا ہے، نہ اُس کا دل ہلتا اور جسم کانپتا ہے۔

مشرف بی بی ! تم اپنے آپ کو اکیلا مت سمجھو۔ ابھی اِس معاشرے میں بہت سے نیک لوگ بھی موجود ہیں۔ شاید اُنہی کے سہارے معاشرے قائم ہیں۔ چینل والوں نے تو آپ کی مدد کر دی، پرچہ بھی درج ہو گیا، لیکن آگے جو بھی پیشرفت ہو گی، تفتیش کے جتنے بھی مراحل آئیں گے، ہم سب آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ ایک بہن کے لئے کھڑے ہونا، اُس کے لئے آواز بلند کرنا ہمارے لئے فخر و اعزاز کی بات ہو گی۔ مَیں پھر کہتا ہوں مشرف بی بی ! تم تنہا نہیں ہو۔ ہم تمہاری لڑائی لڑیں گے۔ انصاف کے راستے میں حائل ہونے والی ہر دیوار گرائیں گے۔ یہ ہمارا منصبی فریضہ بھی ہے ور اخلاقی و معاشرتی اقدار کا تقاضا بھی کہ ہم سب آپ کا ساتھ دیں۔ آپ کے دکھ میں شامل ہو جائیں۔ اللہ کرے، تمہارا شوہر صحیح سلامت ہو۔ زندہ واپس اپنے گھر آئے، اپنے بچوں کے درمیان اور پھر اس گھر میں وہی خوشیاں ہوں جو سردار علی کے ہونے سے برپا ہوتی تھیں۔ اُسے کون لے گیا؟ کہاں لے گیا؟ یا وہ خود کہیں روپوش ہو گیا۔ بظاہر اُس کی روپوشی کے ایسے کوئی آثار نظر نہیں آتے، پھر رہ جاتی ہے بات کسی کے لے جانے کی، یعنی اُس کے اغواءکی۔بادی النظر میں ابھی تک ایسے کوئی شواہد بھی سامنے نہیںآئے کہ اُس کے مبینہ اغوا پر مہر تصدیق ثبت کر دی جائے۔ اس لئے اُس کی تلاش کا مرحلہ کوئی آسان کام نہیںہو گا۔ پولیس کی تفتیش بھی بعض شواہد یا پہلوﺅں پر آگے بڑھتی ہے، لیکن مشرف بی بی کے پاس اس کے سوا کہنے کو اور کچھ نہیں ہے کہ اُس کا شوہر نیک اور اپنے کام سے کام رکھنے والا شخص تھا۔ بظاہر اُس کی کسی کے ساتھ عداوت بھی نہیں تھی۔ پھر کیا ہوا ؟ سردار علی کہاں ہے؟ پرچہ تو درج ہو گیا، لیکن دیکھنا اب یہ ہے کہ انویسٹی گیشن پولیس اُس کی تلاش کے لئے کیا کرتی ہے؟ سردار کے بچے باپ کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ مشرف بی بی بھی ہر وقت دروازے میں بیٹھی رہتی ہے۔ اگر سردار علی زندہ ہے تو انشاءاللہ ضرور واپس آئے گا۔

مزید : کالم