اولمپک 2022کی میزبانی کے لئے کوئی تیار نہیں

اولمپک 2022کی میزبانی کے لئے کوئی تیار نہیں
اولمپک 2022کی میزبانی کے لئے کوئی تیار نہیں

  

 روم (نیوز ڈیسک) اولمپک کھیلوں کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے اور انہیں ہمیشہ سے مقبول ترین مقابلوں کا درجہ حاصل رہا ہے اور ہر ملک کی خواہش رہی ہے کہ یہ مقابلے اس کی سرزمین پر ہوں۔ مگر اب ملکوں کی اقتصادی ترجیحات نے صورتحال بدل دی ہے اور یہ وقت آگیا ہے کہ کوئی ملک اولمپک کھیلوں کی میزبانی کیلئے تیار نہیں ہورہا۔ آج کل اولمپک کمیٹی 2022ءکے سرمائی اولمپک کھیلوں کے میزبان کی تلاش میں ہے۔ روایت تو یہ ہے کہ سب سے زیادہ بولی دینے والے مل کو میزبانی ملتی ہے لیکن جیسے نمایاں ممالک اس میزبانی سے بھاگ رہے ہیں اس سے تو یہ لگتا ہے کہ سب سے کم بولی دینے والے ملک کو یہ میزبانی مل جائے گی۔ متعدد اہم ممالک نے ان مقابلوں کو محض رقم کا ضیاع اور گھاٹے کا سودا قرار دے کر ٹھکرا دیا ہے۔ پولینڈ نے فیصلہ کیلئے ریفرینڈم کروایا تو عوام کی 70 فیصد اکثریت نے میزبانی سے انکار کردیا اور پولینڈ نے میزبانی سے معذرت کرلی۔ سویڈن میں حکمران جماعت نے اولمپک کھیلوں کو محض فضول خرچی قرار دے کر میزبانی سے معذرت کرلی۔ جرمنی اور سوئٹزر لینڈ بھی ایسی ہی وجوہات بیان کرکے اولمپک میزبانی سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ ناروے کے عوام میں بھی ان کھیلوں کی میزبانی کے خلاف رائے پائی جاتی ہے اور یوکرین کے حالات خانہ جنگی کی وجہ سے خراب ہیں۔ اب باقی صرف قازقستان اور چین رہ گئے ہیں کہ جن سے اولمپک کمیٹی نے امید لگائی ہوئی ہے۔ دیکھئے یہ دو ممالک کب اولمپک میزبانی سے بھاگتے ہیں۔  

مزید : کھیل