مسلم لیگ ن کی حکو مت نے ایک سال میں عوام کے لیے کچھ نہیں کیا،لیاقت بلوچ

مسلم لیگ ن کی حکو مت نے ایک سال میں عوام کے لیے کچھ نہیں کیا،لیاقت بلوچ

لاہور(پ ر) سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلو چ نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکو مت نے ایک سال میں عوام کے لیے کچھ نہیں کیا ایک سال میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 32 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ دہشت گردی بڑھی ہے۔ قیمتیں کہیں ڈیڑھ سو فیصد، کہیں اسی فیصد اور کہیں ستر فیصد بڑھی ہیں، لیکن بنیادی اشیا کی قیمتوں میں کم و بیش 35 فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔ انٹرنیشنل سروے کے مطابق پاکستان میں 45 فیصد لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ بجٹ آنے سے قبل ہی ملک میں ذخیرہ اندوزی، گرانی اور اشیاءکی قلت ہورہی ہے جس کے باعث لوگوں کی پریشانی میں اضافہ ہورہا ہے۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کی پریس ریلیز کے مطابق ان خیالات کا اظہار انھوں نے اسلام آباد میں نیشنل لیبر فیڈ ریشن پاکستان کے زیر اہتمام پری بجٹ سیمینار سے خطاب کر تے ہو ئے کیا ۔اس مو قع پر نائب امیر جماعت اسلامی پا کستان میاں محمد اسلم ،نیشنل لیبر فیڈ ریشن پاکستان کے صدر شمس الرحمن سو اتی ،سی ڈی مز دور یو نین کے سیکرٹری جنرل چو ہدری محمد یا سین، آئیسکو لیبر یونیٹی کے راجہ عاشق خان، پریم یونین کے ظہور شاہ، پیرا میڈیکل سٹاف ایسوسی ایشن کے ارشد خان، پمز ایسوسی ایشن کے ریاض گجر، لیبر یونیٹی کے سید تنویر حسین کاظمی نے بھی خطاب کیا لیا قت بلو چ نے کہا سعودی عرب سے ملنے والے ڈیڑھ ارب ڈالر کے تحفے کی وجہ سے ڈا لر کی قیمت کم ہو ئی یا پھر امریکہ طرف سے کولیشن سپورٹ فنڈ کے نتیجے میں ملنی والی رقم اس کی وجہ بنی مگر عوام کوپھر بھی ریلیف نہیں ملا کوئی معاشی سرگرمی نہیں بڑھی۔ انھوں نے کہا گزشتہ ایک سال کے دوران چھ ارب روپے کے نوٹ چھاپے گئے ہیں۔ مزدوروں کے اربوں روپے ہڑپ کرلیے گئے ہیں، لیکن عوام کاکوئی پرسان حال نہیں۔ کرپشن ملکی معیشت کو دیمک کی طرح چاٹ گئی ہے ۔انھوں نے کہا ہم حکومت سے مطا لبہ کر تے ہیں کہ نئے بجٹ میں روز گار کے نئے مواقع پیدا کرنے کیلئے رقم مختص کی جائے اور مزدوروں کے قتل کے پروگرام نجکاری کو روکا جائے، قومی اداروں کی نجکاری کے بجائے انہیں اپنے پاو¿ں پر کھڑا کرنا چاہیے۔اگر حکومت کا کام ادارے چلانا نہیں تو پھر میٹرو بس کیوں چلا رہے ہیںیہ بھی تو عوام کا پیسہ ہے۔ لیا قت بلو چ نے کہا کہ قرضوں سے پاکستانی معیشت کبھی ٹھیک نہیں ہوسکتی معیشت کی بہتری کے لیے ہمیںملکی وسائل پر انحصار کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا ملک میں زراعت کو ترقی دینے کی ضرورت ہے ،انہوں نے کہا کہ بھارت سے آلو، ٹماٹر منگوانے کی بجائے زراعت کو ترقی دے کر ملک کو خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جاسکتا ہے۔ لیاقت بلو چ نے کہا کہ مہنگائی کے تناسب سے مزدوروں، محنت کشوں کی تنخواہوں میں اضافہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کے حل کی کنجی عوام کے پاس ہے´ اگر عوام اپنے ووٹ کے ذریعے دیانت دار قیادت کو سامنے لائے گی تو ملک خوشحالی کے راستے پر گامزن ہوگا اور اس کے ثمرات عوام تک پہنچیںگے۔سیمینار سے خطاب کر تے ہو ئے نیشنل لیبر فیدریشن کے صدر شمس الرحمن سو اتی نے کہا کہ ملک میں ستر فیصد سے زائد ٹیکس غریب عوام سے لیا جا تا ہے جبکہ مرا عات یا فتہ طبقہ کو ٹیکس کے دائرہ میں ہی نہیں لایا جا تا، ماہر ین معیشت کے مطا بق اگر ان لو گو ں کو ٹیکس نیٹ میں لا یا جا ئے تو آٹھ ہزار ارب کا ٹیکس جمع کیا جا سکتا ہے اور پھر بجٹ کا خسارہ نجکاری کے ذریعے پو راکرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی،انہوں نے کہا کہ ماضی میں 167ادارے اسی طر ح نجکاری کا شکار ہو ئے جس سے لاکھوں مزدور بے روزگار ہو ئے پاکستان ملکی اور بیرو نی قر ضو ںکا شکار ہو ا ۔انھوں نے کہا ملک میں صرف بارہ فیصدورکروں پر مزدور وں کے قوانین کا اطلاق ہو تا ہے باقی تمام لو گ کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز کے طو ر پر کام کر رہے ہیں اور اٹھا سی فیصد مزدور کھیت ،کار خا نے ،منڈی،گھر ،بازار اور بھٹے پر کام کر تا ہے ،اُس کے لیے کو ئی لیبر قوانین مو جو د نہیںان بیگار کیمپو ں میں کام کر نے والوں کی تعداد چھ کروڑ بنتی ہے ۔انھوں نے کہا کہ ہم حکو مت سے مطا لبہ کر تے ہیں کہ سیلز ٹیکس کو ختم کیا جا ئے ،نجکاری کی پالیسی کو تر ک کیا جا ئے اور معاشرے کے مر اعات یا فتہ طبقے کو ٹیکس نیٹ میں لا یا جا ئے ۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے نائب امیر جماعتِ اسلامی پاکستان میاں محمد اسلم نے کہا کہ حکمران بجٹ کو گورکھ دھندہ بناکر پیش کرتے ہیں، حالانکہ یہ ایک سادہ سی چیزہے۔ حکمران نہیں چاہتے کہ عوام کو پتہ چلے کہ حکومت کیا کررہی ہے۔ انہوں نے کہا پوسٹ بجٹ بریفنگ میں سوال گندم ہوتا ہے اوروزیر خزانہ اسکا جواب چنا دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار صاحب بجٹ پیش کرنے سے پہلے مسلم لیگ ن کے منشور کو پڑھ لیںتا کہ انہیں پتہ چلے کہ انہوں نے عوام سے کیا وعدے کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا خون نچوڑا جاتا ہے۔ بجٹ کو ایک کلیریکل ڈاکومنٹ بنالیا گیا ہے جس کو پیش کر نے کے بعد کشکول اٹھاکر پھرتے ہیں ۔انھوں نے کہاحکمرانوں کی ترجیح صرف ٹیکس کولیکشن ہے۔عوام کو ریلیف دینا ان کے ایجنڈے میں شامل نہیں ۔

لیاقت بلو چ

مزید : علاقائی