بجٹ اصلاحات :چند تجاویز

بجٹ اصلاحات :چند تجاویز
بجٹ اصلاحات :چند تجاویز

  

پاکستان کے اقتصادی مسائل اتنے گوناگوں ہیں کہ ہر شخص اُن سے متاثر ہو رہا ہے۔ ہماری آبادی کا آدھے سے زیادہ حصہ غربت و عُسرت کی زندگی گزار رہا ہے اور سب شہری ان مسائل کی پیچیدگیوں کا فہم نہیں رکھتے۔ ہمارے اقتصادی ماہرین کو پاکستان کا بجٹ بناتے وقت ہر سال وسائل کی کمیابی کا سامنا رہتا ہے کیونکہ ہمارے بڑھتے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لئے بیش بہا ذرائع دستیاب نہیں ہوتے۔ ویسے تو قومی میزانیہ بناتے ہوئے تمام ترقی پذیر ممالک کو ایک ہی طرح کے مسائل اور مشکلات درپیش ہوتی ہیںلیکن ہماری قومی کارکردگی کی وجہ سے ہم ان مسائل کو حل کرنے کی بجائے بڑھاتے ہی چلے جا رہے ہیں کیونکہ ہماری اقتصادی کارکردگی کبھی بھی بے مثال نہیں رہی جس پر ہمیں فخر ہو۔ ایسا کیوں ہے؟ اگر میں یہ کہوں کہ لیڈر شپ کے فقدان نے ہمیں اس صورت حال سے دو چار کیا ہے تو یہ بے جا نہ ہوگا۔ ویسے تو ہمارے سیاسی اکابرین ہمیشہ قوم کو دودھ اور شہد کی نہریں بہا دینے کی نوید سناتے رہتے ہیں کہ اُنہوں نے معیشت کی گاڑی ایسی سیدھی پٹری پر ڈال دیا ہے کہ خوشحالی کی منزل قریب ہی ہے۔ آج کی اس نشست میں ہم اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کریں گے کہ واقعی ہماری اقتصادی گاڑی کو مطلوبہ سمت پر چلا دیا گیا ہے اور کیا واقعی ہماری سمت درست ہو چکی ہے یا کہ نہیں۔ اور اس سوال کا جواب نفی میں ہے تو وہ کون سے عوامل ہیں جو اس سمت کی درستگی میں مانع ہیں اور ہمیں وہ کون سے اقدام کرنے چاہئیں جس سے ہماری اقتصادی حالت درست ہو سکے۔ اس سے پیشتر کہ ہم چند ایک ایسی تجاویز پیش کریں ہمیں موجودہ معاشی حالت کا جائزہ لینا پڑے گا۔

قومی اقتصادی جائزہ کا امسال کے حوالہ سے سٹیٹ بنک آف پاکستان کی طرف سے حالیہ جاری کردہ رپورٹ میں دیئے گئے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا جانا ضروری ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں سب ٹھیک نہیں ہے اور اقتصادی امور کی نگرانی کرنے والے حکومتی ذرائع کی یہ بات کہ اُنہوں نے معیشت کو صحیح سمت دے دی ہے کی نفی ہوتی نظر آ رہی ہے۔ جائزہ رپورٹ کے مطابق جی ڈی پی کا گروتھ ریٹ 3.97 فیصد کے قریب ہے جبکہ موجودہ مالی سال میں اس کا ہدف 4.4 فیصد رکھا گیا تھا۔ گرانی کا تخمینہ 8.5 فیصد لگایا گیا جبکہ تین سہ ماہی مدت کے اختتام تک یہ 9.3 فیصد رہا۔ اسی مدت کے سابقہ مالی سال میں یہ 8.3 فیصد رہا تھا۔ پچھلے دس ماہ سے زائد میں قومی تجارتی خسارہ 35 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے اور لگتا ہے سال رواں کے آخر تک یہ 42 ارب کے قریب پہنچ جائے گا۔اگرچہ زرِمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے اور اس وقت یہ 12.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں اور امید ہے کہ سال کے اختتام پر یہ 14.15 ارب ڈالر کے درمیان ہونگے ان ذخار میں بہتری کی وجوہات ہماری کارکردگی نہیں ہے اور ہماری اقتصادی کاوشوں کی بجائے غیر ملکی قرضہ جات کا ملنا، دوست ملک سے تحفہ میں ملنے والی 1.5 ارب ڈالر کی رقم، 3-G اور 4-G سے حاصل شدہ آمدنی جو نیلامی سے ملی اور یورو بانڈز کے اجراءسے حاصل شدہ فنڈز ہیں۔

اگلے مالی سال کی مالیاتی صورتِ حال کا انحصار موجودہ سال کے اختتام پر زرِ اعانت (Subsidies) کی ادائیگیوں، بجلی کے شعبہ میں گردشی قرضوں کی ادائیگی کی پوزیشن، سیلولر کمپنیوں کے لئے اختیار کردہ 3-G اور 4-G لائسنسوں کی ادائیگی کی شرائط کے طے ہونے اور ایف بی آر کی کارکردگی پر ہوگا۔ حقیقی پیداوارGDP کے شعبہ میں شرح نمو 3.5 فیصد اور 4.5 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے جو پچھلے سال کے مقابلے میں کم ہے۔ اس کی وجوہات میں سے نمایاں زرعی شعبہ کی توقع سے کم کارکردگی ہے۔ ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ وہ کون سے فوری اقدامات ہیں جو مالی منیجروں کو لینے چاہئیں۔ میرے نزدیک سب سے اہم ٹیکس محاصل بڑھانے کے لئے اُٹھائے جانے والے اقدامات ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان اقدامات کو مالیاتی نظام کے ساختی مسائل پر کرنے کی بجائے ہمارے ماہرین مصلحت کی بنا پر اقدامات اُٹھاتے ہیں۔

 پچھلے سال کے بعد امید تھی کہ نئی حکومت اس نظام میں بہتری لائے گی لیکن یہ خواب ادھورا ہی رہا۔ اب وقت ہے کہ ٹیکس اصلاحات لائی جائیں اور اس کی بنیاد ٹیکس اساس کے پھیلاﺅ پر ہو۔ پہلے سے عائد ٹیکسوں میں رد و بدل سے صورت حال میں بہتری لائے جانے کے امکانات بہت کم ہیں ٹیکس اساس کی وسعت کے ساتھ ساتھ چند غیر ضروری مستثنیات (Exemptions) ختم کرنی ضروری ہوں گی۔ خاص کر وہ مستثنیات جو مراعات یافتہ طبقہ کو دی گئی ہیں۔ ٹیکس نیٹ کی وسعت کے ساتھ ساتھ ٹیکس چوری کے رجحانات پر قابو پانا ضروری ہوگا۔ چونکہ یہ چوری ہماری ٹیکس انتظامیہ کی اعانت سے ہوتی ہے اس لئے ٹیکس جمع کرنے کے نظام کی اصلاح کرتے ہوئے اس کی استعداد کار میں اضافہ نہایت ہی ضروری ہے۔ اس کا احساس جتنی جلدی کر کے اسے اصلاح پذیر کیا جائے گا اتنی سرعت سے وسائل کی کمیابی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شعبہ توانائی ہمارے ماہرین کی خصوصی توجہ کا طالب ہے جس میں بجلی کی چوری اور لائن پر ہونے والے نقصانات کا ازالہ ہونا نہایت ہی ضروری ہے جو اس وقت 35 فیصد کی حد تک پہنچ چکے ہیں اگرچہ محکمہ اس کو 25 فیصد سے زیادہ ماننے کے لئے تیار نہیں۔

مندرجہ بالا اقدامات کے ساتھ ساتھ ترقیاتی کاموں کی رفتار قائم رکھنا بھی ضروری ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ موجودہ سال میں مقررکئے گئے اہداف حاصل کرنے کی طرف توجہ دی جائے تاکہ بیروگاری میں کمی لائی جا سکے۔ ترقیاتی رفتار قائم رہنے سے گاﺅں سے منڈی تک کی سڑکوں کی تعمیر اور دیگر تعمیراتی کاموں کا پایہ ¿ تکمیل تک پہنچنا ضروری ہے۔ اس سے تعلیم اور صحت کے شعبہ میں تعمیر کئے جانے والی عمارات شامل ہوں گی تو زیادہ بہتر ہوگا۔ سرکاری شعبہ میں ترقیاتی سرگرمیوں سے نجی شعبہ میں قرضوں کی فراہمی کی گنجائش پیدا ہو گی جس سے روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور قومی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ یہ یاد رہے کہ ایسی ترقیاتی معاشی سرگرمیوں کے لئے داخلی سلامتی اور امن و امان کی صورتِ حال کا بہتر ہونا بھی از حد ضروری ہے۔ جیسا کہ اوپر اشارہ کیا گیا ہے توانائی کے شعبہ میں خصوصی توجہ سب سے اہم ہے اور ٹیکس نیٹ بڑھانے کے ساتھ ساتھ اس شعبہ کی کارکردگی کا بہتر ہونا معیشت کے لئے بہت ہی ضروری ہے۔

 حکومت نے اب تک جو تاثر دیا ہے وہ یہی ہے کہ وہ رات دن اس شعبہ کی اصلاح میں کوشاں ہے لیکن اس کی ان کوششوں کا عملی اظہار بھی نظر آنا چاہئے۔ لوڈشیڈنگ کے عذاب سے نجات حاصل کرنے کی اہمیت پہلے ہی بہت اجاگر ہو چکی ہے کیونکہ صنعتی شعبہ کی کارکردگی کا زیادہ تر انحصار توانائی کے شعبہ میں ترقی میں مضمر ہے کیونکہ کسی بھی ملک میں بیروزگاری میں اضافہ کی بڑی وجہ اسی شعبہ میں انحطاط پذیر کار گزاری ہوتی ہے۔ اور بیروزگاری کی وجہ سے ہی معاشی صورت حال میں تناﺅ پیدا ہوتا ہے اور ہمارے ہاں بھی یہی صورتِ حال ہے۔ قومی آمدنی کی کمی کی وجہ سے معاشی اہداف کا حصول ناممکن ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس سال کے محاصل میں 200 ارب روپے کی کمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس کمی کے ساتھ اگر بڑھتے ہوئے گردشی قرضہ کو دیکھا جائے جو کہ سال کے اختتام تک 370 ارب روپے کے اردگر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ تو صورت حال مزید آشکار ہو جائے گی۔

مندرجہ بالا معاشی اشاریئے اس بات کا اندازہ لگانے کے لئے کافی ہیں کہ آئندہ مالی سال میں ہماری معاشی کارکردگی پر کس قدر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ اس وجہ سے شرح نمو میں اضافہ کی بجائے کمی کا انداز ہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر ہم بیرونی قرضہ جات میں فروغ کا جائزہ لیں تو یہ تسلیم شدہ حقیقت نظر آ رہی ہے کہ آئندہ سال کے بجٹ تخمینہ میں 67 فیصد سے زائد حصہ ان قرضہ جات کے سود کی ادائیگیوں کی نذر ہونے کی توقع ہے۔ ان حالات میں اقتصادی ترقی کا خواب کس طرح شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے ویسے بھی مجموعی گرانی کے آئندہ سال بھی کم ہونے کے کوئی آثار نہ ہیں اور یوں غربت میں مزید اضافہ ہونا نا گزیر ہے۔ فی الوقت خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی شرح پہلے ہی 55 فیصد کے قریب ہے۔ اگر اب بھی ہم نے ٹیکس محاصل کی آمدنی نہ بڑھائی اور غیر ترقیاتی انتظامی اخراجات میں کمی نہ کی تو ترقی کا خواب جو ہمیں دکھایا جا رہا ہے وہ شرمندہ¿ تعبیر نہیں ہو سکتا اس لئے بجٹ تجاویز مرتب کرتے وقت ہمارے ماہرین کو شرحِ نمو میں اضافہ، بیرونی قرضہ جات کی بجائے بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ کی کوشش، افراطِ زر میں کمی، ٹیکس محاصل میں خاطر خواہ اضافہ جو ٹیکس اساس کے پھیلاﺅ پر مبنی ہو، غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی، توانائی کے شعبہ کی اصلاح خاص کر بجلی چوری کی روک تھام اور لائن لاسز میں کمی اور گردشی قرضہ جات کو پھیلاﺅ سے روکنے کے اقدامات پر زور دینا ہوگا۔ غیر ملکی قرضہ جات پر انحصار سے ہمیں مہنگی شرح سود کی ادایگی کرنی پڑتی ہے جس سے بچاﺅ کی کوشش کرنی ہو گی کیونکہ بیرونی قرضہ جات میں فروغ مہنگی شرح سود پر یورو بانڈز کا اجراءاور دوست ممالک سے تحفہ جات کی صورت رقوم کے حصول جیسے غیر دانشمندانہ اقدامات سے معیشت مزید دباﺅ کا شکار ہو گی ا ور اس کی بہتری کی جانب رواں ہونے کا تاثر جو دیا جا رہا ہے وہ بالکل ناکام ہوگا۔

مندرجہ بالا بحث کی روشنی میں آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تجاویز مرتب کرتے وقت ہمارے معاشی ماہرین کی ذہانت کا امتحان ہوگا۔ مزید برآں زرعی شعبہ کے ساتھ ساتھ سٹاک مارکیٹ میں بڑھتے ہوئے سرمائے پر ٹیکس لگایا جانا ضروری ہے۔ زرعی شعبہ کے ٹیکس کا انحصار صوبوں کی اپنی اپنی پالیسیوں پر منحصر ہوگا لیکن وفاق اس ضمن میں صوبوں کے اندر یکسانی پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ صرف زبانی جمع خرچ کی بجائے کارکردگی بڑھانے کی طرف توجہ دی جائے۔ طاقت ور طبقات کے ناجائز مفادات کا تحفظ کرنے کا تاثر ختم ہونا چاہئے اگر ایسا ہوگا تو عام آدمی کی زندگی میں بہتری لائی جا سکتی ہے کیونکہ عام آدمی کی زندگی آسودہ کرنا ہی جمہوریت کی اساس ہے یہ کوئی احسان نہیں بلکہ عوام کا حق ہے کیونکہ عوامی فلاحی حکومت کی اساس عوامی مفادات کے تحفظ کرنے میں ہے تاکہ عام آدمی کی زندگی بہتر ہو اور اسے بہتر تعلیم، موزوں صحت پانے کے لئے ان شعبہ جات میں رکھے گئے قلیل وسائل کو بڑھایا جا سکے جو اس وقت شرمناک حد تک کم ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نمبر بہت نیچے ہے جہاں تعلیم اور صحت کی مد میں 1.87 فیصد اور 2.00 فیصد فنڈز مہیا کئے جاتے ہیں۔ مندرجہ بالا شعبہ جات میں سہولیات کی فراہمی ہی غربت کے خلاف جنگ میں کامیابی کی کلید ہے اگرچہ ہماری داخلی سلامتی اور امن و امان کا حصول بھی معاشی ترقی کے لئے نہایت ہی ضروری ہے اور داخلی سلامتی کا تعلیم کی ترقی سے گہرا تعلق ہے۔ ایسا کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ غربت کی اذیت میں ہماری قوم کا بیشتر حصہ کئی عشروں سے مبتلا چلا آرہا ہے اور ہر سال بہتری کی امید پر زندہ ہے۔ بقول شاعر:

زندگی تیرے تعاقب میں یہ لوگ

اتنا چلتے ہیں کہ مر جاتے ہیں

مزید : کالم